نئے چیلنجز

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
نئے چیلنجز

سب سے پہلے تو میں قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ چار سال کے صبر آزما لمحات کے بعد بالآخر قوم کو جناب خواجہ آصف صاحب کی شکل میں وزیر خارجہ مل ہی گیا۔ پچھلے چار سالوں میں وزیرِ خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کچھ اہم کامیابیاں حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو اس کا حق تھا۔بد قسمتی سے اسوقت پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر بھی کئی ایک مسائل سے دوچار ہے۔ ہمارے اردگرد ہمارے پڑوسی بھی ہم سے ناخوش ہیں۔ہمیں زک پہنچانے کےلئے بھارت نے ہمارے مسلمان پڑوسیوں کو بھی دوستی کے جال میں پھنسا کر ہمیں گھیر رکھا ہے۔ نتیجتاً ہمارے یہ مسلمان پڑوسی بھی بھارت کی ہاں میں ہاں ملا کر ہمارے مفادات کےخلاف کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔امریکہ مکمل طور پر بھارت کی گود میں ہے ۔پاکستان کےخلاف بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ بھی امریکہ کی سربراہی میں کام کررہا ہے ۔عرب ممالک بھی پاکستان سے زیادہ بھارت کے قریب ہیں اور بھارت کی دوستی کا دم بھرتے ہیں۔ بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک سپر پاور بنانے کیلئے امریکہ اور امریکی حواریوں نے اپنے ہتھیاروں کی فیکٹریوں کے گیٹ کھول دئیے ہیں۔بھارت اسوقت سعودی عرب کے بعد ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
مزید یہ کہ بھارت کی حتی الوسع کوشش ہے کہ پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک قرار دلوا کر دنیا میں تنہا کرا دیا جائے۔ چین اور بھارت میں بھوٹان کی سرحدی پٹی پر چپقلش چل رہی ہے ۔دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ بہرحال چین نے وہاں سے بھارتی فوجیں ہٹانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے ۔دیکھیں کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ویسے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات بڑھکیں مارتے رہے ہیں کہ وہ بیک وقت چین اور پاکستان کیخلاف جنگ جیت سکتے ہیں ۔اس غلط فہمی اور بیوقوفانہ خود اعتمادی کی وجہ سے امید نہیں کہ بھارت چین کے سامنے سے اپنی فوج ہٹائے گا۔
اس خطے میں ایک اور اہم ڈویلپمنٹ روس اور امریکی تعلقات ہیں۔ امریکیوں کو اعتراض ہے کہ روس نے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں دخل اندازی کی ہے۔یہ اعتراضات بڑھتے بڑھتے سرد جنگ کی صورت اختیار کر گئے ہیں ۔لہٰذا روس کےخلاف امریکی کانگرس نے نئی پابندیاں لگا دی ہیں۔ان پابندیوں کی وجہ سے ماسکو اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔روس کے صدر ولا دی میر پیوٹن نے غصے میں آکر ملک سے 755امریکی سفارتی عملے میں کمی کی ہدایت کر دی ہے ۔یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔
پاکستان اسوقت تاریخ کے بڑے نازک موڑ پر ہے ہر طرف مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں ۔امریکہ جو اسوقت دنیا کی واحد سپر پاور ہے ۔افغانستان میں اپنی تمام تر ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے۔ حالانکہ پاکستان امریکہ کی جنگ 1979یعنی اسوقت سے لڑرہا ہے جب روس افغانستان میں داخل ہوا تھا۔ پاکستان امریکہ کیلئے اب تک 60ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانیوں کی قربانی دے چکا ہے اور سوا ارب ڈالرز سے زیادہ کا اپنا انفراسٹرکچر تباہ کرا چکا ہے لیکن امریکہ اس پر بھی خوش نہیں۔ہر وقت ”ڈو مور۔ڈومور“ کی رٹ لگا رکھی ہے۔
اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کیلئے نئی پالیسی بنا رہے ہیں ۔نئی امریکی پالیسی امریکی سینٹ میں پیش کی جا چکی ہے جہاں پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کیلئے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف دوہری حکمت عملی اپنانے کی تجویز پیش ہوئی ہے۔ امریکی سینٹ نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلقات میں پابندیوں کی دھمکیوں اور طویل المدت شراکت داری کی پیشکش کی جائے۔ دونوں پیشکشوں کے بیک وقت استعمال سے پاکستان کو انڈر پریشر لایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ علاقے کے دیگر ممالک مثلاً افغانستان، پاکستان،چین بھارت، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان وغیرہ کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات بہتر بنائے جائیں۔افغانستان میں امن لانے کےلئے ان ممالک سے بھی مذاکرات کئے جائیں۔
