تحریک انصاف بطور پریشر گروپ

تحریک انصاف بطور پریشر گروپ

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
مئی جون 2014 ء سے تحریک انصاف میڈیا پر چھائی رہی در حقیقت منصوبہ بندی یہ کی گئی تھی کہ صوبہ پختون خواہ میں اے این پی کے لیے مولانا فضل الرحمن صاحب، صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے لیے ایم کیو ایم بطور پریشر گروپ موجود ہیں۔ بلوچستان میں تین چار جماعتیں خاص طور پر ہمہ وقت ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے کمر بستہ رہتی ہیں لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ اور ق لیگ بطو رقبرستان لیگ کے ہے۔ ق لیگ والے صرف پارٹی ورکروں کے جنازے ہی پڑھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ والوں کی سیاسی جوڑ توڑ کی موجودگی میں جو کوئی ق لیگ میں شمولیت اختیار کرے گا یہ سمجھا جائے گا کہ سیاسی طور پر اس نے قبرستان کی راہ اختیار کرلی ہے ۔
بدیںوجہ پنجاب میں ن لیگ کو پچھاڑنے کے لیے اور ٹف ٹائم دینے کے لیے کوئی پارٹی ہونی چاہیئے، چنانچہ دروغ بر گردن راوی جنرل پاشا نے عمران خان کو سبز باغ دکھائے کہ ملک کی ا یجنسیاں اور فورسز تحریک انصاف کو بر سرِ اقتدار دیکھنا چاہتی ہیں، اس سلسلے میں ہونے والے لاہور کے پہلے بڑے جلسے میں سفید پوشوں کے علاوہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے ورکروں نے اتنی بھر پور شرکت کی کہ عمران خان کو یقین آگیا کہ واقعی مخلو قِ خدا اس کو پاکستان کاوزیر اعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ دوسرا بڑا جلسہ کراچی کر ایا گیا جس میں الطا ف حسین کو کہا گیاکہ تحریک انصاف کا کراچی میں جلسہ لاہورسے بڑا ہونا چاہیے ۔ ملنے والوںکو تحریک انصاف میں جلدی سے شامل ہوجانے کے لیے تیار کیا گیا کہ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلو وزیر بن جاؤ گے۔ پھر عمران خان اور طاہر القادری سے خفیہ والوں نے لندن میں میٹنگ رکھی ،جس میں چودھری برادران نے بھی شرکت کی۔ الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور مطالبہ صرف ایک ہو گا کہ نواز شریف مستعفی ہو جائیں۔بہر حال ایک لمبے عرصے تک ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خاں نے اسلام آباد اور پھر ملک بھر کے کئی شہروں میں خاص طور پنجاب میں دھرنے دیئے لیکن مارنے والوں سے بچانے والا ابدی طور پر طاقتور ہے ۔اگرچہ دھرنا سیاست میں نشیب و فراز سامنے آتے رہے لیکن بالآخر ڈاکٹر طاہرالقادری اور بعد میں عمران خاں بھی دھرنا ختم کر گئے۔ بلکہ عمران خان کو دھرنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ریحام سے انہوں نے باقاعدہ شادی کرلی۔
بہرحال عمران کے لیے آج کل زبان زدِعام گفتگو چل رہی ہے کہ بطور پریشر گروپ تحریکِ انصاف کا استعمال ہو گا ۔ مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے ضدی شخص کو ملک کا چار دن کے لیے بھی وزیر اعظم نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان اور ہندوستان کی بدبختی یہ ہے کہ سیاست دان یہاں بطور ’’مہرہ‘‘ کام کرتے ہیں۔ حکومت چلانے اور پالیسیاں بنانے والے اور لوگ ہوتے ہیں۔ ابھی گلگت بلتستان میں جو شاہرا ہیں بند کروا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ تحریک انصاف نے کیا ہے۔ اس سے وہ لوگ زیادہ ناراض ہیں کہ ان کی امیدوں سے زیادہ تحریک انصاف کے سربراہ اونچا اڑنے لگے ہیں۔ اب وہ اس سوچ میں ہیں کہ موجودہ حالات میں تحریکِ انصاف کے سربراہ کے پر کس طرح کاٹے جائیں۔
بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ ریحام خان کے ذریعے اب مقتدر ہستیاں عمران خان سے کیا سلوک کریں گی۔ اگر تو عمران خان اپنی بات کے پکے نکلے کہ ’’ایک وقت میں وہ ایک ہی کام کرتے ہیں۔‘‘ تو پھر وہ سیاست کو خیر باد کہہ دیں گے اور بیوی بچوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔اگر اپنی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کا پاس نہ کیا تو پھر پریشر گروپ کی صورت استعمال ہوتے رہیں گے۔ عمران خان کے موجودہ رویے سے لگتا یہی ہے کہ وہ پچھلی باتیں بھول جاتے ہیں۔ اس کا خصوصی ثبوت یہ ہے کہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ اسمبلیاں دھاندلی کی پیداوار ہیں دوسری جانب انہوں نے سینٹ کے الیکشن میں بھر پور حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ملک میں حکومت نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی رہے گی لیکن پریشر گروپ کسی نہ کسی کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور دہاڑیاں لگاتے رہے ہیں۔
معاشرے کے اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ شادی کے بعد ان کی گفتگو، چال چلن، عزیز واقارب کے ساتھ راہ ورسم اور معاشرتی زندگی کے رویوں میں تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں۔ ریحام کے ساتھ عمران کی شادی میں اس کی بہنیں اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کر چکی ہیں۔ اپنی گفتگو کو جلد بھول جانے والے عمران خاں لانگ مارچ اور شادی کی شارٹ مارچ کے بعد مستقبل میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ دھرنا سیاست اور لانگ مارچ سیاست کے دِنوں ہر آن ڈاکٹر طاہر القادری سے مشاورت کرنے والے تحریک ِانصاف کے سربراہ نے جناب طاہر القادری کو خوشی کے اس مرحلے میں اعتماد میں لینا مناسب نہیں سمجھا۔ ان کی کچن کیبنٹ کے ہونے والے امیدوار وزراء بھی ریحام خان سے ناواقف ہیں اور ان کے لیڈر کا فیصلہ شیخ رشید کو بھی متاثر نہیںکر سکا۔ کم از کم اتنا تو ہونا ضروری تھا کہ ایک شام عمران خان کی دلہن کے نام اور دوسری شام شیخ رشید کی دلہن کے نام ہو جاتی تو قارئین کہہ سکتے تھے کہ عمران خان نے واقعی شیخ رشید کو متاثر کیا۔ بیچارے شیخ صاحب گلا پھاڑ پھاڑ کر عمران کو ملک کا بہترین لیڈر اور اپنا ہیرو کہتے رہے لیکن عمران نے جلسے میں اپنے لیے دلہن مانگی شیخ رشید کے لیے دلہن درکار ہے یہ اپیل نہیں کی۔ اب تو چپل اور واسکٹ پہننے والے تحریک انصاف والوں کا دماغ نیچے لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ان حضرات کے آئندہ مقام سے ان کو آگاہ کردیا جائے۔ پھر وہ بھی ایم کیو ایم کی طرح اِدھر روٹھ کر اسمبلیوں اور حکومتی بنچوں سے اٹھ جائیں اُدھرلے دے کر اپنی اپنی سیٹوں پر آجائیں اور حکومتی پارٹی بھی خود سر نہ ہو سکے۔ وہ بھی انڈرپریشر کام کرتی رہے اور سب ووٹ کی طاقت کی بجائے یونیفارم کی طاقت کے گیت گائیں۔ اگست سے نومبر تک میڈیا سٹیج ایکٹرز اور نِت نئی شان سے آنے والے سامعین نے اپنی اپنی وفاداری کا حق ادا کر دیا۔ ان سب کے عمل نے ملک وقوم کو جو نقصان پہنچایا وہ اپنی جگہ لیکن ریحام کا ایک بار پھر دلہن بننا تحریک انصاف کے کارکنوں کو مبارک۔ ریحام کا ملک کی خاتونِ اول بننے کا خواب خواب ہی رہنے کی توقع ہے۔ کیونکہ جنہوں نے شادی کروائی ہے اب وہی نئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