کٹھ پتلی کون؟

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
کٹھ پتلی کون؟

پانامہ کی جے آئی ٹی میں چار افراد ہیں اور دو ادارے ہیں۔ چار افراد اپنے اداروں کے خلاف برسرپیکار ہیں جبکہ دو ادارے جے آئی ٹی میں موجود اپنے نمائندوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ایف آئی اے، نیب، ایکسچینج کمیشن اور سٹیٹ بنک کے نمائندوں کو اپنے اداروں کا تعاون حاصل نہیں مگر آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندوں کو انکے اداروں کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ قانونی المیہ یہ ہے کہ قانون کے تحت بنے مذکورہ سویلین اداروں کو ان خفیہ محکموں کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے جو قانون سازی کے بعد قائم نہیں کیے گئے۔ باوجود اس فرق کے آج یہ محکمے اداروں پر حاوی ہو چکے ہیں۔ جے آئی ٹی میں ان محکموں کو شامل کر کے خفیہ محکموں کو منتخب حکومت اور سیاسی نظام کے مقابلے میں لاکھڑا کیا ہے۔
آج ایک بار پھر ہم سب وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔ منظر کچھ ایسا ہے کہ پینتیس سال پہلے کاٹی گئی ایک جیب کا ملزم اچانک نظر آنے پر شہر بھر کی پولیس کی گاڑیاں گلی محلوں اور شاہراہوں پر عوام کے حقوق کو کچلتے ہوئے ملزم تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قاتلوں، ڈاکووں اور آئین کے غداروں کے مقدمات کی فائلیں دھول چاٹ رہی ہیں اور پورا ملک جیب کترے کا پیچھا کرتی پولیس کاروں کے سائرنوں کی آواز سے گونج رہا ہے اور جیب بھی وہ جو پینتیس سال پہلے کاٹی گئی اور ملزم وہ جو شاید تائب ہو کر متقی اور پرہیزگار بننے کی کوشش میں لگا تھا۔ مگر بظاہر متقی اور پرہیزگار جیب کترے کو بھی اب قانون اور بنیادی حقوق کی یاد آ رہی ہے۔ اب بات کی جا رہی ہے گواہان کے فون ٹیپ کیے جانے کی۔ جب بات اپنے اوپر آ جائے تو حکمران کو بنیادی انسانی حقوق کی نانی یاد آ جاتی ہے۔یہی حکومت ہے جس نے آئین میں ترمیم کر کے شہریوں اور ملزمان کو فوجی عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑا، وہ فوجی عدالتیں جہاں ٹیلی فون ریکارڈنگ سمیت ہر ثبوت اکٹھا کرنے اور پیش کرنے کی کھلی اجازت دی گئی۔ آج کس منہ سے وزیر اعظم ہاوس یہ شکوہ کر سکتا ہے کہ گواہان کی فون ٹیپ کی جارہی ہے۔ قول و فعل کے اس تضاد اور مکافات عمل کی اس صورت حال کو صحافی اور تجزیہ کار تو اجاگر کر سکتے ہیں مگر کیا اس تضاد اور مفاد کی پالیسیوں کی سزا عام عوام کے مینڈیٹ کی تذلیل کرنا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب عدلیہ، قانون دانوں، صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو دینا ہو گا۔ کیا نواز شریف اور آصف زرداری کی انسانی حقوق مخالف قانون سازیوں کو بنیاد بنا کر ملک کی اعلی ترین عدالت آئینی حقوق کے نفاذ کے نام پر ان محکموں یا قوتوں کو مزید طاقت اور اختیارات دے سکتی ہے جن کیخلاف پہلے ہی سیاسی مداخلت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مقدمات عدلیہ کے زیر سماعت ہیں۔جن محکموں نے آئین سے سنگین غداری کے ملزم جنرل پرویز مشرف ریٹائرڈ سے متعلق تحقیقات میں تین نومبر دو ہزار سات سے پہلے ہونے والے کور کمانڈر اجلاس کا ریکارڈ مانگنے والی ”جے آئی ٹی“ کو ٹھینگا دکھا دیا۔ ا ن محکموں کو ایک جیب کترے کے خلاف اتنا اختیار دینا آئین کی تشریح نہیں بلکہ آئین سے تفریح ہی ہو سکتی ہے۔ ان سیاسی حکمرانوں کی آئین سے منافی سرگرمیوں کو روکنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے مگر شاید فوجی عدالتوں کے قیام پر عدالتوں کی مہر تصدیق ثبت ہونے کے بعد یہ سب تو معمولی نظر آتا ہے۔