امریکہ کو پاکستان کےخلاف تین بڑی شکایات ہیں۔ اول :افغانستان کی صورت حال ہے۔ امریکہ جب 2001 میں افغانستان میں داخل ہوا تھا تو امریکہ کا خیال تھا کہ چند ماہ میں ہی طالبان کا صفایا کر کے افغانستان میں اپنی پٹھو حکومت قائم کر کے واپس آجائینگے۔امریکہ کو اپنی ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کا بڑا زعم تھا لیکن جیسے دانا لوگ کہتے ہیں کہ ” انسان سوچتا کچھ ہے لیکن قدرت کی طرف سے ہو کچھ اور جاتا ہے“۔یہی کچھ امریکہ کیساتھ بھی ہوا ۔امریکہ نے افغانستان میں بمباری کر کے پورا ملک تباہ کر دیا ۔لاکھوں کے حساب سے لوگ لقمہ اجل بنے۔ لاکھوں معذور ہوئے۔ امریکی اور بھارتی پٹھو ناردرن الائنس کے لوگ اقتدار میں بھی آگئے۔طالبان وہاں سے بھاگ کر پاکستان کے علاقے فاٹا میں آگئے لیکن زیادہ تر وہیں زیرِ زمین چلے گئے۔کچھ عرصہ بعد طالبان نے دوبارہ اپنے آپ کو منظم کیا اورخم ٹھونک کر دوبارہ امریکہ کے سامنے آگئے۔یہ لڑائی پچھلے سولہ سالوں سے جاری ہے۔ اب سترواں سال شروع ہو چکا ہے امریکہ اپنی اور اپنے اتحادیوں کی تمامتر طاقت استعمال کرنے کے باوجود طالبان کو شکست نہیں دے سکا۔ افغان فوجیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔فتح کی کوئی صورت مستقبل میں بھی نظر نہیں آتی۔
امریکہ کو پاکستان کیخلاف دوسری چڑ یہ ہے کہ پاکستان چین کے بہت قریب ہو رہا ہے۔ چین اس وقت دنیا میں معاشی طور پر اور عسکری طور پر ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے۔ چین ہرطرف اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔چین نے سنٹرل ایشیائ، جنوبی ایشیائ،مشرق وسطیٰ،افریقہ اور یورپ کو قریب لانے کیلئے ”ایک خطہ ایک سٹرک“ کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین مستقبل میں 68ممالک میں 3 ٹریلین ڈالرز خرچ کرکے ان ممالک کا انفراسٹرکچر اور معاشی حالت بہتر بنانا چاہتا ہے۔ لہٰذایہ تمام ممالک نہ صرف ایک دوسرے کے قریب آجائینگے بلکہ ایک ہی لڑی میںپروئے جائینگے۔چونکہ ترقی کے تمام راستے چین سے شروع ہو کر چین کی طرف جائینگے لہٰذا ان ممالک کی قیادت چین ہی کے ہاتھ میں ہوگی۔ اسی لیے امریکہ کو خطرہ ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے سامنے امریکی طاقت اول تو ختم ہو جائیگی ورنہ مدھم ضرور پڑ جائیگی۔ لہٰذا چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کےلئے امریکہ ہندوستان کو تیار کر رہا ہے لیکن ہندوستان اتنا ہو شیار ہے کہ وہ ظاہری طور پر چین کیخلاف کئی کاروائیاں کرےگا لیکن حقیقت میں وہ چین کیخلاف کبھی ٹکر نہیں لے گا۔پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ پاکستان میں مداخلت کرکے دہشتگردی کر رہا ہے۔ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ امریکہ پرو بھارت ہو چکا ہے لہٰذا پاکستان اور چین کی دوستی اور قربت ایک فطری امر ہے جو نہ بھارت کو پسند ہے نہ امریکہ کو۔
امریکہ کو پاکستان کیخلاف تیسری بڑی شکایت چین کی مدد سے پاکستان چین اقتصادی راہداری کی تعمیر ہے جس سے ترقی کی بہت سی راہیں کھلیں گی۔ بحر ہند اور سنٹرل ایشیا کے درمیان تجارت کا سب سے چھوٹا اور محفوظ راستہ یہ اقتصادی راہداری ہی ہوگا۔ اسی لئے بہت سے ممالک ابھی سے اس منصوبے میں شراکت کے خواہشمند ہیں۔ اس راہداری کی تعمیر و تکمیل معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ پاکستان ایک مضبوط ملک بن کر ابھرے گا اور یہ چیز بھارت اور امریکہ دونوں برداشت نہیں کر سکتے۔ بھارت نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے ”را“ کی زیر نگرانی ایک سپیشل ڈیسک قائم کر دیا ہے جو اس منصوبے کیخلاف دن رات کام کر رہا ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں دہشتگردی بڑھ رہی ہے۔
کلبھوشن یادیو کو بھی اسی مقصد کیلئے بلوچستان بھیجا گیا تھا۔ بھارتی عداوت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بھارت نے ایران میں گوادر پورٹ کے مقابلے میں ”چاہ بہار پورٹ“ تعمیر کی ہے اور ہماری اقتصادی راہداری کے مقابلے میں یہ راستہ ایران، افغانستان ،سنٹرل ایشیا اور روس تک تجارت ممکن بنائے گا۔ اخباری اطلاع کے مطابق اگلے سال اسکا افتتاح ہونیوالا ہے لہٰذا ہمیں بھارت کی تخریبی کارروائیوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ اس وقت پاکستان کے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں اور ان چیلنجز سے نبٹنے کےلئے ہمیں ایک مضبوط خارجہ پالیسی اور فعال وزیر خارجہ کی سخت ضرورت ہے۔