آزادی رائے کی آڑ میں عالمی جنگ کا خدشہ

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....
آزادی رائے کی آڑ میں عالمی جنگ کا خدشہ

ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی دینی تعلیمات کو انسانی حقوق‘ حقوق نسواں‘ آزادی اظہار رائے اور اب کھلم کھلا دہشت گردی کا نام دیکر مسخ کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔
لیکن جب برطانیہ میں مسلمانوں کی مساجد پر حملے ہوتے ہیں‘ فرانس میں مسلمانوں کا جینا محال کر دیا جاتا ہے۔ بھارت میں ایک ہی دن میں ہزاروں مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں داڑھی رکھنے والے اور مسلمان نام کے حامل افراد کی ایئر پورٹس پر توہین کی جاتی ہے تو اس وقت ان تمام حرکتوں سے نہ تو انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں‘ نہ ہی حقوق نسواں پر کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو آزادی¿ اظہار کا حق دیا جاتا ہے بلکہ اس سلسلے میں آواز بلند کرنے والوں کو ”بنیاد پرست“ اور ”دہشتگرد“ قرار دیا جاتا ہے۔ مسلمان ممالک میں اقتدار پر براجمان شخصیات مذہبی منافرت کی بنیاد پر ہونیوالے عوامل پر اس قدر مو¿ثر آواز بلند نہیں کرتیں جس قدر سازش کو ناکام بنانے کیلئے اس وقت ضرورت ہے اور بعض مسلم حکمران تو مسلمانوں کے ردعمل کی صورت میں ہونیوالے واقعات کی مذمت میں آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔
فرانس کے جریدے نے پہلے جب توہین آمیز خاکے شائع کئے تو مسلمانوں نے بھرپور احتجاج ریکارڈ کیا لیکن احتجاج صرف عوام کی سطح پر نظر آیا اور مسلم حکمران اس میں موثر طریقے سے شامل نہیں ہوئے۔ جس کی وجہ سے فرانس کے اس جریدے نے معافی مانگنے یا آئندہ اس طرح کی حرکت سے باز آنے سے انکار کر دیا۔ اب عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ نے بھی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرکے اس فعل سے منع کیا ہے۔ فرانس اگر مسلمانوں کے احتجاج کو خاطر میںنہیں لا رہا تو پوپ فرانس کی ہی بات مان لے۔ مسلمانوں کے مذہب اور اسلامی شعائر کی توہین کرنے کا کسی کو حق نہ ہی دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر مسلمان خاموش رہیں گے۔ مسلمان تو پرامن بقائے باہمی کے تحت زندگی گزارنے کے اصول کے پابند ہیں اور ہمارے دین نے ہمیں مذہبی آزادی کی تعلیم دی ہے۔ کبھی کسی مسلمان اخبار نے کسی دوسرے مذہب کے بنیادی عقائد اور تعلیمات کی توہین نہیں کی اور نہ ہی ہمارا دین اسکی اجازت دیتا ہے۔ اگر کسی مسلم جریدے کی جانب سے اس طرح کی حرکت کی جاتی تو کیا اسکے پیروکار خاموش رہتے؟ کیا وہ معافی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا مطالبہ نہ کرتے؟ میرے خیال میں قطعی طور پر ایسا نہیں ہے۔
دنیا میں مسلم اور غیر مسلم کیلئے الگ الگ معیار مقرر ہیں اور اس سلسلے میں او آئی سی بھی اپنا دینی فریضہ سرانجام دینے سے قاصر نظر آتی ہے اور مسلم دنیا کے حکمران یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ نعوذ باﷲ اقتدار دینے والا امریکہ ہے اور اگر اسکی ناراضگی ہم نے لی تو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑینگے۔ ہمارے عقیدے کمزور اور دین سے ہمارا لگاﺅ کم ہوتا چلاجا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پشاور میں سینکڑوں بچوں کی شہادت پر پورا دنیا کے مسلمان سڑکوں پر آ جاتے اور یہ پیغام ملتا کہ مسلمان چاہے دنیا میں کہیں بھی رہائش پذیر ہیں‘ وہ ایک قوم ہیں۔ اب فرانسیسی جریدے کی جانب سے ایک بار پھر ہٹ دھرمی و بے شرمی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور ایک بار پھر توہین آمیز خاکے شائع کر کے لاکھوں کی تعداد میں کاپیاں تقسیم کی گئی ہیں اور واضح پیغام دیا گیا ہے کہ توہین جاری رہے گی اور تم نے جو کرنا ہے کر لو۔
وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے فرانسیسی جریدے کی اس ناپاک جسارت پر کہا ہے کہ کسی کو بھی آزادی اظہار کے نام پر کسی کے مذہبی جذبات کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح تمام عالم اسلام کو اس موقع پر او آئی سی کی ہنگامی میٹنگ طلب کر کے دنیا میں اسلام اور کفر کے درمیان معرکہ آرائی پر اپنا متحدہ موقف پیش کرنا لازم تھا۔ اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ مسلمان بے حس ہو چکے ہیںتو ان کی یہ رائے صرف مسلم حکمرانوں کے کردار کی عکاسی کرتی ہو گی لیکن عالم اسلام اس پر کسی بھی طریقے سے خاموش نہیں رہ سکتا۔
اقوام متحدہ کو آزادی اظہار رائے کے بارے میں جامع قانون سازی کر کے تمام ممالک کو اس پر عملدرآمد کا پابند کرنا ہوگا ورنہ اقوام متحدہ خود ہی دنیا میں تیسری عالمی جنگ کی ذمہ دار ہو گی۔ اگر اقوام متحدہ آزادی اظہار رائے کی حدود طے نہیں کرتی اور اس بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے تواس کا ردعمل سخت ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کیلئے الگ معیار مقرر کر دیئے گئے ہیں اور غیر مسلموں کیلئے الگ معیار ہیں لیکن مسلم ممالک کے حکمران اب بھی خاموش ہیں۔ فرانسیسی اخبار کی جانب سے بار بار اسلام کی توہین پر غم و غصہ ایک فطری عمل ہو گا اور فرانس کیخلاف مجرمانہ خاموشی اختیار کرنیوالے ایسے دانشوروں کیخلاف بھی ردعمل آ سکتا ہے جو پیرس میں اخبار پر حملے پر لمبی چوڑی تحریریں لکھتے رہے اور اب اسلام کی توہین پر ان سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا جا رہا۔