پاکستان بھارت تعلقات

پاکستان بھارت تعلقات

امریکی دفتر خارجہ کی نمائندہ وکٹوریہ نولینڈ (Nuland) نے 4اکتوبر کو واشنگٹن میں صحافیوں کوبریف کرتے ہوئے کہا۔
”امریکہ ہندوستان، پاکستان میں دو طرفہ تجارت کے سلسلے میں غیر معمولی اور غیر متوقع کامیابی پر بہت خوش ہے۔ ہم ویزا پالیسی کو آسان بنانے کے قدم کو بھی خوش آئند سمجھتے ہیں۔ اس سے دونوں ممالک میں پُرامن فضا جنم لے گی جس سے فائدہ اٹھا کر کشمیر جیسے پیچیدہ مسائل کاحل ڈھونڈنے میں آسانی ہو گی“۔
انٹرنیشنل ہیئر لڈٹریبیون نے اپنے 7اکتوبر 2012ءکے اداریئے میں بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کے اجراءاور ویزوںکے حصول میں آسانی کو ایک ٹھیک سمت میں درست قدم کہا۔ اخبار کے خیال میں پاکستان میں دو مکتبہ فکر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ سویلین دماغ یہ کہتا ہے کہ پہلے حالات کو پر امن بنایا جائے اسکے بعد معاشی رشتے استوار ہوں اورپھر کشمیر کے معاملے کی طرف بڑھا جائے۔ اخبار کےمطابق فوجی سوچ جو سکیورٹی معاملات اور بڑے مسائل کو پہلے حل کرنے کی بات کرتی ہے وہ درست نہیں۔ اخبار کے خیال میں پاکستان فوج کے افغانستان سے متعلق سٹر ٹیجک Depth والے تصور نے پاکستان کے افغانستان میں مفادات کو نقصان پہنچایا چونکہ ہمارے اس رویئے سے خطے کے دوسرے ممالک بھی افغانستان میں دلچسپی لینے لگے جس سے مسائل مزید گھمبیر ہو ئے۔
قارئین میرے خیال میں مسئلہ سول یا فوجی سوچ کا نہیں ،سیدھی سادی بات یہ ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے، سیاچن میں ننگی جارحیت کے ارتکاب، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، دریاﺅں کا پانی روک کر پاکستان کے معاشی استحصال کے بعد اور بلوچستان کے اندر مداخلت کے واضح ثبوت کی موجودگی میں دل کے اندر نفرتوں اور کدورتوں کو اٹھائے اگر ہم کسی سے بظاہر دوستی بھی کر لیں تو کیا یہ تعلقات دیر پا ثابت ہو سکیں گے؟ خصوصاً اگر امن کی آشا کا جھنڈا بلند کرنےوالوں نے جدید ہتھیاروں سے لیس تقریباًدس لاکھ کی فوج بھی ہماری سرحد پر کھڑی کی ہوئی ہو تو کیا اس کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ برطانیہ اور آئرلینڈ نے پہلے اپنے مسائل کے حل سے متعلق اصولی فیصلے کئے اس کے بعد دیر پا امن قائم ہو گیا۔
 مشرقی اور مغربی جرمنی نے اپنے سارے اختلافات کو پہلے ختم کیا پھر ایک دوسرے کو گلے لگا لیا‘ اس لئے رویﺅ ں میں رعونت ، ذہن میں بغض اور بغل میں کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین والی چھڑی رکھ کر منہ سے رام رام کہنے والوںپر اعتبار کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال کا ایک بہت خوبصورت شعر پیشِ خدمت ہے ....
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دلِ و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
عسکری ماہرین اور کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ حساس نوعیت کے تنازعوں کی موجودگی میں اپنے حریف کے بظاہر پاکیزہ ارادوں اور بلند بانگ دعوﺅں کی بجائے اسکی آپکو نقصان پہنچانے والی اصلی عسکری صلاحیت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ۔ سپین کے قومی دن کے موقعہ پر میری ملاقات ہندوستان کے سفیر سے ہو گئی تو وہ مجھے بتانے لگے کہ ہندوستان پاکستا ن میں تجارت کا معاہدہ ہو چکا ہے ۔ ا ب ویزا کی پالیسی کو بھی زیادہ بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ اس سے پاک و ہند تعلقات بہتر ہو جائےنگے ۔اُنہوں نے یہ گلہ بھی کیا کہ پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے لوگ ابھی تک ہندوستان کے نیشنل ڈیفنس کالج کے اساتذہ اور طلباءسے براہ راست روابط پر تیار نہیں۔
 میں نے عرض کیا کہ سفیر صاحب آپ لکھ کر لے لیں کہ ان اقدامات سے شائد چند تاجر بھائیوں کو کچھ فوائد تو ضرور ملیں گے لیکن ہم پاکستان اور ہندوستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے والے خواب کی تعبیر نہیں دیکھ سکیں گے۔سفیر نے فوراً پوچھا، تو پھر اس بڑے مقصد کے حصول کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہےے؟
