ہے جرم ِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
ہے جرم ِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

روزانہ کی تدبیر روزانہ نتائج نہیں دے رہی ہے کیونکہ ہر تدبیرکے پیچھے تقدیر کی موافقت نظر نہیں آرہی ہے اسلئے کہ ....
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
ضعیفی اور بے بسی جب تقدیر کا نام لیکر قوموں پر مسلط ہوتی ہے تو پھر ہر تدبیر ناکامی کو اپنا ہمنوا بنالیتی ہے لیکن سب سے بری اور پست ترین ضعف و کمزوری وہ ہوتی ہے جو نیت پر اپنا قبضہ جمالے۔
میرے وطن کے بہت سے اہم ذمہ داروں کی نیت اور شعور پر لالچ اور خوف کے آسیب نے ٹڈی دل کی طرح حملہ کردیا ہے۔انہوں نے اپنی نیت اور شعور کو برائے فروخت کردیا ہے۔ایک دوسرے کی خریدو فروخت کا بازاری دھندہ اتنے عروج پر آگیا ہے کہ عصمت ملت کی چادرِ غیرت بھی چوراہے میں برائے فروخت رکھ دی گئی ہے ایسے عالم میں ایمان کی پونجی کی حفاظت بہت مشکل ہوجاتی ہے۔یہودیوں کی وہ گہری سازش جس کا نتیجہ بہر حال اسلام کا زوال ہے، ابھی تک پوری قوت سے جاری ہے۔
یہ افغانستان کا قضیہ بالآخر کینسر کی جڑوں کی طرح ملت پاکستانیہ کے بدن میں اس طرح منتقل ہوا کہ اب مرض کا مرکز بھی پاکستان میں منتقل ہوگیا ہے اور اس مرکزی مرض نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اب پاکستان کا کوئی صوبہ بدامنی، دہشت گردی اور خرابی¿ حالات سے محفوظ نہیں ہے۔پاکستان کا کوئی قومی ادارہ یہودی کی سازش کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔پاکستان کے کارگر اور متحرک ذہن اسکی سازش کے یا تو آلہ کار ہیں یا پھر اسکی سازش کا شکار ہیں۔پاکستانی فوج اس سازش کا سب سے بڑا ہدف ہے۔پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی اسی سازش کے جال میں جکڑ دیا گیا ہے اور ہر طبقہ و جماعت اپنے اپنے مقام پر اپنی سوچ کے مطابق متحرک اور سرگرم ہے لیکن اس کاوش کا نتیجہ دشمن کی چال کے مطابق ہی برآمد ہوتا ہے۔آج کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیجئے تو ہر رفوگر چادرِ وجود کا ہر تار کھینچ کھینچ کر اپنی کاریگری کا اظہار کر رہا ہے۔ امت مسلمہ پر جب بھی بیداری کی کوئی لہر آتی ہے تو عالم کفر بھی شیطانی قوتوں کا سہارا لیکر ہمارے بال و پر کاٹنے کی نئی تدبیر کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتوں میں توہین رسالت کے سلسلے میں پورے عالم اسلام میں ایک بھرپور لہر نے مسلمانانِ عالم کو بیدار کیا۔یکجہتی اور قومی و ملی غیرت کے آثار نمایاں ہوئے خود حکومتوں نے اس حقیقت کا احساس کیا ۔ حتیٰ کہ رندانِ بلا خیز بھی جو اس تلاطمِ محبت میں نعرہ¿ ایمان پکار کر شامل ہوئے۔جذبات محبت نے ایک قافلہ¿ عشاق ترتیب دیا اور منزلوں کی قربت نظر آنے لگی۔ باطل کے ایوانو ں میں لرزہ طاری ہوا۔ مسلمانوں میں اتفاق اور پیار کی کہانی شروع ہوگئی۔ بین المسالک ہم آہنگی کی فضا ہموار ہونے لگی۔ فرقہ پرستی کے جھکڑ سکون میں بدلے اور اہل ایمان مائل بہ تدبیر ہورہے تھے کہ اچانک ایک خبر پیدا کردی گئی کہ ہر طرف اور ہرکونے سے ملالہ پورے قومی پریس، الیکٹرونک میڈیا اور سیاستدانو ں کی زبان پر حملہ آور ہوگیا۔ کرایے کے قوم دشمن دانشور اہل قلم اپنے اندر کے دین دشمن بغض و عناد کے اسلحہ سے مسلح ہوکر میدان میں اتر آئے اور پھر ان کے نزدیک نہ حرم کی حرمت رہی نہ اسلام کی عظمت رہی اور نہ ہی حقیقت بیانی کی وقعت رہی۔ عرف عام میں اور آج کی بے لگام زبان میں مولوی کا کندھا ایک کارآمد مورچہ ہے۔ بے عمل مولوی کا تذکرہ کرتے کرتے اس کے کاندھے پر اعتراض و گالی کا اسلحہ لاد دیجئے اور پھر اس کاندھے سے اسلام اور شعائر اسلام اور قائدین اسلام ہر طنز و تبرا کے تیر آسانی سے چلائے جاسکتے ہیں اور پھر راستہ صاف کرتے کرتے براہ راست اسلام اور بانی اسلام کی ذات اقدس پر حملہ آور ہونے کا اجازت نامہ حاصل کرنے کی مذموم کوشش۔
 ایک طویل سلسلہ اندر سے اس بے ڈھب طریقے سے جاری رہا تاکہ قوم کے اذہان کو منتشر کردیا جا ئے اور مسلمانو ں میں بیداری کی اس تحریک کو دبا دیاجائے۔ عوام الناس ایسے مسلمان نما کافروں کی تحریروں پر توجہ نہیں دیتے۔ وہ تو اخبارا ت کی شہ سرخیوں تک محدود رہتے ہیں۔ اب قوتوں کو اپنی سازش کا داخلی حربہ ناکافی محسوس ہوا تو انہوں نے نئی چال چلیNGO کے دائرے کو آگے بڑھایا اور اپنے آپ ہی یعنی ریڈ واٹرز کو متحرک کردیا کہ مسلمان بیٹی کے نام پر بہت غیور ہوتے ہیںاس لئے ایک نیا جال بیٹی کی غیرت کے نام پر تیار کرو۔ یاد رہے پانی تو اپنی حقیقت میں سادہ ہوتا ہے۔باقی رنگ یہودیوں کے اپنے ملائے ہوئے۔ بلیک واٹر پھر دوسری صف میں Ped Water اور پھر تیسری صورت میں ملتا جلتا واٹر Mix Waterبھی ان کا اپنا ہے اسلئے ہر قاتل کے ہاتھ دستانے ہیں اور شکل میں بھی بہت ہی زیادہ مماثلت اور مطابقت ہے‘ اسی لئے داتا صاحب کے مزار اقدس پر حملہ آور کو سبز پگڑی پہنا کر بھیجا گیا تھا۔داڑھی اور پگڑی کی ناموس کو بھی انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور اب قوم کی بیٹی کی غیرت کا ترانہ بھی برطانیہ میں گایاجاتا ہے۔ملالہ زخمی ہوگئی تو برطانیہ کے گرجا گھروں میں اس کیلئے دعا کا اہتمام ہوا اور پورے یورپ میں اسکے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا۔ بلاشبہ یہ ایک اچھی بات ہے اور قابل تعریف ہے لیکن ایک پاکستانی ملالہ کیلئے یورپ کا اتنا اظہار ملال کہ ہمارے ارباب اقتدار اور احباب قلم و زبان کو نیند نہیں آرہی ڈرون حملوں میں روزانہ کتنی ملالائیں اپنی ماﺅں کی گود میں دودھ پیتے پیتے ہمیشہ کیلئے سو جاتی ہیں۔ ڈرون حملوں میں انسان مرتے ہیں۔ جذبات مرتے ہیں۔ غیرت مند مسلمان مرتے ہیں۔ کبھی انجانے پاکستانی مظلوم و معصوم بچوں کیلئے قوم کی بیٹی اور قوم کے بیٹے کا لفظ کسی بھی کاروباری حکمران رئیس کے منہ سے برآمد ہوا؟
وقت کی لہروں پر سفر کرنےوالے ابن الوقت حکمرانو! دانشور اور ٹکے سر خریدے ہوئے سیاستدانو! یاد رکھو ایمان اور جان کو اولیت ہے اور فوقیت ہے تعلیم اور تعلیم پروری اچھی بات ہے۔قوم کی ہر ملالہ لائق احترام ہے لیکن اس سے بڑھ کر ماﺅں کی گود میں پرورش پاتے وہ معصوم پھول ہیں جن کو مسموم فضاﺅں میں کملا دیاجاتا اور اس سے بڑھ کر، سب سے بڑھ کر پوری کائنات سے بڑھ کر،ماں کی گود سے بڑھ کر اور اپنی جان سے بڑھ کر اور ایمان سے بڑھ کر محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ کی ناموس اقدس ہے جو خدائے وحدہ لا شریک کی نظر میں اہم ترین ہے۔اس سرکار کی ذرا سی انجانی بے ادبی سے بھی وقار انسانیت چھین لیا جاتا ہے‘ اس لئے کفر سے ڈرنا چھوڑ دو ورنہ تمہاری دستار پر انکے ہاتھ آرہے ہیں کیونکہ....ع
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات