عزم سفر کیا ہے تو رخت سفر بھی باندھ

سول حکومت کے پانچ سالہ جمہوری دور کی تکمیل اس لحاظ سے تو ضرور خوش آئند تھی کہ اس پانچ سالہ دور میں عوامی نمائندوں نے بلا شرکت غیر ے قومی امور کو چلایا۔ اعلیٰ عدلیہ نے اپنی بصیرت میں درست یا غلط آزادانہ فیصلے کئے۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نے آزاد جمہوری ما حول میں دل کھول کر بغیر کسی خوف کے الٹی سیدھی "چبکھیاں" لگائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کے سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ یہ ساری باتیں بغیر کسی شک کے مثبت تھیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ان پانچ سالوں میں پاکستان کو جو مالیاتی اور معاشی نقصان ہوا اسکی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہندوستان کے ساتھ دو تین جنگوں میں بھی اتنا جانی ضیاع اور مالی خسارہ دیکھنے کو نہیں ملا جو اس جمہوری دور میں ہوا۔ ہر روز کراچی میں د رجنوں ہلاکتیں ہوئیں، انرجی کے بحران کی وجہ سے روشنیوں سے جگمگاتا پاکستان گھٹا ٹوپ اندھیروں ڈوب ہو گیا اور پاکستانی قوم اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کی مقروض ہو گئی۔ نتیجہ کیا نکلا عوام غربت کی چکی میں پس گئے ۔صنعت تباہی کے دہانے پر جا کھڑی ہوئی، سرکاری اداروں کو بے رحمی سے لوٹا گیا ۔ صرف آپ سٹیل ملز کی مالی صورتحال دیکھیں تو آنکھوں میں آنسو امنڈ آتے ہیں ۔ 13 ستمبر 2006 کو جب میں وہاں سے بطور چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو رخصت ہوا تو سٹیل ملز ایک روپے کی بھی مقروض نہ تھی بلکہ تقریباً 10ارب روپے کا خام مال اور تیار لوہا ملز میں موجود تھا اور اسکے علاوہ بینک میں 10ارب روپے کی بچت بھی پڑ ی تھی۔ بد قسمتی سے آج سٹیل ملز تقریباً 82 ارب روپے کی مقروض ہے ۔ خام مال خریدنے کیلئے انتظامیہ کے پاس ایک دھیلہ بھی موجود نہیں ۔ 14 اپریل کے بزنس ریکارڈر اخبار کے مطابق پاکستان سٹیل ملز نے 30جون 2013 تک 36.5ارب روپے نیشنل بینک آف پاکستان کو ادا کرنے ہیں۔ ملز کی انتظامیہ نے عبوری وزیر اعظم کو چند دن پہلے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر اگلے دو ہفتوں میں سٹیل ملز کو 20 ارب روپے ادا نہ کئے گئے تو 5 کروڑ روپے روزانہ یا ڈیڑھ ارب روپے ماہانہ کا نقصان جاری رہے گا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس مالی سال کے پہلے نو ماہ میں سٹیل ملز کو تقریباً 18 ارب روپے کا خسارہ ہو چکا ہے۔ یہ دکھ دہ روداد صرف ایک کارپوریشن کی ہے ۔ ریلوے، پی آئی اے، واپڈا اور سوئی گیس کے ادارے بھی اس تباہی میں بالکل پیچھے نہیں۔ اسکے علاوہ پچھلے پانچ سال میں ماتحت عدلیہ کی حالت بھی نا گفتہ بہ رہی۔ مقدمات کے انبار لگے ہیں۔ لوگ وکیلوں کی بجائے ججز سے ڈیل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مقدمات میں ناقابل یقین تاخیر ایک معمول ہے اسکے علاوہ اعلیٰ عدلیہ بھی نہ صرف میمو گیٹ جیسے نازک ترین قومی سلامتی کے معاملے میں بے بس رہی بلکہ پاکستان سے لوٹے ہوئے چھ کروڑ ڈالرز بھی سوئٹزرلینڈ کے بینکوںسے واپس نہ آسکے۔ میڈیا نے پچھلے پانچ سالوں میں بہت مثبت کردار ادا کیا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ صحافت کے پاکیزہ پیشے کو چند کالی بھیڑوں نے داغ دار کیا۔ صحافیوں اور بڑے میڈیا ہاﺅ سسز کیلئے بیرونی فنڈنگ کی تکلیف دہ داستانوں کی گونج بھی سنائی دیتی رہی۔ بہت سے ہمارے صحافی بھائی کچھ سیاسی جماعتوں کی بے جا تعریف کرکے اور کچھ کے اوپر نا جائز کیچڑ اچھال کر اور ذاتی حملے کر کے صحافت کے پیشے کو نہ صرف داغ دار کرتے رہے بلکہ آج بھی ایسا کر رہے ہیں۔قارئین اب سوچنا یہ ہے کہ کیا ملک اگلے پانچ سال پھر ایسی مادر پدر آزاد جمہوریت یا کرپٹ طرز حکمرانی کا متحمل ہو سکتا ہے ؟ میرے خیال میں بالکل نہیں ۔ اب تو اگر ٹوٹے ہوئے بند نہ باندھے گئے تو پاک سر زمین شاد باد ہونے کی بجائے کھنڈرات میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ آزاد انتخابات صحیح سمت میں ایک درست قدم تو ضرور ہے لیکن اس عمل کی ابتدا خوش کن نہیں۔ ریٹرننگ آفیسرز اگر ضرورت سے زیادہ سختی کے مرتکب ہوئے تو اعلیٰ عدلیہ نے بھی امیدواروں کو آنکھیں بند کرکے ایسی چھوٹ دی جس کے وہ بالکل حقدار نہ تھے۔مثلاً ریٹرننگ آفیسرز کا لوگوں سے غیر متعلقہ ذاتی سوالات پوچھنا تو غلط تھا لیکن جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں ملوث لوگوں پر سختی بالکل بجا تھی۔ دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ نے مجرموں کی قید کی سزا ئیں معاف کر دیں جس پر لوگ بہت زیادہ معترض نہیں لیکن ہائی کورٹس کی طرف سے ان مجرموں کو دوبارہ انتخابات لڑنے کے اہل قرار دنیا کسی لحاظ سے بھی جائز نہیںچونکہ اگر اگلی اسمبلیوں میں بھی جعل ساز ، ٹیکس چور ، قرض نادہندگان ، ناجائز جائیدادوں کے مالکان اور بری شہرت کے حامل عوامی نمائندے گھس بیٹھے تو پھر گذشتہ جمہوری دور کی طرح ہمارا گلستان شعلوں کی لپیٹ میں رہے گا اور بے گناہ اور معصوم شہریوں کے آشیانے جلتے رہیں گے۔قارئین انسانی حقوق کے تحفظ اور آزادی فکر و خیال جیسے جمہوریت کے حسن کے ہم سب معترف ہیں لیکن جمہوریت کے چہرے پر کچھ ایسے نشانات بھی ہیں جو میک اپ سے بھی نہیں چھپتے ۔ مثلاً اس نظام حکومت میں لوگ گنے جاتے ہیں تولے نہیں جاتے اس لئے سیاسی جماعتوں کے مخلص قائدین بھی جمہوری اصطبل میں اپنے گھوڑوں کی تعداد ہر قیمت پر اپنے حریفوں سے زیادہ رکھنے پر مجبور ہیں اس لئے اگر ایک ریس والے خوبصورت اور نسلی گھوڑے کی بجائے ان کو دو یا تین ٹانگے کے آگے جوتنے والے ، عمر رسیدہ اور لنگڑے گھوڑے بھی مل جائیں تو وہ اس سودے پر خوش ہوتے ہیں چونکہ " نگ " پورے کرنا انکی مجبوری ہے۔ سیاسی جماعتوں کے چوٹی کے قائدین کی دوسری سر دردی یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر غیر نسلی گھوڑوں کو انکی غیر تسلی بخش کار کر دگی کے باوجود مرضی کا دانہ یا "©©ونڈا " نہ ڈالا جائے تو وہ ایک اصطبل کو پھلانگ کر دوسرے میں بھی جا گھستے ہیں اس لئے اگر قابل فروخت امیدواروں کو ساتھ رکھنا ہے تو ان کی بیٹی ، بہو یا بیوی کو عورتوں کیلئے مخصوص نشست بھی دینی ہو گی اور ساتھ ہی انکو منہ مانگی وزارتیں بھی عنایت کرنا پڑیں گی ور نہ وہ اس سیاسی سوداگر کے اصطبل میں گھس جائینگے جو زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ قارئین یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اسمبلیوں اور سینٹ کی نشستوں کے بھی سودے ہوتے ہیں۔ موجودہ نظام کے یہ منفی پہلو مخلص قائدین کے ہاتھ بھی باندھ دیتے ہیں۔ پاکستان کی اونچی پرواز کے متمنی حضرات سے یہ استدعا ہے کہ سب سے پہلے موجودہ جمہوری نظام کی طہارت کریں اور با اصول سیاست کی حوصلہ افزائی کریں چونکہ پاکستان کو خوشحالی کی طرف لے جانے کیلئے یہی رخت سفر ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کے اس شعر پر کالم ختم کرتا ہوں ....عزم سفر کیا ہے تو رخت سفر بھی باندھ منزل ہے آسماں تو بے بال و پر نہ جا