پاکستان میں سونے و تانبے کے ذخائر کی دریافت

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
پاکستان میں سونے و تانبے کے ذخائر کی دریافت

ـ"اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائوگے " سورت رحمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عطا کی ہوئی انمول اور بے بہا ، خزانوں،نوازشوں اورنعمتوں کا ذکر کررہا ہے اوراس میں ہمیں آگاہ بھی کررہا ہے اور جتا بھی رہا ہے مگر اس کے باوجود ہم اس کی نوازشوں اور عطائوں سے لاپرواہ اور بے نیاز خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورت رحمٰن میں جتنے زمینی اور زیر زمین خزانوں کا ذکر کیا ہے وہ سب اس نے ہمارے خطہ زمین میں محفوظ کئے ہوئے ہیں جن کوجاننے اوردریافت کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں نے 2005کے اپنے نوائے وقت کے ایک کالم میںلکھا تھا کہ پاکستان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے سنگلاخ پہاڑوں ، لہلہاتے میدان، بہتے دریائوں ، وسیع سمندروں ،خوبصورت وادیوں اور ان میں چھپے زیر زمین خزانوں اور معدنیات سے مالامال کیا ہوا ہے خصوصاً چنیوٹ اور سرگودھا کے درمیانی علاقے میں لازمی ان کی دریافت کے لئے کھوج ہونی چاہیے ۔آج الحمداللہ ہمارے پاکستانی ماہرین کی محنت ولگن ،کاوشوں اور کوششوں سے اسی چنیوٹ کی سرزمین میں لوہے کے علاوہ تانبے و سونے کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں۔ اس بار تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس فیاضی اور اپنے کرم سے میاں برادران کی حکومت کو مالی و اخلاقی مدد فراہم کی ہے وہ شائد پاکستان کی اڑسٹھ سالہ تاریخ میں کسی بھی حکومت کو نہیں ملی ہے ۔ خصوصاً حکمرانوں کی عاقبت نا اندیش پالیسیوں کی وجہ سے قرضوں میں ڈوبے ہوئے اور بھیک کی لعنت میں پڑے ہوئے اس ملک کو پچھلے بیس ماہ میں جو قرضے و بھیک سے نکلنے کے مواقع ملے ہیں وہ کسی اور حکومت کو میسر نہیں آئے ہیں جن میں سب سے بڑا فائدہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں پینتالیس سے پچاس فیصد کمی ہونا ہے جو میرا خیال ہے آئندہ پھر کبھی اتنا بڑا موقع نہیں ملے گا مگر ہم اس کے ثمرات سے بھی مستفید نہیں ہوپائے ہیںاور عالمی مالیاتی ادارے کے تابعدارو فرمانبردار غلام کی طرح ان کی تمام شرائط من و عن تسلیم کئے جارہے ہیں ۔ جیسا کہ ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب نے عالمی مالیاتی ادارے کی ایماء پر منی بجٹ پیش کردیا ہے اور ناصرف پیش کردیا بلکہ اس کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے یا پاس کرانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور فوراً نافذ العمل کردیاکیونکہ پانچ فروری 2015کو عالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کے دوران یہی حکم صادر ہوا تھا اور اسحاق ڈار صاحب کے لئے اس حکم کی بجاآوری انتہائی اشد ضروری تھی۔یہی وہ روش ہے جس کی وجہ سے یہ حکومت بار بار بحرانوں کا شکار ہوتی ہے کیونکہ ان کی انتہائی تجربہ کار ٹیم جب حکومت کے لئے خطرہ محسوس کرتی ہے تو پورے پندرہ دن قومی اسمبلی میں موجود ہوتی ہے اور معمولی سا خطرہ ٹلنے پر اپنے سب سے اہم ادارے کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوتی حالانکہ اگر منی بجٹ پیش کرنا حکومت کی کوئی مجبوری بھی تھی تو سب سے پہلے اسے قومی اسمبلی میں پیش کرکے اس پر بحث کرالینی چاہیے تھی ۔ اس کے علاوہ میں اپنے کئی کالموں میں ذکر کرچکا ہوں کہ گذشتہ تین چار سالوں میں پاکستان کی برآمدات میں عملی طور پر کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن اس کے برعکس اس مدت میںدرآمدات میں تقریباً 5001ملین ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً  بیس ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور اس خسارے کو ختم کرنے کے لئے جس عملی تدابیر کی ضرورت ہے اس کا فقدان ہے یعنی پاکستان میں پیداواری عمل کو بڑھا کر برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور درآمدات میں کمی کی جائے اس پر ہمارے یہ عالمی مالیاتی ادارے کے مشیر سوچنے کوہی تیار نہیں ہیں اور اس کے لئے ہمارے ان تجربہ کار ماہرین نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پر ہی انحصار کیا ہوا ہے حالانکہ ان رقوم کو اگر ہم ملک کے ترقیاتی منصوبوں اور پیداواری عمل کو بڑھانے پر لگاتے تو اس سے ناصرف عام آدمی کا معیار زندگی بلند ہوتا بلکہ مجموعی طور پر ہماری برآمدات بڑھتی اور درآمدات کم ہوتیں مگر اس کا ایک بڑا حصہ ہم بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں ضائع کردیتے ہیں۔ ہمارے لئے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر مالیاتی خسارہ پورا کرنے کا یہ ذریعہ کسی بھی وجہ سے تعطل کا شکار ہوجائے تو ہمارے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں ہے ۔