پاکستان کا چیف ایگزیکٹو کون! وزیراعظم یا چیف جسٹس

کالم نگار  |  قیوم نظامی

آئین کی رُو سے ملک کا چیف ایگزیکٹو منتخب وزیراعظم ہوتا ہے جس کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ آئین کے مطابق ریاستی اداروں کو چلائے۔ اس کی نظر حکومت کے ہر شعبے پر ہوتی ہے۔ وزیراعظم اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ اس کے کنٹرول میں کام کرنے والے حکومتی محکمے اور سرکاری کارپوریشنیں آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کریں۔ اگر وزیراعظم کو کسی محکمے میں کوئی غفلت نظر آئے تو وہ فوری طور پر اس کا نوٹس لے۔ گزشتہ حکومت کے دوران ہم نے دیکھا کہ وزیراعظم ایڈمنسٹریشن کو مستعدی سے چلانے سے قاصر رہے اور کلیدی فیصلے کرتے وقت آئین اور قانون پر سختی سے عمل کرنے کی بجائے ذاتی پسند کو اہمیت دیتے رہے۔ اس افسوسناک صورتحال سے چیف جسٹس پاکستان کو یہ موقع ملتا رہا کہ وہ حکومتی فیصلوں پر نظرثانی کرکے آئین کی بالادستی کو تسلیم کرائیں چنانچہ سابقہ دور میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کے درجنوں فیصلوں کو کالعدم قراردے دیا کیونکہ وہ فیصلے آئین اور قانون کے مطابق نہیں تھے۔ چیف جسٹس پاکستان اور ان کے ساتھی ججوں نے حکومتی کرپشن کو روکنے کے لیے جوڈیشل ایکٹوازم کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی خزانے کے اربوں روپے بچا لیے۔ ججوں کے فیصلے اور ریمارکس میڈیا کی شہہ سرخیاں بنتے رہے۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو وزیراعظم نہیں بلکہ چیف جسٹس پاکستان ہیں جو اپنے انتہائی فعال اور پرجوش کردار کی وجہ سے ایک طرح سے ڈی فیکٹو وزیراعظم بن چکے ہیں۔ اس تاثر کی ذمے داری بے حس اور غافل حکمرانوں پر ہی عائد کی جائے گی۔ جو تڑپ ، دردمندی اور جذبہ چیف جسٹس میں نظر آتا ہے وہ وزیراعظم پاکستان میں کیوں نظر نہیں آرہا۔
پاکستان کے عوام کو یقین تھا کہ مئی 2013ءکے انتخابات کے بعد حالات میں جوہری تبدیلی آئے گی۔ مسلم لیگ(ن) نے چونکہ ججوں کی بحالی کے لیے تاریخی کردار ادا کیا تھا لہذا مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں انتظامیہ اور عدلیہ کے تعلقات مثالی ہوں گے مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ نئی حکومت نے اپنے پہلے سو دن مکمل کر لیے مگر عدلیہ آج بھی اسی طرح حکومتی غفلت اور بے حسی کی وجہ سے عاجز نظر آتی ہے جیسی وہ گزشتہ دور میں تھی۔ چیئرمین نیب کیس کے حوالے سے اخبارات میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کے ان ریمارکس پر مشتمل یہ شہہ سرخی پڑھ کر دلی دکھ ہوا ”حکومت چیئرمین نیب کا جلد تقرر کرے یا نتائج بھگتنے پر تیار ہوجائے۔ کرپشن کا خاتمہ حکومتی ایجنڈے پر نہیں ہے وہ اس معاملے پر واضح ہوتی تو کئی لوگ جیلوں میں ہوتے۔ سکینڈلز کی تحقیقات نہیں ہو رہیں۔ نیب سمیت ادارے غیر فعال ہیں سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کررہے ہیں۔ حکومت جانے اس کا کام جانے“۔ کیا چیف جسٹس پاکستان کے یہ ریمارکس حکومت کے خلاف چارج شیٹ نہیں ہے؟یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کررہے ہیں اسی لیے نیب کے چیئرمین کی تعیناتی میں غیر معمولی تاخیر کی جارہی ہے۔حکومت نے عدلیہ کے واضح احکامات کے باوجود ابھی تک پی ٹی اے کا چیئرمین بھی نامزد نہیں کیا۔ میاں نواز شریف پہلے بھی دو بار وزیراعظم رہ چکے ہیں ۔وہ قومی سطح کے تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ ان کے دور حکومت میں جج سخت ریمارکس دینے پر کیوں مجبور ہورہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان اگر اپنی ذمے داریاں سرگرمی اور پرجوش انداز میں پوری کرتے نظر آئیں تو ججوں کو ان کی حکومت کے بارے میں سخت ریمارکس دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔ ریاست کی درجنوں کلیدی آسامیاں کئی ماہ سے خالی پڑی ہیں جن کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان نے بطور چیف ایگزیکٹو تنہاکرنا ہے۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ وزیراعظم ان آسامیوں پر تعیناتیاں کرنے سے قاصر ہیں؟ بلوچستان میں ابھی تک کابینہ نہیں بن سکی۔ لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان کابینہ خود لاپتہ ہے لہذا حکومت لاپتہ افراد کا سراغ کیسے لگاسکتی ہے۔ دنیا کے کئی اہم ملکوں میں پاکستان کے سفیر نہیں ہیں۔ ریاستی ادارے غیر فعال ہیں۔ وزیراعظم اپنے ڈیڑھ کروڑ ووٹروں کو کس جرم کی سزا دے رہے ہیں۔ ان کے ووٹر گلی محلوں میں اپنے سیاسی مخالفوں کو جواب دینے کے قابل نہیں رہے۔ مسلم لیگ(ن) نے اپنی انتخابی مہم کرپشن کے یک نکاتی ایجنڈے کی بنیاد پر چلائی تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس کے لیڈروں نے آنکھیں کیوں بند کرلی ہیں اور عدلیہ یہ ریمارکس دینے پر کیوں مجبور ہے کہ کرپشن حکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ گزشتہ حکمران بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے رہے کہ عدلیہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماﺅں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے۔ یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ چیف جسٹس پاکستان اپنے اس اصولی آئینی موقف پر ثابت قدم رہے ہیں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان بڑی بصیرت اور دانشمندی کے ساتھ حکمرانوں کی آئین اور قانون کی بالادستی کے بارے میں رہنمائی بھی کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ڈسٹرکٹ بار پشاور سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”قانون کی حکمرانی کے لازمی عناصر میں قانون کی بالادستی، قانون کا مساوی اطلاق، عوام کے حقوق کی فراہمی، من مانے اختیارات کے استعمال کی روک تھام اور شہری آزادیوں کا احترام شامل ہیں“۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں افلاطون کا یہ قول بھی شامل کیا ”جب قانون کسی اور اتھارٹی کے تابع ہوجائے اور اپنا اختیار کھو جائے تو ریاست کی تباہی زیادہ دور نہیں ہوتی۔ اگر قانون آقا ہو اور حکومت اس کی غلام ہو تب صورتحال اطمینان بخش ہوتی ہے اور عوام ان تمام نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں جو رب کائنات ریاست پر نچھاور کرتا ہے“۔ پنجاب حکومت کی دعوت پر بہار کے وزیراعلیٰ نے پنجاب کا دورہ کیا تھا انہوں نے شریف برادران کو نسخہ کیمیا بتایا تھا کہ قانون کی حکمرانی قائم کرکے جرائم کو ختم کیا جاسکتا ہے اور انہوں نے اپنی ریاست میں قانون کی حکمرانی کا معجزہ کردکھایا ہے۔ مسلم لیگی حکمران یہ باتیں کیوں بھول گئے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان بھی کافی عرصے سے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جہاد کررہے ہیں جبکہ حکمران طبقے آئین کی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ تضاد جس دن ختم ہوجائے گا عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی بھی دور ہوجائے گی۔ اگر چیف ایگزیکٹو پاکستان ظلم، نا انصافی اور قانون شکنی کا کڑا نوٹس لینا شروع کردیں تو چیف جسٹس پاکستان کو ازخود نوٹس لینے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
آصف علی زرداری کی یہ حکمت عملی ایک لحاظ سے کامیاب رہی کہ میڈیا اور عدلیہ کی چیخ و پکار کا نوٹس نہ لو اور خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ اس حکمت عملی سے انہوں نے اپنی مدت تو پوری کرلی مگر پاکستان کے ادارے برباد ہو کررہ گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی زرداری سٹریٹجی پر چلنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ وہ میڈیا اور عدلیہ کی رائے کو مسلسل نظر انداز کررہے ہیں۔ یہ سٹریٹجی حکومت اور ریاست دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں۔ ریاستی امور میں ان کی دلچسپی اور گرم جوشی عوام کو نظر آنی چاہیئے تاکہ عوام کو اعتماد ہو کہ ان کا لیڈر پورے جوش و جذبے اور کمٹمنٹ کے ساتھ اپنے آئینی فرائض ادا کرتا نظر آرہا ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی غفلت اور بے حسی کو کبھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ ایسے رویے ریاست کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ 5 سال کی معصوم بچی سے انسان نما درندے کی درندگی نے پوری قوم کو سکتے میں مبتلا کردیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اس المناک واقعہ میں خصوصی دلچسپی لے کر مجرموں کو عبرتناک مثال بنائیں۔ دیر میں فوجی افسروں اور جوانوں کی اس مرحلے پر دہشت گردی کے واقعہ میں شہادت انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ طالبان ایسی وارداتیں کرکے مکمل آپریشن کو دعوت نہ دیں اور غیرمشروط مذاکرات کی جانب آجائیں۔