شجاعت اور ایثار کے درخشاں ستارے !

کالم نگار  |  اصغر علی گھرال
شجاعت اور ایثار کے درخشاں ستارے !

آرمی پبلک سکول پشاور کاسانحہ عالمی تاریخ میں اپنی نوعیت کا دلدوز ترین سانحہ ہے۔ اس دن آڈیٹوریم میں 9ویں کلاس کے طلباء 10ویں کے طلباء کے اعزاز میں الوداعی پارٹی دے رہے تھے۔ خوب رونق اور چہل پہل تھی۔کہ سات دہشت گرد سکول میں گھس آئے۔ فوجی کمانڈوز آپریشن کے دوران پرنسپل محترمہ طاہرہ قاضی کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئے ۔ مگر کرنل (ر)ظفر قاضی کی تہجد گزار بیگم یوں اپنے معصوم بچوں کو خونخوار درندوں کے حوالے کر کے چین سے تو نہیں رہ سکتی تھیں۔ وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر سکول کے اندر داخل ہوئیں اور پھر سکول میں بھاگ بھاگ کر بچوں کو بچانے میں لگی رہیں۔ سٹاف کے ارکان کو ہدایات دیتیں ۔ اس دوران ان کے بیٹے احمد قاضی کا فون بھی آیا ۔ تو طاہرہ قاضی نے بیٹے سے جلدی میں مختصر بات کر کے بند کر دیا۔ کہ اس کے پاس لمبی بات کرنے کا وقت نہیں۔ظالموں نے طاہرہ قاضی کو جان سے ہی نہیں مارا۔ انہیں فاسفورس بم سے آگ لگا کر بھسم کر دیا۔ یہاں تک ان کی لاش گھر والوں کے لئے بھی ناقابل شناخت ہوگئی ۔ اور وہ زیور سے پہچانی گئیں ۔
اسی سکول کی ٹیچر سحر افشاں کی قربانی نے بھی سمیعہ نورین اور اعتزاز حسن کی یاد تازہ کر دی ہے ۔ اسکی کلاس کا بچ جانے والا طالب علم عرفان اللہ بتاتا ہے۔ کہ دہشت گردوں نے کلاس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ۔ تو ہماری ٹیچر ان کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئیں۔ انہوں نے کلاشنکوف کن پٹی پر رکھ کر ہٹنے کو کہا ۔ مگر ٹیچر افشاں نے کہا۔ جیتے جی تو بچوں تک نہیں جانے دوں گی۔ وہ چٹان بن گئیں۔ انہوں نے پٹرول چھڑکا۔ پرواہ نہیں کی۔ اس دوران میرے سمیت لڑکے کھڑکیوں سے باہر کودتے رہے۔ دہشت گردوں نے بالآخر فاسفورس کے بم سے آگ لگا کر بھسم کر دیا۔ اگر ہماری ٹیچر جان کی قربانی نہ دیتیں ۔ اور دہشت گردوں کو روکے نہ رکھتیں تو ہم بچ نہیں سکتے تھے سحر افشاں کے بھائی فواد گل نے کہا !ہماری بہن بڑی بہادر تھی۔ وہ موت سے نہیں ڈرتی تھی۔ ہمیں اسکی قربانی پر فخر ہے ۔
آرمی پبلک سکول کی کمپیوٹر سائنس کی ٹیچر فرحت جعفری بھی بچوں کے آگے دیواربن کر کھڑی ہو گئیں۔ دہشت گردوں نے انہیں پیچھے ہٹنے کو کہا مگر انہوں نے انکار کیا۔ اس پر دہشت گردوں نے تکرار کرنے کی بجائے اسے گولیوں سے چھلنی کر کے راستہ بنا لیا۔ سٹاف کے دیگر ارکان نے بھی بہادری کی داستانیں رقم کیں۔
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت نے پرنسپل طاہرہ قاضی کیلئے تمغہء شجاعت منظور کیا ہے ۔ جو ان کے لواحقین کو 23مارچ کو یوم پاکستان پر دیا جائیگا۔ طاہرہ قاضی "تمغہ "شجاعت کی نہیں کم سے کم ستارہ شجاعت کی مستحق ہیں پرنسپل طاہرہ قاضی کے علاوہ لیڈی ٹیچر سحر افشاں اور فرحت جعفری کے لئے بھی غیر معمولی ایثار اور بہادری کیلئے ایوارڈز کا اعلان ہونا چاہیے۔ 6جنوری 2014؁ء کو ابراہیم زئی کے سکول میں ایک ہزار سے زائد بچے صبح اسمبلی میں کھڑے قومی ترانہ پڑھ رہے تھے ۔ ایک مشکوک شخص نے اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ہنگو کے بنگش خاندان کے 9ویں کلاس کے 15سالہ صحت مند طالب علم اعتزاز حسن نے اسے بھانپ لیا ۔ خود کش بمبار حملہ آور کو دبوچ لیا۔ اور اپنی جان پرکھیلتے ہوئے اسکی تباہ کن جیکٹ کو اپنا جسم پیش کر دیا ۔ اگر اعتزاز قربانی نہ دیتا ۔ تو آرمی پبلک سکول پشاور کی طرح نہ جانے کتنے معصوم بچوں کا قتل عام ہو جاتا۔ اعتزاز حسن نے شہید ہو کر سینکڑوں مائوں کی گودیں اُجڑنے سے بچالیں۔
