آب و ہوا اور فصلوں کی کاشت

کالم نگار  |  ملک حبیب اللہ بھٹہ

 ملک کے زرعی ماحول کو تبدیل کرنے کی ابتداء ملک میں پھیلے ہوئے قدیم شجرِمایہ ناز شیشم جسکی لکڑی کا شمار دنیا کی خوبصورت اور پائیدار ترین لکڑیوں میں ہوتا ہے اسکے جنگلات تلف کرنے سے ہوئی۔ رئوسا کے ڈیرے تو محلوں میں سجتے ہی تھے لیکن غریب اور متوسط درجے کے عوام کے ڈیرے ہمیشہ سایہ دار درختوں کی ٹھنڈی چھائوں تلے سجتے رہے۔ ان میں شیشم کا درخت سر فہرست رہا۔ یہ درخت ہماری ثقافتی ، تہذیبی اور مجلسی زندگی کو پُررونق بنانے کا ذریعہ رہا ۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہی قدیم اور عظیم ورثے کو پہلے اپنے ہاتھوں سے تلف کیا جو بچ گیا انہیں غیر موزوں ماحول کی نذر کردیا گیا۔ ہمارے زرعی سائنسدانوں نے اسے زندہ رکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔اگر ہم اپنے قیمتی ورثے کو برباد ہونے سے بچا سکتے تو آج جسطرح ذرائع امدورفت میں انقلابی تبدیلیوں نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ نایاب لعل و جواہر سے بھی قیمتی انمول ہاتھوں والے کشمیری، چنیوٹی، گجراتی، ملتانی، ڈیروی اور سندھی چوب تراشوں کی صناعی اور کاریگری سے بنائے گئے فرنیچر کے نادر نمونے عالمی منڈی میں نہ صرف اپنے تخلیقی جوہر منواکرمنفرد مقام حاصل کرتے بلکہ ملک کے لئے کمائے گئے زر مبادلہ سے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی غلامی سے بھی آزاد کرا دیتے۔
حیرت اس بات پر ہے کہ شیشم کے بدلے سفیدہ اور پاپولر کے جنگلات لگائے گئے۔ جب پاپولر کے جنگلات لگائے جا رہے تھے تو روس میں اسے تلف کیا جا رہا تھا۔ محکمہ جنگلات نے کاشتکاروں کو ترغیب دی کہ وہ ایک ایکڑ رقبہ پر 220 درخت لگا کر دولت حاصل کریں اسی طرح محکمہ ماحولیات نے بینکوں کو ذمہ داری سونپی کہ وہ شاہرائوں پر سفیدہ اور پاپولر لگوائیں۔ نہ تو محکمہ جنگلات اور نہ ہی محکمہ ماحولیات کے ماہرین نے قوم کو بتایا کہ یہ درخت چوبیس گھنٹوں میں 4 1/2 گیلن پانی فضا میں چھوڑتے ہیں جس سے فضا میں نمی پیدا ہو گی۔پاکستان کے میدانی علاقے جنکی آب و ہوا گرم خشک ہے اسے گرم مرطوب بنا دینگے جو کپاس جیسی نقد آور زرمبادلہ کمانے والی فصل کے دشمن کیڑوں کی افزائش کے لئے ساز گار ماحول میسر کر کے ایک طرف کیڑے مار ادویات کا بل کئی گنا بڑھا دینگے دوسری طرف کپاس کی پیداوار ی صلاحیت بھی متاثر کرینگے۔
کپاس پاکستان کی ایک اہم ترین نقدآور ریشہ دار اور ملکی معیشت میں بنیادی کردار کی حامل فصل ہے جو کپڑے اور گھی ملوں کو نہ صرف خام مال مہیا کرتی ہے بلکہ ملک کی بیشتر آبادی کو روزگار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک طر ف بھارتی آبی جارحیت سے پاکستان پانی کی ضروری فراہمی کی مشکلات سے گزر رہا ہے جسکی وجہ سے بارہ ماہ چلنے والی نہریں وارہ بندی سے چلائی جا رہی ہیں تو دوسری طرف کماد کی فصل اور وہ بھی کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں کاشت کی جا رہی ہے جو بارہ سے سولہ پانیوں سے تیار ہوتی ہے جس سے فضا میں نمی کا پھیلنا قدرتی امر ہے۔یہ کپاس کیلئے سازگار ماحول کو جنت سے جہنم میں بدلتی جا رہی ہے جو کپاس دشمن کیڑوں کی افزائش کیلئے ماحول انتہائی سازگار بنا رہی ہے۔ کپاس کو ان نقصان دہ کیڑوں سے بچانے کیلئے دوگنے تگنے سپرے کرنے پڑتے ہیں۔ یہ نقصان اربوں ڈالروں تک جا پہنچتا ہے۔اس سلسلے میں بھارت نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پابند کیا کہ وہ کیڑے مار ادویات کے پلانٹ پانچ سالوں میں بھارت میں لگائیں ورنہ انکی کیڑے مار ادویات کی امپورٹ بند کر دی جائے گی۔اس طرح پانچ سال کے اندر بھارت میں کیڑے مار ادویات کے پلانٹ لگ گئے۔کاش ہمارے ارباب اختیار کیڑے مار ادویات کے پلانٹ لگانے کا الٹی میٹم دیکر پاکستان میں ایسے پلانٹ لگوا کر ملک و قوم کو اربوں ڈالرز کے نقصانات سے بچا سکتے۔ایسا تب ممکن تھا جب کرتا دھرتا لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مفاد اٹھانا بند کردیتے۔
