نظریہ پاکستان کو تقویت دینے والے عوامل (آخری قسط)

کالم نگار  |  سید محمد قاسم رضوی

 کسی مقصد یا نظریے کی ضرورت نہ ہوگی لیکن اگر یہ بات غلط ہے اور ہم نے کسی عظیم تر مقصد کےلئے قربانی دینی چاہی تھی تو ہمیں یقیناً اپنی تدریس میں، اپنی تعلیم میں، تربیت اور اپنی تہذیب میں، اپنے معاشرے میں وہ بات پیدا کرنی ہو گی کہ ہم تلاش کر سکیں کہ ہماری خصوصی روایات کیا تھیں، جن کے نام پر ہم نے آزادی حاصل کی اور ان کو ترقی و ترویج دینے کےلئے اور اس زمانے کیمطابق اپنی ضروریات کیلئے ڈھالنے کی کسی کوشش اور کس محنت کی ضرورت ہے اور ہمیں یہ بات علی الاعلان کہنا ہو گی کہ ہر وہ بات جو مغرب سے آئی ہے او ان قدروں کی مخالفت کرتی ہے ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے خواہ کتنی ہی جاذب نظر اور تسکین دہ کیوں نہ ہو۔ ہماری تلاش یہ ہونا چاہئے کہ ہم ہر پیشکش کو ا پنی قدروں کی کسوٹی پر پرکھیں۔ یہ تلاش اولاد میں والدین کو پیدا کرنا اور طالب علموں میں استاد کو پیدا کرنا غالباً اہم ترین فریضہ ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ تعلیم وتدریس کے بعد اور والدین سے تربیت پانے کے بعد، جب زندگی کے عملی میدان میں نوجوان مرد اور عورتیں پاﺅں رکھتے ہیں تو انہیں نامساعد حالات اور مختلف ضروریات سے واسطہ پڑتا ہے اگر ماحول کے مطالبات جداگانہ نہ ہوں تو ان کیلئے بیحد مشکل ہوتا ہے کہ وہ محض اپنے بچپن کی روشنی پر تمام عمر عمل کریں۔ قوم کے ذرائع ابلاغ اسکے رسالے، اسکے اخبار، اسکا ریڈیو، اس کا ٹیلی ویژن مسلسل اس مقصد کےلئے استعمال ہونے چاہئیں کہ افراد کے سامنے نہ صرف اس قوم کا مقصد رکھیں بلکہ اسکی قدروں کی عزت اسکے دل میں پیدا کریں۔ جب تک مسلسل طور پر ہم اس بات پر فخر محسوس نہیں کرینگے کہ ہمارا ورثہ عظیم اور باعظمت ورثہ ہے، ہمارا ورثہ دراصل انسانیت کےلئے مفید ہے، ہم بے مقصد زندگی گزاریں گے اگر ہمارے ابلاغ کے ادارے اور قومی تنظیم کے ارکان مادیت سے مغلوب ہونے والی تہذیب اور کلچر کے تقاضوں پر مسلسل اپنی قدروں کی مخالفت کرتے رہیں گے تو یہ بات ہر شخص کی انفرادی جدوجہد کے امان سے بالاتر ہے کہ وہ اس قسم کے ماحول میں رہتے ہوئے مسلسل اپنے عقائد کے خلافث پروپیگنڈہ سنتے ہوئے، مسلسل اپنے ورثے کی تحریف کو دیکھتے ہوئے پھر اپنی بات پر قائم رہے۔ ایسے لوگ بہت کم ہوا کرتے ہیں جو ایسے ماحول سے متاثر نہ ہوں اور وہ معاشرے کے متوازن افراد کی بجائے معاشرے کے باغی ہوا کرتے ہیں لہذا اگر واقعی طور پر ہمیں اپنے ان پرمقصد عوامل کو جو ہمیں اس طرف لے جا سکیں، جہاں جانے کی نیت سے سفر شروع کیا تھا، حاصل کرنا ہے تو بالکل ظاہر اور بالکل واضح بات یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ زبان تولیں ہم ایک دوسری ثقافت کی اور فکر و دانش پیدا کریں اپنے لئے اس زبان میں جہاں ہماری ثقافتی قدروں کےلئے منافرت موجود ہے، جہاں کے محاورے میں ہماری اچھی باتیں بے ہودہ ہیں، جہاں کی مثالوں میں، جہاں کے الفاظ میں ہماری اور ہمارے ماضی کی توہین شامل ہے، ہم اس میں سوچتے ہوئے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے معاشرے کو، اپنی ثقافت کو اپنی اقدار کو بلند کیسے کر سکیں گے؟جب چین نے نہ صرف اپنے ماضی، اپنے غلط ماضی بلکہ اپنے حال کے استبدادی نظام سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے برطانیہ، امریکہ اور مغرب کا سیاسی جُوا گلے سے اتار پھینکا تو پہلا فیصلہ جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ نہ کوئی مغربی زبان پڑھائی جائیگی، نہ مغربی کتب لائبریری سے کسی کو دی جائیں گی اور جن پارٹی ورکرز نے، جن میں بڑے بڑے لیڈر بھی تھے، مغرب میں تعلیم حاصل کی ہے، انہیں ہر قسم کے رہبری کے کام سے علیحدہ کر دیا جائے۔ ماﺅزے تنگ سے میرے ایک پاکستانی دوست کو اس موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا تو رہبر چین نے جواب دیا:” ہاں ہم نے یہ کیا چونکہ ہم نے یہ دیکھا کہ مغربی تاثرات سے انکے دل ٹھیک ہونے کے باوجود انکے دماغ مفلوج و مغلوب تھے۔ وہ اپنے شہروں کو گندا سمجھتے تھے اس لئے کہ یہاں وہ غلاظت تھی جو مغرب کے شہروں میں نہیں ہے۔ وہ مکھیوں، غربت اور پسماندگی پر نوحہ کنال تھے۔ وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ ہماری معاشی اور معاشرتی کیفیت ، حدود اور قیود کیسی ہیں اور ہم کیسے ترقی کر سکیں گےہ۔ وہ ہماری ہر اس چیز سے جو کہ ماحول نے ہم پر پسماندگی کے طور پر مسلط کی تھی، اس لئے متنفر تھے کہ وہ ان کی صاف دنیا کا حصہ نہیں۔ اس کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ محبت و مروت سے نہیں، وہ حالات کو سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ ایک بے چینی میں، ایک مخالفت میں یہ چاہتے تھے کہ یہ بھی ٹھیک ہو جائے، وہ بھی ٹھیک ہو جائے۔ ان کا طریق کار اپنوں کا نہیں، غیروں کا تھا۔ وہ یہاں نہیں ہیں لیکن کیا ہمارا کوئی شہر غلیظ رہا؟ وہ یہاں نہیں ، کیا آپ نے یہاں مکھیاں پائیں؟ وہ یہاں نہیں لیکن کیا آپ نے سائنس کے معاملے میں بھی ہمیں کئی آزاد ملکوں سے آگے نہیں پایا۔ اور یہ سب باتیں ہم نے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے، ہم نے اپنے معاشرے کی ترویج کرتے ہوئے اور اپنے زاویہ¿ نگاہ کو بڑھاتے ہوئے کی ہیں“۔نہ جانے آپ کے اور ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ نہیں کہ ہم تمام انگریزی پڑھے لکھے لوگوں کو بیک بینی و دو گوش نکال باہر کریں۔ تجویز اچھی ہو گی لیکن چونکہ ہم سب پر براہ راست اس کا اثر پڑتا ہے اسلئے میں اس پر زیادہ زور نہیں دوں گا مگر ایمانداری کی بات یہی ہے کہ اگر ہماری سوچ، ہمارا فکر، ہمارے تخیل کے منبع اس تہذیب میں ہوں، جہاں کے لوگ ہماری محسوسات سے عاری اور جہاں کے لوگ ہماری ہمدردی سے بے درد ہیں جہاں کے لوگوں کی سوچ ایک بالکل مختلف زاویے سے ہے۔ اس معاشرے میں ہوں جس کی زبان اور جس کی تہذیب کا افتخار ہی ہی ہماری مخالفت ہو، جن کے تمام نظریے اور فلسفے متعلق ہی اس بات سے ہوں کہ ہم پسماندہ، ہم غیر، ہم مفسد اور ہم نامعقول ہیں تو انکے نظریات اپنانے سے ہم کیسے پنپ سکتے ہیں؟ہم بھی کسی زمانے میں دنیا کو خیالات دینے والے تھے، ہم نے بھی سائنس کے ہر شعبے میں ہدایت کی ہے۔ سائنس کے بے انتہا ذخیرے، فلسفے اور تفکر کے بے انتہا خزانے ہم مسلمانوں سے مغربی زبانوں میں منتقل ہوئے لیکن مغرب کی قوموں نے ہمارے خیالات کو ہماری زبان میں اور ہمارے تفکر کو ہمارے معاشرے کی حدود میں قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اس تمام میراث میں سے خوشہ چینی کرنے کے بعد اس کو اپنی زبان کا، اپنے خیالات کا، اپنے تفکر کا، اپنی ثقافت کا جامہ پہنا لیا اور آج انہیں یہ بھی یاد نہیں ہے کہ بہت سی باتیں، جو انکے پاس ہیں، وہ ہم سے ان تک پہنچی ہیں لیکن اسکے مقابلے میں ہم اپنے جذبہ¿ تابعداری کو اس قدر مغلوب کرتے ہیں کہ ہر ہدایت براہ راست ان سے حاصل کرنے کیساتھ وہ اثرات بھی ان سے بلا چون و چرا قبول کرتے ہیں جو نہ ہماری ثقافت کے مطابق ہیں نہ ہمارے ماحول کے مطابق ہیں اور نہ ہماری روایات کے مطالبات کے مطابق ہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں مشرقیت پر اس حد تک زور ہونا چاہئے کہ کسی بچے کو غلط وہم نہ ہو کہ مغرب ہم سے بالا تر ہے۔ مغرب کی تہذیب ہم سے بہتر ہے۔ مغرب کے طریقے ہم سے اونچے ہیں۔ اسکے دل میں یہ احساس پیدا ہو نا چاہئے کہ وسائل کی غربت میں باکردار عمل باعث عزت ہے۔ ہم غریب کمزوری کی وجہ سے نہیں ہیں، وسائل کی کمی کی وجہ سے ہیں لیکن عزت کا معیار ہماری غربت نہیں ہے، ہمارا کردار ہے کردار کی مضبوطی دولت کے حصول سے زیادہ بہتر ہے۔ دولت مند بے کردار غریب باکردار سے بہت پیچھے ہے۔ ہماری ثقافت ہمیں جن قدروں پر متوجہ کرتی ہے وہ انسانی قدریں ہیں، مالی قدریں نہیں ہیں۔ ہمیں بہتر بیٹا، بہترشہری، بہتر شوہر، بہتر انسان بنتا ہے اور چونکہ کم وسائل میں بننا ہے۔ اس لئے ہمارا چیلنج بڑا ہے۔ لہذا ہماری عزت زیادہ ہونی چاہئے کہ ہم نے کم وسائل سے انسانی اقدار کو بلند کرتے ہوئے کردار کو بلند کیا۔