ہمارا استحقاق

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
ہمارا استحقاق

وزیر اعظم لیاقت علی خان قتل ہوئے یا ایوب خان نے فوجی بغاوت کی تو کون سا آسمان گر گیا، کشمیر میں جنگ کی چنگاری سلگائی گئی اور بعد میں پاکستان دو لخت ہوا تو یہی ہونا تھا، جنرل ضیا الحق نے فوجی بغاوت کی اور بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تو وہ بھی کوئی بڑی بات نہیں، جنرل ضیا الحق جہاز حادثے میں ہلاک ہوئے تو شکر ہے شہادت کا رتبہ پایا ، جنرل اسلم بیگ نے آئی ایس آئی کے ذریعے بے نظیر حکومت کو 1990ء میں الیکشن ہروائے تو عمدہ کام کیا، جنرل وحید کاکڑ کے ڈنڈے پر سپریم کورٹ سے بحال شدہ وزیر اعظم نے استعفیٰ دیا تو ایسے وزیر اعظم کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا، مرتضی بھٹو کا پولیس کے ہاتھوں قتل ہوا تو ایسی وزیرا عظم کے ایسے بھائی کا اور کیا کیاجاتا ، جنرل مشرف نے کارگل پر چڑھائی کی تو بہترین کام کیا اور پھر 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی بغاوت میں نواز شریف کو رسی سے ہاتھ باندھ کر وزیر اعظم ہاوس سے نکالا گیا تو یہی ہونا چاہیے تھا۔ نائن الیون کے بعد مشرف نے پاکستان کو امریکہ کا "ماسی دا ویڑا" بنا دیا بالکل درست کیا، 2002ء میں جو ق لیگ کے نام سے ٹیسٹ ٹیوب سیاسی جماعت بنائی گئی وہ ہمارے جیسی قوم کا نصیب تھی۔ 2007ء میں جو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے ججوں کو نظر بند کیا گیا۔ اس سے بھی زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ بے نظیر بھٹو کا جو دن دیہاڑے قتل ہوا وہ کوئی بڑی بات نہیں ۔
31 جولائی 2009ء میں جنرل مشرف کی 3 نومبر 2007ء کی ایمرجنسی کو آئین سے سنگین غداری قرار دینا سپریم کورٹ کے 14 ججوں کا دیوانہ پن تھا۔ اس سے پہلے ملک گیر وکلاء تحریک ایک بہت بڑا ڈرامہ تھا جس میں ممتا جیسی ریاست کے پلاٹوں کی فائلیں بیچ دی گئیں۔ جنرل مشرف کو جو اس کے استعفیٰ کے بعد اعزازی گارڈ پیش کی گئی سیاسی قیادت کیلئے اعزاز تھا۔ افتخار محمد چوہدری کی سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری کے خلاف سوئس بنکوں کے حوالے سے کارروائی وقت کا ضیاع تھا۔
ایبٹ آباد میں جو امریکی فوجی آپریشن ہوا اور ہمارے ریاستی اداروں اور حکومت نے جو کیا یا نہیں کیا ایسا بار بار ہونا چاہیے، امریکی ڈرون حملے پاکستان میں جاری رہنے چاہیں ، نائن الیون کے بعد سے آج تک لاپتہ ہونے والے ہزاروں افراد ایسے ہی سلوک کے مستحق تھے اوریہ حکومتیں اور عدالتیں ان پر توجہ نہ دے کر نیک کام کر رہی ہیں ، گورنر سلمان تاثیر کا قتل اللہ کی مرضی تھی اور اگر وہ گورنر نہ ہوتے تو اغوا ہو کر جلا وطنی اور جان پچانے کیلئے بھاگنے پھرنے پر مجبور ہوتے، اسی طرح صحافیوں سلیم شہزاد اور حیات اللہ خان کے ساتھ جو ہوا وہ آئندہ بھی ہوتا رہے گا، حامد میر پر قاتلانہ حملہ کوئی بڑی بات ہوتی تو سپریم کورٹ کے کمیشن کو پولیس کا ایک ڈی ایس پی جیو فنسنگ رپورٹ دینے سے انکاری نہ ہوجاتا، حال ہی میں پانچ بلاگرز کو جس طرح اغوا کر کے چھوڑا گیا تو اس میں وزیر داخلہ کا کیا قصور ہے۔ وزیر داخلہ نے بے گناہ لوگوں پر الزام تراشی کے خلاف بیان تو دے دیا ہے‘ اس سے زیادہ کیا کریں۔ اسی طرح آئین میں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی جا رہی ہے موجودہ سیاسی بصیرت اور عدالتی سوچ کی روشنی میں مطالبہ ہونا چاہیے کہ عام عدالتیں بند کر کے فوجی عدالتوں کی تعداد بڑھا دی جائے ، ہر چوک چوراہے پر فوجی ٹرکوں میں موبائل عدالتیں عام عوام کو انصاف فراہم کریں۔
مندرجہ بالا تمام خیالات کی بنیاد ماضی کی اور موجودہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے آج تک کے رویے اور بیانات ہیں۔ اتنے بڑے سانحات ہوئے اور کوئی بھی سزا وار نہیں ٹھہرا اور اب حکمران اور سیاسی اپوزیشن جس طریقے سے عوام کو غیر سماجی بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے خود بھی بھیڑیے کا روپ دھارتے جا رہے ہیں ایسے میں خیال آتا ہے کہ اس سیاسی قیادت اور ان اداروں کے ساتھ ماضی میں جو کچھ بھی ہوا، ٹھیک ہی ہوا۔
تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے جس انداز میں بڑے بڑے سانحات پر عوام کو بیوقوف بنانے کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے اس کے بعد عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ملک ٹوٹنے اور اس کی سلامتی پر حملے کے حقائق کو عوام سے چھپانے والے اگر پھانسی پر چڑھے یا قتل ہوئے تو یہ اگر ٹھیک نہیں تو مکافات عمل ضرور تھا اور عوام کو کوئی آنسو نہیں بہانے چاہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار کیلئے اپنے خون کا سودا کرنے کو بھی تیار ہیں ، ان کو ملک کے آئین سے سنگین غداری کا جرم پریشان نہیں کرتا۔ حسین حقانی کے حالیہ بیان کے بعد جس مضحکہ خیز انداز میں حکومت اور اپوزیشن نے رد عمل دیا ہے و ہ قابل مذمت ہے۔ یہ لوگ عوام کے اتنا بیوقوف سمجھتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کا بچہ بغل میں دبا کر حسین حقانی کے بیانات کا ڈھنڈورا شہر میں پیٹ رہے ہیں۔بڑی جماعتیں پارلیمانی کمیشن کے ذریعے حسین حقانی کے بیان کی تحقیقات پر متفق نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے جو ایبٹ آباد کمیشن کے رکن بھی تھے ان سیاسی لیڈروں اور عسکری قیادت کی ایبٹ آباد کمیشن کی تحقیق میں سنجیدگی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ قاضی کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن میں تحقیقات کے دوران اس وقت کے صدر آصف زرداری ، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل کیانی کو بیان کیلئے کمیشن میں طلب کیا مگر ان تینوں حضرات نے کمیشن کو جوتے کی نوک پر رکھا۔
بات صاف ہے اگر زرداری ، گیلانی اور کیانی تینوں امریکی آپریشن میں ملوث نہیں تھے تو کمیشن کے سامنے پیش ہونے میں کیاقباحت تھی۔ کیا وفاقی حکومت بطور آئینی باس جنرل کیانی کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم نہیں دے سکتی تھی۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کی تیاری کے منصوبے کا حصہ تو نہیں تھی۔
نئے آرمی چیف کے آنے سے کئی سال کی محنت رائیگاں بھی جا سکتی تھی اور تین سال کی توسیع اس لیے ضروری ہو سکتی تھی کہ ایک سا ل کی توسیع سے معاملات واضح ہو جاتے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقات تو ہر کور کمانڈر کانفرنس میں زیر بحث آتی ہے مگر کیا وجہ ہے کہ ایبٹ آباد حملے جیسے قومی سلامتی کے اتنے بڑے سانحے سے متعلق آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں ذکر تک نہیں کیا جاتا۔
بد قسمتی سے سیاسی اور عسکری قوتیں دونوں ہی قومی سلامتی کے معاملات کو طاقت کے توازن کی کھیل کا حصہ بنا رہی ہیں اور کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ ایسی صورت حال میں عام عوام اور شہری جمہوریت کی یادگاروں اور دستور کی گلیوں سے کب تک دل بہلائیں گے۔ نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان بھی ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے اجراء پر چند بیانات کے علاوہ اتنے سنجیدہ نظر نہیں آتے جس اعتماد سے ٹی وی کے کیمروں کے سامنے آ کر حکومتی وزراء قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ان حالات میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اقتدار اور اختیارات کے کھیل میں جو قتل ہوئے ، پھانسی چڑھے ، جیل گئے وہ عوام آئین یا قانون کی بالادستی کیلئے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کیلئے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آج سقوط ڈھاکہ ، بھٹو کے عدالتی قتل ، جنرل بیگ کی انتخابی چوری ، مرتضی بھٹو کا خون، کارگل کی مہم جوئی، 12 اکتوبر کی فوجی بغاوت ، 3 نومبر کی آئین سے سنگین غداری ، بینظیر بھٹو کے قتل ، ایبٹ آباد میں امریکی حملے جیسے قومی سانحات کی تحقیقات اور ان کا کچھ تو منطقی انجام ہوتا اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا اور خاص کر ان حکمرانوں نے کچھ نہیں کیا جن کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا رہا تو پھر عوام بھی ووٹ ڈالتے وقت ان سانحات کو بھول جاتے ہیں۔ یہی سلوک ہمارا استحقاق ہے۔ جو بھی ہوا‘ٹھیک ہی ہوا۔