دن نکلتا نظر نہیں آتا

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ
دن نکلتا نظر نہیں آتا

مجھے جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے سو فیصد اتفاق ہے کہ قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ فوج سرحدوں کی حفاظت کرے اور اگر ایوان صدر میں بیٹھ کر صدر نے سیاسی گروپ بنایا تو یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہو گی۔ مجھے اس بات سے بھی ذرہ برابر اختلاف نہیں کہ سیاستدانوں کا معیار اچھا ہو یا بُرا، سیاستدانوں کا طرز عمل معیاری ہو یا غیر معیاری، کسی صورت بھی فوج کو یہ حق یا اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ سرحدوں کو چھوڑ کر ایوان اقتدار پر آ کر قبضہ کرے۔ منتخب وزیراعظم کو کان سے پکڑ کر نہ صرف وزیراعظم ہا¶س سے نکال باہر کرے بلکہ اسے جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈال دے۔ مگر کیا سیاستدانوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ کب تک وہ جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ سوچ کے سہارے اقتدار پر قابض رہیں گے اور عوامی مفادات کو پس پشت ڈالے رہیں گے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے قومی ترجیحات اور عوامی مفادات کے تحفظ کی ساری ذمہ داریاں چیف جسٹس آف پاکستان پر ڈال دی ہیں اورخود اپنی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ملک میں لاءاینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ کراچی میں قتل و غارت، بھتہ خوری، ڈاکہ اور چوری روز کا معمول ہے۔ دس پندرہ انسانوں کو ٹارگٹ کلنگ میں روزانہ بھون دینا تو عام بات ہے۔ جناب الطاف حسین ڈوبتے ملک کو بچانے کی بات کرتے ہیں۔ شہر بے درماں کو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے مقتل بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں، خاک و خون میں تڑپتی ہوئی لاشوں کو دیکھ رہے ہیں، بھتہ خوروں کی کلاشنکوفوں کو غریب دکانداروں کی گردنوں سے چھوتا ہوا دیکھ رہے ہیں، لُٹتے ہوئے بنکوں کو دیکھ رہے ہیں، پھٹتے ہوئے بموں کے نتیجے میں ہونےوالی تباہی دیکھ رہے ہیں۔ غریبوں کی ساری زندگی کی کمائی سے خریدے ہوئے پلاٹوں پر قبضہ ہوتے دیکھ رہے ہیں اور چپ ہیں وہ کیوں نہیں وارننگ دیتے کہ ایک ہفتے کا وقت دیتا ہوں اور اسکے بعد کراچی کو امن کا گہوارہ ہونا چاہئے، بھائی چارے کی مثال ہونا چاہئے، اچھی حکمرانی کی علامت ہونا چاہئے، دکھ درد بانٹنے کی تصویر ہونا چاہئے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے اور ایسا کچھ کرنے پر آمادہ بھی دکھائی نہیں دیتے۔ اللہ جانے وہ ایسا کیوں نہیں کرتے۔ وہاں کے بارے میں تڑپتا ہے، فکرمند ہوتا ہے، تشویش میں مبتلا ہوتا ہے تو چیف جسٹس ہوتا ہے وہ کراچی میں جا بیٹھتا ہے۔ حالات کی تہہ میں اترنے کی سعی کرتا ہے۔ کچھ فیصلے کرتا ہے، کچھ اپیلیں کرتا ہے، کچھ لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں محسوس کرنے اور انہیں نبھانے کی تلقین کرتا ہے اور بالآخر ایک بوجھل دل کے ساتھ اسلام آباد لوٹ آتا ہے۔
کبھی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کوئٹہ جا بیٹھتا ہے۔ وہاں ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے والوں کے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ذمہ داروں میں حکومت ہو یا خفیہ ایجنسیاں وہ ایک ایک کا نام لے کر انہیں پکارتا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں حاضر ہونے کا حکمنامہ ارسال کرتا ہے۔ لاپتہ ہو جانے والوں کا پتہ پوچھتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ جو حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہ کر سکے اس حکومت کو حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔ اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں چیف جسٹس یہ بھی کہہ ڈالتا ہے کہ بلوچستان کی حکومت مکمل طور پر حق حکمرانی سے محروم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود یہ حکومت مناصب سے چمٹی ہوئی ہے اور وفاقی حکومت یا صدر اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ صوبہ خیبر پی کے اور پنجاب میں بھی امن و امان کی صورتحال بہت دگرگوں ہے۔