کیونکہ عالمی مالیاتی اداروں کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے جس کی تکمیل کے لئے وہ پاکستان کو خالصتاً تجارتی ملک کی جانب لئے جارہے ہیں اور ہمارے یہ اقتصادی اور معاشی افلاطون کبھی ایمنسٹی اسکیمیں جاری کرکے، کبھی سکوک بانڈ کا اجراء کرکے اور کبھی اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر قوم کو بنانے کی کوشش کررہے ہیں اوربذات خود وزارت خزانہ کے کہ ہم نے ان سکوک بانڈ جس کی مالیت ایک ارب ڈالرز تھی اس سے 102ارب ڈالرز کے داخلی قرضے ادا کردئیے ہیں ۔اسی طرح اکثر یہ ماہرین ڈالرز اور یورو کی قیمت بڑھنے سے برآمدات کے بڑھنے کا تاثر دینے میں اپنی صلاحیتیں وقف کردیتے ہیں لیکن بحیثیت ایک صنعتکار اوربرآمد کنندہ کے حقیقی طور پر میرا ان تمام معاشی و اقتصادی افلاطونوں کو چیلنج ہے کہ کوئی یہ بات ثابت کردے بیرونی کرنسی کی قدر بڑھنے سے ہماری برآمدات یا معیشت کو کبھی کوئی حقیقی فائدہ پہنچ سکا ہے ؟ بلکہ ایڈہاک ازم اقدامات سے نہ کبھی پاکستان کی بر آمدات بڑھی ہیں اور نہ کبھی بیرونی کرنسی کی قدر بڑھنے سے ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچ سکا ہے ۔ ماضی میں نہ جائیے بلکہ موجودہ دور حکومت میں جب ہمارا پیٹرولیم مصنوعات کا بل عالمی مارکیٹ میں تیل کے نرخ کم ہونے سے تقریباً پچاس فیصد کم ہونا چاہیے تھا اور اس دوران ڈالر بھی 95روپے پر جاکر واپس 103-104پر آگیا ہے تو اس کے باوجود ہمارا امپورٹ بل کم ہونے کے بجائے بڑھ کیوں گیا ہے ؟ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ہم روایتی پالیسیوں کے بجائے عملی طور پر پاکستان اور پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لئے مثبت پالیسیاں بنائیں کیونکہ اب ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔خصوصاً گذشتہ بیس ماہ میں توہماری وزارت خزانہ نے جو ملک کی تجارتی، صنعتی بلکہ سلامتی کے خلاف پالیسیاں جاری کی ہوئی ہیں اس کا اب سد باب ہونا چاہیے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے تاجروں و صنعتکاروں کی ایک بڑی تعداد جو مغلیہ دور کے درباریوں کی طرح ہر حکومت کے لئے انجمن ستائش باہمی کا کردار ادا کرتی ہے ان ہی کی وجہ سے آج ہمارے ملک میں تجارتی و صنعتی اداروں کی ساکھ بھی ختم ہوچکی ہے حالانکہ یورپ اور امریکہ کی تو الگ بات ہے اس وقت بنگلہ دیش اور بھارت کے بھی صنعتی اداروں نے اپنے کام اوراپنے کردار سے اپنے اداروں کی ساکھ بنائی ہوئی ہے لیکن ہمارے ملک کے تجارتی و صنعتی ادارے اپنی درباری پالیسی کی وجہ سے اپنا کوئی مقام نہ بناسکے ہیں ۔ لیکن ان تمام خامیوں اور خرابیوں کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکستان کو یہ سونے، تانبے اور لوہے کے ذخائر کی صورت میںتازہ تحفے دئیے ہیں ان کو استعمال میں لانے کے لئے نیک نیتی ، ہمت و لگن اورپوری جذبے و جانفشانی کی ضرورت ہے ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب نے ایک بار پھر اس موقع پر کشکول توڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ تومیاں صاحب دیر کس بات کی ہے بسمہ اللہ کیجئے اور ناصرف یہ کشکول توڑئیے بلکہ آپ کی وزارت خزانہ کے ذمہ داروں نے جو بیس ماہ سے قرضوں کے سوٹ کیس اٹھائے ہوئے ہیں ان کا بھی قلع قمع کرنے کے اقدامات کیجئے اسی طرح ہم قدرت کے تحفوں کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے پہاڑوں، دریائوں اور سمندروں میں چھپے خزانوں کو دریافت کرکے ، پاکستان کے خوبصورت پہاڑی علاقوں اور حسین وادیوں میں سیاحت کو فروغ دے کر ،صنعتوں کو پروان چڑھا کراور پیداروی عمل کو بڑھا کراپنے ملک کو خوشحال اورترقی یافتہ ملک بناسکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنا مالیاتی خسارہ بھی کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لئے پاکستان کی سرزمین سے محبت کرنے والے ، نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے اور پاکستان سے حقیقی تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے ۔ اس لئے اگر ہم نے اب قدرت کے عطا کئے ہوئے تحفوں سے فائدہ اٹھالیا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سراسر فائدہ کا سودا ہے اور اب بھی اگر ہم قدرت کی اس فیاضی سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھاسکے تو پھر ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ اس کے لئے سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہمارے اقتصادی اور خزانہ امور کی وزارتوں کے ذمہ داران پر ہے اور اس موقع پر بھی یہ حکومت ناکام ہوئی تو آج میری یہ پیشنگوئی لکھ لیں کہ تاریخ کا مورخ اس حکومت کی تیسری بار ناکامی کو اس حکومت کے سب سے اہم رکن وزیر خزانہ کی ذاتی پالیسیوں کو ٹھہرائیں گے۔