مذہب‘ سیاست اور ریاست

کالم نگار  |  نعیم قاسم
مذہب‘ سیاست اور ریاست

آج پاکستان کی ریاست کو مذہبی انتہاپسندی کی وجہ سے جس دہشتگردی کا سامنا ہے‘ اس کی بڑی وجہ مذہب اور ریاست کے تعلق کے حوالے سے بطور قوم ہم نے جو لائحہ عمل اختیار کیا اور ہمارے حکمرانوں خصوصاً ضیاءالحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ”سیاسی اسلام“ کا جو نعرہ متعارف کرایا اور اس کی بنیاد پر ہماری ریاست نے ملا کے ہاتھ میں کاشنکوف پکڑا کر اپنی سرپرستی میں افغانستان میں کمیونزم کو شکست دینے کیلئے استعمال کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب مذہب کے نام پر سیاست کرنیوالی جماعتوں کو فوجی آمروں نے اقتدار میں شریک کار کیا تو انکے دل میں یہ تمنا بیدار ہوئی کہ اگر کوئی بھی فوجی آمر چاہے وہ مولوی ضیاءالحق ہو یا پرویزمشرف انکی حمایت کے بغیر اقتدار قائم نہیں رکھ سکتا تو کیوں نہ وہ بندوق کے زور پر پاکستان میں مذہب کی قوت استعمال کرکے مذہبی پیش رفت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہو جائیں۔ پاکستان میں مذہب کے نام پر سیاست کرنیوالے ایسا کیوں خیال کرتے ہیں اسکی بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اگر تحریک پاکستان کا اصل محرک برصغیر کے مسلمانوں کی معاشی آزادی تھا مگر جب تحریک پاکستان کو کامیابی دو قومی نظریے کی بنیاد پر ملی تو پھر کیسے پاکستان کی تعمیروترقی سے مذہب کے عنصر کو خارج کر سکتے تھے۔ قائداعظم کے بنیادی سلوگن کی بنیاد یہ دعویٰ تھا چونکہ ہم مسلمان ہیں اور اپنا الگ ضابطہ حیات رکھتے ہیں اس لئے ہمیں ایک قوم کا درجہ دیا جانا چاہئے نہ کہ مسلمانوں کو برصغیر میں اقلیت سمجھا جائے۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ قائداعظم نے تحریک پاکستان کے دوران متعدد مواقع پر کہا کہ ہم نئے ملک کی تعمیر اور دستور سازی میں قرآن اور اسلام سے رہنمائی لیں گے۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد جب آئین سازی کا عمل تعویق اور تاخیر کا شکار ہوا تو یہ بحث شروع ہو گئی کہ پاکستان کے دستور کے خدوخال کیا ہونگے اور اسلام کا اس عمل میں کیا کردار ہوگا مگر بدقسمتی سے اس وقت کے حکمرانوں میں اتنی اہلیت ہی نہ تھی کہ وہ حقیقی اسلام کو پاکستانی قوم کی حیات اجتماعی کیمطابق تشکیل دینے کیلئے اقدامات اٹھاتے۔
اگرچہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور دوسرے جید علماءکی کاوشوں اور دباﺅ سے 12 مارچ 1949ءکو قرارداد مقاصد تو منظور ہوگئی مگر پاکستان کو حقیقی فلاحی اسلامی ریاست بنانے کی طرف قطعی اقدامات نہ اٹھائے گئے جسکے نتیجے میں مختلف مذہبی جماعتوں نے اپنی اپنی مذہبی اور فرقہ وارانہ تعبیروں سے پاکستان کے مسلمانوں کو مختلف مسلکوں اور گروہوں میں تقسیم کر دیا جس کی وجہ سے ہمارے حکمرانوں نے ملاﺅں کے ڈر سے انکے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا اور مذہبی جماعتوں کی مسلک کی بنیاد پر سیاسی حمایت حاصل کرنے لگے۔ جب اسٹیبلشمنٹ نے یہ دیکھا کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر اقتدار پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا جا سکتا ہے تو سب سے پہلے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے ہماری سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر اسکو بھٹو کیخلاف استعمال کیا حالانکہ بھٹو نے مذہبی طبقے کو خوش کرنے کیلئے 1973ءکے آئین میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا۔
