بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے؟

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی

انتخابات کو بہت اہمیت حاصل ہے ان لوگوں کے نزدیک جو انتخاب کو اپنے لئے ذریعہ عزت و معاش سمجھتے ہیں اور وہ اپنے کام کو دوسروں کے کاندھے پر ڈالتے ہیں اور عوام کو یہ احساس دلاتے ہیںکہ ہم آگئے تو تمہارے دن عیداور تمہاری راتیں شب برات میں بدل جائیںگی۔ عوام بہت سمجھدار ہونے کے باوجود ناسمجھ بننے میں ایک خاص لطف محسوس کرتے ہیں،کسی دانا نے ایک سادہ لوح شہری سے پوچھا کہ تم انتخابات کے بعد اپنے منتخب لیڈروں کو کوسنے بھی دیتے ہو اور پھر انتخابات میں انہی لیڈروں کیساتھ گرمجوشی سے انتخابی مہم چلاتے ہو۔سادہ لوح شہری نے جواب دیا کہ بے وقوف بننے میں ایک عجیب سی لذت ہے کیونکہ ہمارے حصے میں تو نہ معاش ہے اور نہ ہی عزت ہے۔ہمارے بچے تو بے چارے انسان نما حیوان ہوتے ہیں۔ گاﺅں میں ہوں تو زمیندار وڈیرے کے بیل بن جاتے ہیں اور شہر میں ہو ں تو سرمایہ دار کی گدھا ریڑی میں کام آتے ہیں،البتہ ان دنوں میں انتخابی تاجر لوگ اچھا کھانا کھلاتے ہیں،بھائی ارے بھائی کہہ کرانکی زبان خشک ہوتی جاتی ہے اور ہم تھوڑی دیر کیلئے اپنے انتخابی لیڈروں کے منہ بولے بھائی بن جاتے ہیں ورنہ.... بابل ہم تیرے کھونٹے کی گیّاں جسے ہانکیں ہنک جائیں رے اس مرتبہ انتخابی معرکہ بڑا زبردست ہے کیونکہ اس ملاکھڑے میں پروموٹر بھی براہ راست شریک غم ہورہے ہیں ۔جدی پشتی پہلوانوں کے سانس پھول رہے ہیںکیونکہ خفیہ پروموٹروں نے پہلوانوں کے خلیفہ اور پٹھے خاموشی سے خرید لئے ہیں، ہر پیشہ ور بابو سے ہاتھ ملا کر خوش ہوتا ہے کہ ہاتھ ملاتے ہی مٹھی گرم ہوجاتی ہے۔ریٹرننگ آفیسرز نے بڑی کوشش کی شفافیت کی چھاننی شروع ہی سے لگادیں مگر قسمت سیاست ابھی کچھ دیر اسی حالت کو برقرار رکھناچاہتی ہے۔ پروموٹرز بہت خوش ہیں لیکن فطرت کا تدبیر کنندہ بہت ہی خاموش ہے۔روایتی اور غیر روایتی پارٹیوں نے شلجموں پر سے مٹی جھاڑی اور کئی رنگ کے شلجم متعارف کروادئیے ہیں۔ ان پارٹیوں نے حسب رواج منشور بھی پیش کیے اور بڑے بڑے انقلابی دعوﺅں کیساتھ اپنے آپ کو مستحق ووٹ ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن کسی بھی منشور میں وطن کے نظریے اور دفاعِ وطن پھر بقائے وطن اور اہل وطن کے بنیادی حقوق کی بات نظر نہیں آتی۔پاکستان کا بنیادی مسئلہ اس وقت نظریہ پاکستان کا عملی تحفظ ہے۔پاکستان کا بنیادی مسئلہ بین الاقوامی برادری ہے اسکے وقار کا ہے۔پاکستان کا بنیادی مسئلہ آبی ذخائر کا ہے،پاکستان کا بنیادی مسئلہ مذہبی فرقہ واریت کے خاتمے کا ہے، پاکستان کا بنیادی مسئلہ اس کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا ہے،پاکستان کا بنیادی مسئلہ وراثتی سیاسی وڈیروں سے نجات کا ہے اور ہر دردمند عقلمند پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ جب تک ان بنیادی مسائل پر سوچ بچار کرکے انکے حل کیلئے کوئی عمل تدبیر نہیں کی جاتی اس وقت تک کوئی منشور،کوئی پارٹی اور کوئی حکمران مثبت تبدیلی نہیں لا سکتا۔ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ ایوان اقتدار کی بلند عمارتوں میں اپنی ذات اور اپنے حواریوں کو پہنچادیاجائے اور پھر قوم کے خون سے تیار شدہ سرکاری آسائشوں سے مستفید ہوتے ہوئے عقل بیدا ہوجائیگی اور بیرونی کالے ،سفید، نیلے، پیلے آقاﺅں سے آنکھیں ملا کر ہم اس اہل ہوجائینگے کہ عوام کا ہر مسئلہ حل کرنے کی قوت نصیب ہوجائیگی،اسی روایت،اسی حکایت اور اسی سیاست کو انہوں نے پلے باندھ لیا ہے اور اسی اکھاڑے کی مٹی کو وہ سرمہ¿ روشنی بصارت سمجھتے ہیں،اسلئے ان کی سیاست کا پیسہ انتخابی سرگرمیوں کے گردگھومتا ہے ان لوگوں نے مفاد پرستوں کا ایک طاقتور مافیا اپنے اردگر د جمع کیا ہوا ہے جو نچلی سطح پر بہت منظم ہیں اور عوام بے چارے انکے چنگل سے باہر نہیںنکل سکتے۔اب تک تو عوام کا مسئلہ بنیادی حقوق کی بازیابی تھا لیکن تازہ ترین خبروں کے مطابق احکامات جاری ہوئے ہیں کہ مذہب اور فرقے کے نام پر ووٹ مانگنا جرم ہے۔ احکامات جاری کرتے ہوئے مذہب اور فرقے میں فرق کرنا نہایت ضروری تھا لیکن یہ عجیب قصہ ہوا کہ پاکستانی نظریاتی مملکت جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی اور آئین پاکستان وجود اسلام،بقائے اسلام اور اشاعتِ اسلام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔پاکستان سے اسلام کے لفظ و حقیقت کو کبھی بھی جدا نہیں کیاجاسکتا کیونکہ بانی پاکستان کے افکار،عزائم ایک جدید اسلامی ریاست کے گرد گھومتے تھے۔فرقہ پرستی ایک ناسور ہے اور مذہب پرستی ہمارا دستور ہے اور پاکستان میں دستوری ضمانتیں موجود ہیں کہ مذہب ہی ریاست کا آئین و قانون ہوگا بلکہ عامت الناس کو اسلامی تعلیمات میں ڈھالنے کیلئے ریاست ہر ممکن کوشش کریگی۔ اسلامیات کی تعلیم لازمی ہوگی اور قوانین کو مکمل و مفصل طورپر قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کردیاجائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ لوگ اپنی فروعی اور انفرادی رائے سے لوگوں کا ایک منظم گروہ تیار کرتے ہیں اور ایسی روشوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انکے اس رویے سے مذہبی افکار اور اقدار متاثر ہوتی ہیں اور مذہب کا راستہ کھوٹا ہوتا ہے اسلئے بنیادی فرقہ بندی اور فرقہ پرستی کی حوصلہ شکنی کی جانا نہایت ضروری ہے۔مذہب تو انسان کو اور اپنے پیروکاروں کو امن و آشتی اور عقل و تہذیب سے مزین کرتا ہے اور انسان شناسی کے علاوہ دوسروں کے حقوق کے تحفظ کا درس دیتا ہے انسانوں کو یکجہتی عطا کرتا ہے اسلئے مذہب اور فرقہ پرستی کو ایک ہی ذیل میں رکھنا علم و عقل اور آئین پاکستان سے متصادم سوچ ہے۔ میڈیاامن کی آشا کے معاملات کو بتدریج آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ ملک کی دو بڑی جماعتوں نے اور انکی حلیف پارٹیوں نے ہندوستان کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی کوشش شروع کردی ہے۔دوسری جانب اسلام پسند جماعتوں کا رویہ بھی کچھ زیادہ خوش آئند اور حوصلہ افزا نہیں ہے وہ شخصیات کے ٹکراﺅ میں بری طرح سے الجھ گئے ہیں اور اپنی انفرادیت برقرار رکھنے کے چکر میں عوامی سطح کی انتخابی سیاست میں بہت ہی کمزور نظر آرہے ہیں۔حالات حاضرہ کا ایک فکر افزا پہلو یہ ہے کہ نگران حکومتیں عوامی فلاح کے سلسلے میں عملی اقدام سے گریزاں ہیں کوئی حادثہ یا خرابی رونما ہوجائے تو رپورٹ طلبی کی حد تک کام رہتا ہے۔پنجاب میں خسرہ کی وباءنے کئی معصوم نونہالوں کی جان لی اور نگران حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کوئی کاروائی شروع نہیں کی ہے۔ پتہ نہیں چل رہا ہے،پیٹر پر کون بیٹھا ہے؟ اور جڑیں کون کھوکھلی کر رہا ہے؟ عوام تلاش کرنے نکلیں تو ان کو زندہ باد اور مردہ باد والے اپنی طرف گھسیٹ لیتے ہیں.... کیا قدرت نے اِسی واسطے چنوائے تھے تنکے بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے؟؟