 میں نے عرض کیا کہ آپ سیاچن کے پاکستانی علاقے سے اپنی فوج کو1984ءکی پوزیشن پر لے جانے کا صرف اعلان کرکے دیکھیں ، نفرتوں کے بادل چھٹنے شروع ہو جائینگے، اُن کا فوری جواب یہ تھا کہ یہ بات اُن کی فوجی قیادت کو منظور نہیں ۔
میری یہ مخلصانہ رائے ہے کہ ویزہ سہولتیں بحال اور تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ساتھ ساتھ اگر ہندوستان مقبوضہ کشمیر سے اپنی افواج کے انخلاءکا ٹائم ٹیبل بھی دے دے تو پاک و ہند مراسم تیزی سے اور بہتری کی طرف بڑھیں گے‘ اسکے فوراً بعد جہاں ہندوستان پاکستان کے باہمی تجارتی معاہدے ہوں ،وہاں ساتھ ہی مغربی دریاﺅں کے پانی پر پاکستان کے مکمل حق کو تسلیم کرنے کا ذکر بھی ہو اور دونوں ممالک خوش اسلوبی سے ان معاملات کو بھی نمٹا لیں۔
 اسکے بعد کشمیر کے مسئلے کی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کی بات ہو اور ساتھ بے شک ہندوستان پاکستان سے گذر کر وسطی ایشائی ریاستوں سے تجارت کرنے کیلئے زمینی اور ہوائی سہولیات کی فراہمی کے معاہدے کیلئے بھی اپنی تجاویز پاکستانی حکومت کے آگے رکھے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا توا من کی آشا واقعی امن کا تماشہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ سچی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور غزہ کی پٹی آج دنیا کی سب سے بڑی جیلیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رہول گاندھی یہ تو کہتے ہیں کہ میرا تعلق کشمیری فیملی سے ہے لیکن وہ کشمیر میں آکر انتخاب لڑنے کا خواب تک بھی نہیں دیکھ سکتے۔10اکتوبر2012ءکو نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جموں اور کشمیر کیلئے بنائینگے Contact Groupکی ایک کانفرنس ہوئی جس میں ہماری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، میر واعظ عمر فاروق اور آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب کے علاوہ اوآئی سی کے سیکرٹری جنرل نے بھی شرکت کی ۔ اس کانفرنس میں میر واعظ عمر فاروق نے کہا:۔
" We urge the international community to investigate the mass graves in Indian Kashmir"
یعنی” ہم بین الاقوامی برادی سے استداءکرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کے مسئلے کی تحقیق کروائی جائے۔“ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کے انسانی حقوق نہیں؟ میر واعظ نے کہا:۔
"Repeal the black laws in indian kashmir, such as Armed forces special power act"
یعنی مقبوضہ کشمیر کی سات لاکھ فوج کو کشمیریوں پر مسلط کرکے اُن کی افواج کیلئے جو خاص پاور ایکٹ کا کالا قانون بنایا گیا ہے اس کو بھی فوراً ختم کیا جائے۔ ٍقارئین۔ ہمارا ایمان ہے کہ جنوبی ایشیاءکے اس خطے میں جہاں دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ بھوک اور افلاس کی چکی میں پس رہا ہے امن بہت ضروری ہے۔ لیکن مذکورہ بالا بہت ہی سنجیدہ انسانی حقوق کے مسائل کو کارپٹ کے نیچے چھپا کر ہم دیر پا امن حاصل نہیں کر سکتے ۔ زبانی جمع خرچ والا امن صرف ہمیں بے وقوف بنانے کیلئے ہے۔ اصل امن اس وقت آئےگا جب CBMکےسا تھ ساتھ زمینی حقائق میں بھی مثبت تبدیلیاں آتی نظر آئینگی۔ صرف دو دن قبل بھی کشمیر کے بارڈر پر جھڑپ ہوئی ہے جس میں تین مقامی لوگ لقمہ اجل بنے۔ ان مسائل کو حل کئے بغیر حالات معمول پر نہیں آ سکتے۔بنیادی مسائل کو حل کئے بغیر اگر ہم نے کاٹن، کپاس اور فرنیچر سے لدے کنٹینر موٹروے پر ہندوستان روانہ کئے یا وہاں سے کچھ سامان یہاں آیا اور ساتھ ہی اچانک سرینگر سے کسی اجتماعی قبر، بچوں کے قتل یا عورتوں سے زیادتی کی خبر آئی تو یہ کنٹینر شعلوں کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ جو کسی لحاظ سے بھی پاک وہندتعلقات بہتر کرنے میں معاون ثابت نہ ہو نگے۔
دیر پا امن کیلئے ہندوستان کو پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنا ہو گا اور اپنی افواج کے بے پناہ حجم میں کمی بھی کرنا ہو گی۔ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین کو بغل میں لئے امن کی آشا اور موسٹ فیورڈ نیشن کے خوبصورت جملوں کا ورد کرنےوالے مخلص نہیں۔ امن کی خاطر پاکستان ہر لحاظ سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہے لیکن حالات بہتر کرنے کیلئے اگر ہم نے تالی بجانی ہے تو دوسرے ہاتھ کی موجودگی ایک لازمی شرط ہے۔