جماعتِ اسلامی ۔۔۔ایں چہ بوالعجبی است !

کالم نگار  |  ساجد حسین ملک

پاکستان ٹیلی وژن کے ایک ٹاک شو میں جماعت ِ اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور مرکزی ترجمان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اپنی جماعت کے عالی مرتبت امیر سید منور حسن کے ایک حالیہ’’فتوے‘‘کی تائید میں جس طرح کی توضیحات پیش کر رہے تھے اور محترمی سید منور حسن کے ایک واضح اور دو ٹوک موقف کو الفاظ کے ہیر پھیر اور تاویلات کی گھمن گھیریوں میں چھپانے کی کوشش کر رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ جب کوئی ایک غلط موقف پر اڑ کر اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر ایسے موقف کے حق میں دلائل دیتا ہے جس کو وہ خود بھی حق بجانب نہیں سمجھتا تو پھر اُسے ایسے ہی افلاس ِ فکر و نظر اور قحط دلائل و براہین کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے اُس دن ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو کرنا پڑ رہا تھا۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ میرے لیے محترم ہیں اللہ کریم نے اُن کو ذہانت، فطانت ، زبان و بیان اور دل و دماغ کی اعلیٰ صلاحیتیں عطا کر رکھی ہیں لیکن اُن کا امیر ِ جماعت اسلامی سید منور حسن کے حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے پاک فوج کے جانبازوں کو شہید نہ ماننے بلکہ ہلاک کہنے کے فتوے کے بارے میں یہ استدلال کوئی کیسے مان سکتا ہے کہ حکیم اللہ محسود کا ذہن تبدیل ہو چکا تھا وہ امن کے قیام کیلئے مذاکرات پر آمادہ تھا اور اس ضمن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ صلاح مشوروں میں مصروف تھا کہ اُسے امریکیوں نے اپنے ڈرون کا نشانہ بنایا لہٰذا وہ شہید ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سید منور حسن نے اینکر پرسن کے سوال کے جواب میں واضح لفظوں میں حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا اور مصروفِ جنگ پاکستانی فوجیوں کے بارے میں پوری صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا’’اس جنگ میں مرنے والا کوئی امریکی شہید نہیں ہے۔۔۔ا مریکی تو ہر حال ذلت کی موت مرے گا اُس کی مدد کرنے، اُسکی ہمنوائی کرنے، اُسے انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرنے والا کیسے شہید کہلائے گا؟ اگر امریکی شہید نہیں تو اُس کا ساتھ دینے والا بھی شہید نہیں کیونکہ دونوں کے مقاصد ایک ہیں‘‘۔
جماعتِ اسلامی کے قائدین کا احترام اور جماعتِ اسلامی سے تعلق ِ خاطر اپنی جگہ لیکن دُکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جماعتِ اسلامی کبھی بھی سوادِ اعظم (عوام کی اکثریت) کے جذبات و احساسات کا ساتھ دینے میں کامیاب نہیں رہی۔ جماعت ہمیشہ غیر ضروری معاملات یعنی نان ایشوز کی سیاست کرتی رہی ہے ۔ اب حکیم اللہ محسود کے بارے میں امیرِ جماعت اسلامی کا شہید ہونے اور پاکستانی فوجیوں کو شہید نہ قرار دینے کا فتویٰ بھی اسی طرح کا ایک معاملہ بن گیا ہے۔ پاکستان میں بفضلِ تعالیٰ اٹھارہ کروڑ لوگ بستے ہیں ان میں علمائے کرام، مفتیانِ عظام ، مشائخِ عظام اور دینی اور سیاسی رہنمائوں کی کمی نہیں ان میں سے کئی ایسے ہیں جنہیں طالبان سے تعلقِ خاطر بھی ہے لیکن اس کے باوجود اِن میں سے کسی نے حکیم اللہ محسود کی موت کو شہادت قرار دینے جیسے نزاعی معاملے میں اس طرح کی بات نہیں کی ہے یا ایسا فتویٰ صادرنہیں کیا  جیسا سید منور حسن صاحب نے بہ صراحت ارشاد فرمایا۔ مولانا فضل الرحمن کا ’’کتے ‘‘والا بیان ضرور آیا لیکن اُن کے جماعتی قائدین یا اُن کے متوسلین اور معتقدین اس معاملے میں خاموش ہی رہے ۔ دوسری طرف سید منور حسن کا فتوی ہی زبانِ زدِ خاص و عام ہی نہیں ہوا بلکہ جماعتی قائدین نے اپنی شوریٰ کے اجلاس کے بعد اس حوالے سے جو موقف اختیا رکیا ہے اُس کے خلا ف بھی پورے ملک میں شور مچا ہوا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے قائدین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہونگے کہ جماعتِ اسلامی تاریخی طور پر پاکستانی فوج کی ایک طرح حلیف چلی آ رہی ہے۔ جہاد کا نعرہ پاکستانی فوج اور جماعت ِ اسلامی میں ایک مشترک قدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جماعتِ اسلامی جہادِ افغانستان اور کشمیر کی تحریکِ آزادی اور جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں میں عملی طور پر شریک رہی ہے اور بعض جہادی تنظیموں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے۔اس سیاق و سباق میں جماعتِ اسلامی کے امیر سید منور حسن کے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دینے اور پاکستانی فوجیوں کی شہادت کو تسلیم نہ کرنے کے فتوے کو ایک طرح کی بے موقع، بے مقصد اور غیر ضروری راگنی ہی قرار ہی دیا جا سکتا ہے۔ تاہم عام خیال یہی تھا کہ جماعتِ اسلامی اپنی شوریٰ کے اجلاس میں اس بیان سے لاتعلقی اختیار کر لے گی لیکن جماعتی قائدین بالخصوص جماعت کے سیکریٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ نے جو موقف اختیار کیا ہے اور سید منور حسن کے فتوے کو ماضی کے اُن کے پالیسی بیانات اور جماعتی موقف کے لبادوں میں چھپانے کی کوشش کی ہے وہ عوامی جذبات و احساسات کی نفی کرنے اور عوام کے مائنڈ سیٹ کے مطابق اپنے آپ کو نہ ڈھالنے کی ایک اور مثال ہی سمجھی جا سکتی ہے یا اسے جماعتی قائدین کی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جناب لیاقت بلوچ کا یہ کہنا کہ فوج کو سیاسی اور جمہوری معاملات میں براہِ راست مداخلت کا حق نہیں اصولی طور پر درست ہو گا لیکن ایک ایسی فوج جس کا موٹو ہی ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے اور جس کے جذبہ جہاد کے آپ خود بھی معترف اور خوشہ چیں رہے ہیںاب اُس کے ہزاروں جانبازوں کی دفاعِ وطن کے لئے دی جانے والی قربانیوں کی نفی کرتے ہوئے آپ اُنھیں ایک طرح کی امریکہ کے مقاصد کیلئے لڑنے والے فوجی یا باالفاظِ دیگر امریکہ کے کرائے دار فوجی قرار دے دیں تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فوج کی قیادت خاموش رہے اور اس پر کوئی اعتراض نہ کرے۔