 شراب اور جوئے پر پابندی لگائی۔ جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا اور پاکستان میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا مگر 1977ءمیں بھٹو حکومت کو ختم کرنے کیلئے الیکشن میں دھاندلی کی تحریک کو نظام مصطفی تحریک کا نام دیکر مذہب میں تشدد کے عمل کا آغاز کردیا گیا۔
 نوجوان سینے کھول کر اور کلمہ طیبہ بلند کرتے ہوئے ریاستی اہلکاروں سے ٹکرا جاتے۔ چنانچہ 5 جولائی 1977ءکو نظام مصطفی کے نفاذ کے نام پر جنرل ضیاءالحق اقتدار میں آئے اور 11 سال تک اپنے اقتدار کا واحد جواز بھی پیش کرتے رہے کہ وہ اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں مگر وہ عملاً امریکہ کے پٹھو بن کر افغانستان میں ملا ملٹری الائنس قائم کرکے سوویت یونین کی فوجوں کو واپس بھجوانے میں کامیاب ہوگئے مگر اس دوران مذہب کے نام پر جب ملٹری تنظیمیں قائم ہو گئی تھیں جنہیں سی آئی اے نے ہتھیار اور تربیت دی تھی وہ کیسے آسانی سے تحلیل ہو جاتیں۔
ضیاءالحق کی ہلاکت کے بعد جنرل نصیراللہ بابر نے مجاہدین کو شکست دینے کیلئے طالبان کو منظم کیا اور پھر 9/11 کے بعد مشرف ڈبل گیمز کھیلتے رہے۔ ایم ایم اے کو قائم کرکے مذہبی عناصر کو شریک اقتدار کیا اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کیساتھ مل کر انکے جنگی حمایتیوں کیخلاف باامر مجبوری آپریشن بھی شروع کر دیئے جس کے نتیجے میں پاکستان میں مذہب کے نام پر ہزاروں مدرسے قائم کئے گئے۔ انہی مدرسوں کے طلباءکو جہاد کے نام پر افغانستان اور کئی دوسرے بارڈرز پر رضاکارانہ فوجی گوریلوں کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا جس کے نتیجے میں آج پاکستان میں ریاست اس حد تک ناکام ہو چکی ہے کہ ہر لحاظ سے اسے ناکام ریاست قرار دیا جا سکتا ہے۔ پوری قوم عدم تحفظ کا شکار ہے۔
ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ہم اپنی حفاظت کا خود بندوبست کریں جبکہ وہ خود مذہبی تشدد اور انتہاپسندی کا پرچار کرنیوالوں کے حلیف بنے ہوئے ہیں۔ سوائے الطاف حسین صاحب کے کسی بھی سیاسی رہنما میں اس قدر جرا¿ت اور غیرت نہیں ہے کہ وہ مذہبی دہشت گردوں کا نام لیکر مخالفت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی پشاور آرمی پبلک سکول میں آمد پر معصوم شہید بچوں کے والدین کے جذبات بڑے مشتعل ہوگئے کیونکہ آج بھی یہ حقیقت ہے کہ عمران خان‘ سراج الحق‘ مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمن کو طالبان کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ جلسے جلوس اور ریلیاں کریں۔ ان ”طالبان خانوں“ کیلئے ہر طرف”ستے خیراں“ ہیں۔ اسی طرح عام لوگوں کے سکولوں اور شیعہ کمیونٹی کی امام بارگاہوں‘ عام لوگوں اور خصوصاً وہ مساجد جہاں افواج پاکستان کے افراد نمازیں پڑھتے ہیں‘ وہاں پر دہشت گردی کے خطرات ہیں سوائے شیعہ حضرات کے مدرسوں کے ملک کے تمام مدارس ماشاءاللہ دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ ہیں۔