حکومت کی طرف سے اعتزاز حسن کو بہادری اور جان نثاری پر ستارہء شجاعت سے نوازا گیا ہے ۔ حقوق انسانی کے بین الاقوامی کمیشن نے بہادری کا عالمی ایوارڈ اس کے نام کیا ہے ۔"ھیرالڈ "نے خود کش حملہ آور کو جان دیکر ناکام بنانے پر شہید طالب علم کو "پرسن آف دی ائیر "(سال کی بہترین شخصیت )منتخب کیا ہے ۔
خیبرپختونخواہ حکومت نے اعتزاز حسن کے اہل خانہ کی کفالت کیلئے ایک ٹرسٹ اور "اعتزاز حسن فنڈ "قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ شہید کی پہلی برسی پر 6جنوری کوایک نجی ٹی ۔وی کا پروگرام "کیپیٹل ٹاک " ہنگو سے براہ راست نشر کیا گیا۔ اعتزاز حسن کے بھائی مجتبیٰ حسن بنگش نے کہا!بھائی کی بہادری اور جاں نثاری پر فخر ہے ۔کزن مدثر علی نے کہا آرمی پبلک سکول کے سانحہ نے اعتزاز کی قربانی کو اور اجاگر کر دیا ہے۔ اعتزاز نے قوم کو پیغام دیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں ہے ۔
اے این پی کے رہنما میاں افتخار حسین نے شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ! ہمیں فخر ہے کہ اعتزاز حسن جیسے بہادر خون دیکر قوم کو بچاتے ہیں۔ہم دہشت گردوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ۔برسی پر وفاقی یا صوبائی وزیر تو ایک طرف مقامی ایم این اے اور ایم پی اے نے بھی آنے کی زحمت نہ کی۔ اعتزاز حسن کے کارنامے پر "سیلیوٹ"کے ٹائیٹل سے ایک فلم بھی بن رہی ہے ۔ بلاشبہ شہید اعتزاز حسن قومی ہیرو ہے ۔ ایسا ہی ایک حادثہ 24اکتوبر 2009؁ء کو اسلام آباد میں پیش آیا تھا۔ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے کیمپس میں طالبات کینٹین کے اندر خوردونوش اور خوشگوار موڈ میں خوش گپوں میں مصروف تھیںکہ ایک خود کش بمبار نے کینٹین کے اندر گھسنے کی کوشش کی ۔ اتفاق سے خاکروب پرویز مسیح وہاں تھا۔ اس نے مشکوک شخص کو بھانپ لیا اور اسے جپھا مار کر گرا لیا ۔پرویز مسیح نے جان دیکر ہماری بیٹیوں بہنوں کو بچا لیا۔ ذرا تصور کر یں ! اگر یہ جانباز یہ کارنامہ سرانجام نہ دیتا تو سانحے کی سنگینی کی نوعیت کیا ہوتی؟
مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے جنگِ آزادی کے ایک ہیرو بھگت سنگھ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا :…؎
شہیدان وطن کے خونِ ناحق کا اگر ست نکلے
تو اس کے ذرے ذرے سے بھگت اوردت نکلے
پرویز مسیح نے بھی ہماری بیٹیوں کے لئے جان دی ہے۔ اس نے ملک و قوم کو ایک بھیانک ٹریجیڈی سے بچا لیا ۔ لیکن افسوس ہے کہ پرویز مسیح کی بہادری اور جاں نثاری کے عظیم کارنامے کو شایان شان پذیرائی نہیں ملی۔ وہ بلاشبہ ستارہ شجاعت کا مستحق ہے اسکے ایوارڈ کا نہیں سنا۔ نہ جانے اسکے بچے کس حال میں ہیں ؟کتنی برسیاں گر گئیں ہیں۔ اسے کسی نے یاد نہیں کیا ہم اقلیتوں کے حوالے سے ویسے اچھا سلوک نہیں کر رہے قائد اعظم ؒ کی روح شرمسار ہو گئی ۔
اقلیت کے ایک فرد کی قربانی پر ہمیں فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ میڈیا میں 24اکتوبر کو اسکی برسی پر پروگرام نشر کرنا چاہیے ۔ پرویز مسیح کے نام کا یادگاری ٹکٹ جاری ہونا چاہیے ۔اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کو تو 24اکتوبر کو اسکی برسی شایان شان منانی چاہیے ۔(جاری)