مسلم اہل مغرب مکالمہ‘ وقت کی ضرورت

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری
مسلم اہل مغرب مکالمہ‘ وقت کی ضرورت

حالیہ برسوں میں توہین آمیز خاکوں اور تضحیک کا رنگ لئے کارٹونز نے مسلمانوں اور اہل مغرب کے مابین مناقشہ کی جو صورتحال پیدا کر دی ہے‘ اس سے عالمی سطح پر تہذیبی اور نظریاتی تصادم کے پروان چڑھنے‘ ملکوں‘ ملکوں نفرت کے الاﺅ دہکنے کا سامان ہونے کے جو آثار فروغ پا رہے ہیں اس سے بچنے اور اس کے منفی اثرات کے شہر‘ شہر‘ گاﺅں گاﺅں پھیل جانے کے عمل کو روکنے کیلئے اب وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں اور اہل مغرب کے مابین انٹلچکوئل سطح پر ٹھوس دلائل کی بنیاد پر گفتگو کی جائے تاکہ اس ممکنہ تصادم سے بچنے کی سبیل پیدا ہو۔ مذہبی تعصب کے حوالے سے مغرب کے دوہرے معیار پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ اہل مغرب کی جانب سے مسلمانوں پر انتہاپسندی کے مسلسل الزام کا جائزہ لیا جائے تو کم از کم اس تناظر میں یہ الزام کوئی صداقت نہیں رکھتا۔ معلوم تاریخ کا ایک ایک ورق اس حقیقت کا امین ہے کہ مسلمانوں نے کسی عیسائی‘ یہودی‘ ہندو یا سکھ کی اس کے مذہبی اختلاف کی وجہ جان لے لی ہو‘ ہاں دوبدو جنگوں میں یا اشتعال کے ایسے لمحات مں جب عقل و خرد پر منفی جذبات کی تاریکیاں چھا جاتی ہیں۔ شاید جانبدارانہ یا یکطرفہ محسوس کیا جائے مگر یہ افسوسناک اعلان نبوت کے ساتھ ہی دشمنان اسلام نے آپ کی توہین اور گستاخیوں کو وطیرہ بنا لیا تھا۔ کارٹون اسی تسلسل کی کڑی ہے۔ نبی کریم کی ذات گرامی مسلمانوں کو کس قدر عزیز ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام آپ سے یوں مخاطب ہوتے ”میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ“ بلا لحاظ مذہب و ملت ہر انسان کیلئے ماں باپ سے بڑھ کر کوئی عزیز ہستی نہیں ہے مگر یہ جذبہ محبت کا اوج کمال ہے کہ یہ متاع عزیز بھی آپ پر ہر آن نچھاور ہے۔ بہت سے مستشرقین نے اعتراف کیا ہے کہ جتنی محبت مسلمان اپنے نبی سے کرتے ہیں‘ کوئی اُمت اپنے انبیاءسے اتنی محبت نہیں کر سکی۔ اس کا مطلب ہے کہ اہل مغرب بالخصوص ان کا دانشور اور تعلیم یافتہ طبقہ اس حقیقت سے بخوبی شناسا ہے کہ جس نبی سے مسلمانوں کی محبت کو ناپنے کا کوئی پیمانے ہی نہیں ہے۔
 ماضی قریب اور ماضی بعید میں بھی اس نوع کی گستاخی یا توہین پر مسلمانوں کا شدید ترین ردعمل تاریخ کا نمایاں حصہ ہے۔ اس حقیقت سے بخوبی آگاہی کے باوجود اس قبیح فعل کو بار بار دہرانا انجانی فروگزداشت نہیں بلکہ یہ یہ تہذیب‘ اخلاق اور شائستگی کے کسی معیار پر بھی پورا نہیں اترتی۔ یہ ڈانواں ڈول خلافت عثمانیہ کے دور کا قصہ ہے۔ سلطان عبدالحمید کو علم ہوا کہ لندن تھیٹر میں توہین پر مبنی ڈرامہ دکھایا جانا ہے۔ سلطان نے برطانوی سفیر کو طلب کرکے اس سے باز رہنے کو کہا‘ سفیر نے اگلے روز اپنی حکومت کا جواب دیا کہ ڈرامے کی ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اب بند کرنا ممکن نہیں۔ اس پر سلطان نے نزدیکی دیوار پر آویزاں تلوار اٹھا کرسفیر کے سامنے لہرائی ”پھر یہ فیصلہ کرے گی“ برطانوی حکومت سلطان کی اس دھمکی کی تاب نہ لا سکی اور یہ ڈرامہ بند کر دیا گیا۔ کیا آج کے کسی مسلمان حکمران میں ایسی اسلامی حمیت ہے۔ یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑدونوں مقدس ہستیاں مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے سچے رسول اور ان کی رسالت پر یقین ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ عیسائی ماں کے بطن سے جنم لینے والی ممتاز دانشور اور محقق ڈاکٹر این میری شمل رقمطراز ہیں میں نے جب انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں اپنی کلاس کے دوران یہ ذکر کیا کہ عیسائیوں کے کئی فرقے اور گروپ حضرت مریمؑ کے بے داغ کردار یا ان کے کنواری اور معصوم ہونے کے نظریے پر یقین نہیں رکھتے‘ تو میرے ایک طالبعلم نے غصے سے کہا ”پھر تو ہم آپ کے مقابلے میں بہتر ”عیسائی“ ہیں۔“ اسی طرح ایک جرمن مصنف نووالس کے ناول Heinrich Von Of Terdinen میں ایک خانہ بدوش عرب خاتون تعجب کا اظہار کرتی ہے۔ ”میں یہ نہیں سمجھ پائی کہ عیسائی مسلمانوں سے کیوں لڑتے ہیں حالانکہ مسلمان عیسیٰؑ کی قبر کا بے حد احترام کرتے ہیں اور انہیں پیغمبر مانتے ہیں۔“
پادری ٹیری جونز درگزر کے حوالے سے حضرت عیسیٰؑ کی اس تعظیم سے لاعلم تھا کہ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی پیش کر دو۔ یہ بزدلی کا نہیں بلکہ انکساری کے ایسے اظہار کی تلقین ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں دوسرے پر ایسا نفسیاتی اثر پڑے گاکہ وہ نہ صرف شرمندہ ہوگا بلکہ تائب بھی ہو جائے گا۔ مسیحؑ کا سچا پیروکار ہونے کے دعویدار کیلئے تعلیمات مسیحؑ پر عمل ضروری ہے۔
 قرآن حکیم کی توہین سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کیا اس تعلیم سے مطابقت رکھتی ہے؟ جہاں تک مختلف وقفوں کے ساتھ خاکے اور کارٹون شائع کرنے کا تعلق ہے۔ اس حوالے سے مثبت سوچ رکھنے والے مسلمان اور عیسائی دانشوروں کو شعور کی روشنی پھیلانے کی ایسی مہم شروع کرنی چاہئے جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کے ا حترام کی بنیاد پر بقائے باہمی کے سمجھوتے کی راہ نکل آئے۔ یہ خاکے اور کارٹون کیونکہ اخبارات و رسائل میں شائع کئے جاتے ہیں‘ ایک تجویز ہے۔ اے پی این ایس کی جانب سے امریکی اور یورپی اخبارات و رسائل کے ایڈیٹروں اور پبلشروں کو خطوط لکھے جائیں کہ وہ پیغمبر اسلام کو بے شک تسلیم نہ کریں مگر توہین بھی نہ کریں۔