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کےلئے ملک کو امریکی جنگ کی آگ میں جھونک دیا تھا اس کے نتیجے میں وطن عزیز کو دہشت گردی، خودکش اور ڈرون حملوں کا تحفہ ملا۔ دہشت گرد اور امریکہ مل کر بیچارے عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ ہمارے حکمران پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر ڈرون حملوں کو روکنے کےلئے مطالبات کر رہے ہیں۔ متفقہ قراردادیں منظور کی جاتی ہیں جن کو امریکہ پرکاہ کی حیثیت بھی دینے کو تیار نہیں۔ ڈرون حملوں کی صورت میں امریکہ ہماری حاکمیت اعلیٰ کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔
سیاست دان اپنے کھیل تماشے میں مگن ہیں بلکہ ڈوب رہا ہے۔ بااثر لوگ اربوں کی گیس چوری کرتے ہیں اور کرے کوئی اور بھرے کوئی کے مصداق بااثر ڈاکو¶ں کی چوری غریب عوام کی جیبوں سے بہ جبر نکلوائی جاتی ہے۔ 9 ارب کی گیس بڑے لوگوں نے چوری کی مگر اس کی ادائیگی عوام نے کی۔ جتنی گیس یا بجلی چوری ہوتی ہے اس کو عوام کے بلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ گیس، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو یہ سوچے بغیر کہ ان نرخوں سے بے حال عوام اب تباہ حال ہو جائینگے دام بڑھا دئیے جاتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل زیادہ سے زیادہ تیس پینتیس روپے فی لیٹر حاصل کیا جاتا ہے مگر اسے فروخت سو روپے فی لیٹر کیا جاتا ہے۔ گیس پر فی کلو گرام لاگت 17 روپے آتی ہے اور اسے 94 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ مہنگائی اتنی ہے کہ غریب تو رہا ایک طرف عام متوسط شخص بھی بہت پریشان ہے۔ بندہ¿ مزدور کے ہی نہیں بندہ¿ سفید پوش کے اوقات بھی بہت تلخ ہیں۔ ہم کسی حال میں بھی باوردی سیاست کے حق میں نہیں مگر سیاستدانوں اور حکمرانوں کو خدا کا خوف ہے نہ عوام کا۔ وہ کیوں نہیں مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کر لیتے کہ بس اب بہت ہو چکا۔ اب ہمیں اپنی لوٹ مار کو روک کر سوچنا چاہئے کہ امریکہ کے ہاتھوں قدم قدم پر پامال ہوتی ہوئی اپنی خود مختاری کو کیسے بحال کرانا ہے۔ امن و امان کی انتہائی مخدوش صورتحال کو کیسے درست کرنا ہے۔ لوگ ایک تہائی کہتے ہیں مگر ماہرین اقتصادیات کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کی دو تہائی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ سیاست دانوں کو معیشت کے ڈوبتے ہوئے سفینے کو بچانے کی طرف فکرمندی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ہمارے سارے مسائل ہی بہت تشویشناک اور کربناک ہیں تاہم میرے نزدیک اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کنفیوژن کا مسئلہ ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کا واقعہ انتہائی دلخراش اور بہت ہی تکلیف دہ ہے تاہم اس واقعے کی آڑ میں شمالی وزیرستان پر فوجی آپریشن کی خبریں آنے لگیں جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر بعض ایسی ناگفتی کہانی بھی بیان ہو رہی ہیں جن کا تذکرہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر نہیں ہوا کہ جن سے کنفیوژن کا گرد و غبار اڑتا ہر طرف جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ حکمرانوں نے ملالہ کو اور اس کا ایشو عالمی برادری کے حوالے کر دیا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے پھر ”ڈو مور“ کا راگ الاپا ہے۔ ادھر حکومت قومی اسمبلی سے ایسی قرارداد منظور کروانے کے لئے ہاتھ پا¶ں مار رہی ہے جس سے شمالی وزیرستان کے بارے میں امریکی احکامات کی تعمیل کا راستہ ہموار ہو سکے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ لگتا یوں ہے کہ حکمران شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کر کے انتخابات ملتوی کروانا چاہتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستانی قوم کے اجتماعی شعور نے ملالہ یوسف زئی پر وحشیانہ و قاتلانہ حملے کی بھرپور مذمت کو الگ اور شمالی وزیرستان پر فوجی آپریشن کو الگ ایشو کے طور پر لیا ہے اور کسی طرح سے بھی شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کی۔ صرف ایک نہیں پاکستان میں ہرطرف کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے اور وطن عزیز بین الاقوامی سازشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ کوئی آگے بڑھ کر اس کنفیوژن کو دور کرنے پر تیار نہیں۔ کوئی سیاستدان پورا کیا آدھا سچ بھی بولنے کو تیار نہیں۔ ایسے مواقع پر شاعر ہی آگے بڑھ کر عوامی ترجمانی کا فریضہ ادا کرتا ہے اور پورا سچ بول دیتا ہے۔ یہی سچ شعیب بن عزیز کے اس شعر سے عیاں ہے
رات جاتی دکھائی دیتی ہے
دن نکلتا نظر نہیں آتا