آج جب ہماری مذہبی جماعتوں اور انکے بندوق بردار حمایتیوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں اپنے مسلک‘ اپنے نظریے اور اپنی سوچ و فکر کو بزور بندوق نافذ کرنا ہے تو پھر کیسے یہ ملک مستقبل میں قائداعظم اور علامہ اقبال کے ان تصورات کیمطابق ڈھل سکتا ہے جسکے مطابق پاکستان کو ایک ایسی اسلامی ترقی یافتہ فلاحی جمہوری ریاست بنانا تھا جہاں اہل مذہب اپنے جامد نظریات کے خول میں نہ گھرے رہتے۔ حکمران محض اسلام کا نام اپنے اقتدار کو دوام اور سٹیس کو کو برقرار رکھنے کیلئے استعمال نہ کرتے ہوں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اسلام کو قرآن کی بنیاد پر ضابطہ حیات کی بجائے مختلف مسلکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ آج وہ لاکھوں بچے جو مختلف مدارس میں مخصوص مسلک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں‘ وہ چونکہ اپنے مسلک کا مبلغ تو بن سکتے ہے مگر عملی زندگی میں وہ معاشرے میں تعمیری شہری بننے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے انکے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں یا تو وہ بندوق اٹھا لیں اور نظریات کے نام پر دوسروں پر اپنی بالادستی قائم کرلیں اور معاشی حالات بھی درست کر لیں یا پھر وہ معاشرے سے بے گانہ ہوکر اجنبیت اور تنگدستی کی زندگی بسر کرتے جائیں۔
جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ روایتی کالجوں‘ سکولوں اور یونیورسٹیوں سے بھی ایسے افراد دہشتگردی کی کاررائیوں میں حصہ لیتے ہیں تو اسکے پیچھے بھی تکفریت کے وہ نظریات کارفرما ہیں جو مسلک کی بنیاد پر جدید تعلیم یافتہ افراد کو بھی القاعدہ اور داعش کا حمایتی بنا دیتے ہیں مگر اس میں فرق یہ ہے کہ مدرسوں کے بچے معصوم اور سادہ لوح ہوتے ہیں۔ انکے ناپختہ ذہنوں کو اپنے نظریات کا اسیر بنانے کیلئے اس انداز میں (Indoctrination) کی جاتی ہے کہ وہ خودکش بمبار بھی بن جاتے ہیں جبکہ وہ جدید تعلیم یافتہ افراد جو مذہب کے نام پر القاعدہ اور داعش کا حصہ بنتے ہیں مکمل عقل اور شعور سے اس فلسفے کو اپنانے ہیں وہ بنیادی طورپر اسامہ بن لادن‘ ایمن الظواہری اور داعش کے سربراہ ابوبکر کی طرح ان تنظیموں کے روح رواں ہوتے ہیں۔ دولت‘ شہرت‘ طاقت انکے قدموں میں ہوتی ہے اور ایسا انسانی تاریخ میں خارجیوں‘ کرامطیوں اورحسن بن صباح کے فدائیوں سے شروع ہوکر آج کی القاعدہ‘ بوکوحرام اور تحریک طالبان تک جا پہنچتا ہے۔
چونکہ ہمارے ملک میں اہل حکومت آج تک ”سنت“ ”حدیث“ اور ”مسلمان“ کی ایک تعریف پر متفق نہیں ہو سکے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ دہشتگردی کی تعریف پر بحیثیت مجموعی اتفاق کر لیں لہٰذا آج وہ وقت آگیا ہے کہ ریاست قرآن کریم کی بنیاد پر ایک ایسا ضابطہ قوانین مرتب کرے جس کا اطلاق تمام مسلمانوں پر یکساں ہو اور اسی کے تحت تمام مساجد‘ مدرسے‘ سکول اور کالجوں میں اسلام کی حقیقی تصویرکشی کی جائے۔
٭....٭....٭