شوگر انڈسٹری کا قیام اور وہ بھی کپاس کے علاقے میں کسی سازش سے کم نہیں ۔ کماد کی کاشت نے ان علاقوں میں کپاس کے لئے سازگار ماحول کو نقصان زدہ کر کے کپاس کے کاشتکاروں کو بزدل کر دیا ہے کیونکہ ایسے ماحول میں کپاس کی مطلوبہ پیداوار لینا مشکل بنا دیا گیا ہے۔جس کے نتیجے میں کپاس کے علاقے میں کاشتکار کماد کاشت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے جتنا رقبہ کپاس سے نکلے گا اس پر کماد کاشت ہو گا۔ اس میں صرف کپاس کی پیداوار میں کمی نہیں آئے گی بلکہ گندم میں بھی کمی آئیگی۔ کیونکہ جس کھیت پر کماد کاشت ہوگا اس پر کم از کم تین سے چار سال تک گندم کاشت نہیں ہو سکتی۔ کپاس کی کاشت میں کمی زرمبادلہ سے محروم کریگی جبکہ گندم کی کمی قوم کو خوراک سے محروم کردیگی۔ آبادی کا اژدھا بڑھتا جا رہا ہے ایک ٹریلر پہلے بھی چل چکا ہے۔ جب گندم کی کمی سے ملک میں گندم کے سرکاری گودام لوٹ لیے گئے تھے۔اگر گندم کی پیداوار کو نہ بڑھایا گیا تو ملک خوفناک انتشار کا شکار ہو جا ئے گا۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے انہیں یہ شعور آ چکا ہے کہ کپاس کے علاقے میں شوگر انڈسٹری کا قیام ملکی مفاد میں نہیں۔دلچسپ اور سوچنے والی بات یہ ہے کہ 98 ء میں جب چینی وافر پیدا ہوئی تو پوری دنیا میں اسقدر مہنگی چینی کاکوئی خریدار نہیں تھا۔ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت جس نے پاکستان کے وجود کو آج تک تسلیم نہیں کیا وہ پاکستانی چینی کا خریدار بن گیا۔ پاکستان میں جتنے زلزلے اور سیلاب آئے ہمسایہ ملک کبھی مدد کو نہیں پہنچا بلکہ سیلاب کو بڑھانے کا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن چینی کا خریدار کیوں بن گیا اس میں یقینا یہ بات پنہاں تھی کہ چینی کا بحران کماد کی کاشت کم کر دیگا جو پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ اس نیت سے چینی خرید کی تاکہ پاکستانی کاشتکار کماد کی کاشت میں کمی نہ کر دیں۔پاکستانی قوم کو سوچنے کے لئے کافی ہے کہ بھارت کماد کی کاشت میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتا ہے ؟
ارباب اختیار کو یہ فیصلہ کرنا پڑیگا کہ کپاس کے علاقے میں شوگر انڈسٹری کا قیام ملکی مفاد میں ہے یا نقصان میں۔ 97-99 کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بوسن روڈ ملتان کے جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے عوام سے پوچھا کہ ہے کوئی شوگر مل لگانے والا میں ابھی اسی وقت اسے شوگر مل لگانے کی اجازت دیتا ہوں لیکن چند دن بعد جب انہیں خیال آیا کہ کپاس کے علاقے میں شوگر انڈسٹری کا قیام ملکی نقصان میں ہے تو انہوں ے وہاڑی کے جلسہ عام میں عوام کو بتایا کہ میں کپاس کے علاقے میں شوگر مل لگانے کی اجازت ہر گز نہیں دونگا۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اس بات کی تحقیق کرائیں کہ کپاس کے علاقے میں شوگر ملوں کی منظوری کیوں دی گئی۔ صرف رحیم یار خان اور بہاولپور میں چھ شوگر ملوں کے لگانے سے ملک نہ صرف لاکھوں کپاس کی گانٹھوں سے محروم ہونے لگا ہے بلکہ لاکھوں ٹن گندم سے بھی ۔ امریکن تحقیق کے مطابق ان دو اضلاع کی گندم میں نشاستہ 33 فیصد ہے جبکہ دنیا میں دوسرے نمبر پر آنے والی گندم میں نشاستہ 22 فیصد ہے۔کاش ان دو اضلاع میں شوگر ملوں کی بجائے گندم کے ایسے پلانٹ لگائے جاتے جس سے گندم سے سو سے زیادہ مصنوعات تیار کی جاتیں۔ اس طرح ان دو اضلاع کی گندم پیکٹوں میں فروخت ہوتی جس سے ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایسی نایاب گندم سے آٹا تیار کر کے زیارہ تر پشاور اور کوئٹہ کس نیت سے بھیجا جاتا ہے؟ اگر کپاس کے علاقے میں کماد کی کاشت کو نہ روکا گیا تو کپاس کاشت کرنا مشکل ہو جائے گا اس طرح ملک کو ایک طرف کپاس سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ سے محروم ہونا پڑیگا دوسری طرف کپاس کی کاشت میں کمی کی وجہ سے کئی کاٹن ملیں بند ہو نگی جس سے بے روزگاری میں خوفناک اضافہ ہو گا تیسرا گندم کے بحران سے قحط کی صورتحال پیدا ہو جائیگی ۔ ان حالات سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ کپاس کے علاقوں میں کماد کی کاشت حکماً روک دی جائے۔