جے آئی ٹی میں فوج کے خفیہ اداروں کی شمولیت کے بعد گواہان کے فون ٹیپ ہونا شاید ”مطلوبہ اہداف“ کا تقاضہ تھا۔ فون ٹیپنگ سے متعلق جو تھوڑی بہت آئینی اور قانونی جھجھک تھی اب وہ بھی نہیں رہے گی۔ پہلے فون ٹیپنگ کے ذریعے صرف دہشت گرد پکڑے جاتے تھے اب جیب کترے پکڑنے کے لیے بھی اس ”کاروبار“ کو توسیع مل جائے گی۔ کیوں نہیں اگر ایک وزیر اعظم کے خلاف کرپشن تحقیقات میں لوگوں کے فون ٹیپ ہو سکتے ہیں تو عام شہری کس کھیت کی مولی ہیں۔ ویسے اگر لوگوں کی فون پر نجی گفتگو سننے کے آلات کسی کو مل جائیں تو پھر ملک کی معیشت، سیاست، عدالت اور صحافت کو قابو کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔
سٹاک مارکیٹوں میں اربوں روپوں کا سرمایہ لگانے والوں کی ٹیلی فون گفتگو سن کر کوئی بھی کھربوں روپے کما سکتا ہے۔ اور یہ ”تکنیکی ثبوت“ حاصل کرنے کی صلاحیت کاروبار میں مشغول چند اداروں کو مل جائے تو پھر پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ وہی کچھ کرتی ہے جو اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے۔ اللہ ان دہشت گردوں کو غرق کرے جن کی وجہ سے ہماری سیاسی حکومتیں ماہ رمضان کے بھکاریوں کی طرح چوک چوراہوں پر اختیار کی بھیک مانگتی رہتی ہیں۔ اس کشکول میں کبھی فوج اور کبھی عدلیہ اختیار کے چند سکے ڈال کر آئین اور جمہوریت سے اپنی وفاداری ثابت کرتے رہتے ہیں۔ نجانے ہماری سیاسی قیادت کو کب عقل آئے گی کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے بلاٹل نہیں جاتی۔ آپ اپنی مدت اقتدار تو شاید پوری کر لیں اور اپنے خاندان کی دولت تو بچا لیں گے مگر عوام کے مینڈیٹ کا سودا کر کے آپ سرخرو نہیں ہو سکتے۔
دوہزار چودہ کے دھرنے کے دوران بھی وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ اور عوام سے پوشیدہ قوتوں کو بے نقاب کرنے کا اعلان کیا تھا اور پھر ان پوشیدہ قوتوں سے ڈیل کر کے آپ خاموش ہو گئے۔ ایک بار پھر اب جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد آپ نے عوام سے کٹھ پتلیوں کے حوالے سے حقائق منظر عام پر لانے کا ایک اور دعویٰ کر لیا ہے۔
لگتا ہے کہ ایک بار پھر کوئی ڈیل کرنے کے چکر میں عوام کو ”نہر والے پل“ پر بلایا جا رہا ہے۔ تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد اب اتنا شعور تو آ ہی گیا ہو گا کہ جو مکا لڑائی ہارنے کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر ہی مارا جا سکتا ہے۔ جو حقائق عوام کو بتانے ہیں بطور وزیر اعظم ابھی بتا دیں وگرنہ پھر اٹک قلعے کی دیواروں کے پیچھے سے ایک ”کرپٹ“ سیاستدان کے کسی ترجمان کے ذریعے پریس ریلیز پر کون یقین کرے گا۔مگر نہیں معاملہ شاید عوامی مینڈیٹ کا نہیں خاندانی مینڈیٹ کا ہے۔ پہلے بھٹو خاندان فوج کے ساتھ عوامی مینڈیٹ کا سودا کر کے اقتدار میں رہا اور اب شریف خاندان کی باری ہے۔
ویسے بھی عوام کی مقبول اور شفاف کردار والی سیاسی قیادت سے زیادہ چند سیاسی خاندانوں سے ڈیل کرنا ہماری فوج کیلئے زیادہ آسان ہے۔ بنیادی اصول واضح ہو چکا ہے اپنے کام چھوڑو نہیں اور ہمیں چھیڑو نہیں۔ جو مفادات اقتدار پر قبضہ کیے بغیر حاصل ہیں تو پردے کے پیچھے بیٹھ کر حکومت کرنے میں حرج کیا ہے۔ ادھر تم ادھر ہم کے مصداق اپنی اپنی حکومت، اپنی اپنی عدلیہ، اپنی اپنی قانون و پالیسی سازی ایک مستقل میثاق ہے تو جناب جب عوام کی منتخب حکومت ہی دباو¿ میں عوامی مینڈیٹ اور حقوق پر سودا بازی کرنا شروع ہو جائے اور آئین سے سنگین غداری کے مرتکب ملزمان کی سہولت کار بن جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کٹھ پتلی اپوزیشن ہو یا حکومت۔ ویسے کٹھ پتلی حکومت کٹھ پتلی اپوزیشن سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
کٹھ پتلی کسی کی محبت میں بنے یا کسی کے دباو¿ میں اسکی حرکات ڈوریں کھینچنے والے کی مرضی سے ہونگی تو وہ کٹھ پتلی ہی کہلائی گی چاہے وہ اپوزیشن ہو، حکومت ہو، پارلیمنٹ ہو، عدلیہ ہو، یا میڈیا۔
تنقید، حکم، قانون، فیصلے اور خبر آئین اور جمہوریت کو مضبوط نہیں بناتے تو پھر سب باتیں بے معنی ہیں۔