مذہب اور مذہبی فرقہ واریت کے درمیان فرق

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری

ضعیف و ناتواں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے گزشتہ روز ایک پریس بریفنگ میں صاف و شفاف انتخابات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کچھ نئے اصول و ضوابط کا اعلان بھی کیا جن میں اہم ترین بات یہ تھی کہ ”آئندہ الیکشن میں مذہب اور فرقہ پرستی کے نام پر ووٹ مانگنا قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے“۔ اس بیان کی مزید وضاحت تاحال میری نظر سے نہیں گزری البتہ اس پر بعض سیاسی اور مذہبی شخصیات کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جس سے ابہام مزید بڑھ گیا ہے۔ اس سے ایک طرف تو نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ہمارا انتخابی نظام کرپشن جیسی دیگر خرابیوں کیساتھ ساتھ ملک کو سیکولرازم کی طرف لے کر جانا چاہتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے میں آخر کیا قباحت ہے خصوصاً اس ملک میں جومذہبی بنیادوں پر ہی ووٹ ڈال کر حاصل کیا گیا ہے۔ البتہ الیکشن کمیشن کے اس ضابطے کا تیسرا اور قابل فہم پہلو یہ ہوسکتا ہے کہ چونکہ ہمارے ملک میں فرقہ پرستی شدت اختیار کرتی جارہی ہے اس لئے انتخابی مہم میں کسی قسم کی تفرقہ پروری اور مذہبی منافرت نہیں ہونی چاہئے۔ غالب گمان یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے پیش نظر یہی تیسرا پہلو ہوگا مگر ترجمان نے جن کلمات کے ساتھ اس کی تشریح کی ہے اس سے ابہام پیدا ہوتا ہے اور مختلف طبقات میں بے چینی پھیل رہی ہے اس لئے الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ فوری طور پر اس نکتے کی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں تشریح کرے۔ اس سلسلے میں ہماری گزارشات درج ذیل ہیں:٭پاکستان ایک نظریاتی اسلامی جمہوریہ ہے۔ اس نظریئے کی اساس چونکہ اسلام ہے اس لئے اگر اسکے انتخابات سے اسلام پسندی کا عنصر نکال دیا جائے تو پھر سیکولر ازم ہی رہ جاتا ہے جو معروف معنوں میں لادینیت کہلاتا ہے۔ یورپ سمیت دنیا کے متعدد ممالک سیکولر سٹیٹ کہلاتے ہیں جہاں مذہبی آزادی ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ اسکے باوجود اسرائیل جیسا صہیونی ملک خالص مذہبی اور نظریاتی ملک کے طور پر اپنا وجود منوانا چاہتا ہے۔ امریکہ میں آج بھی صدارتی انتخابی مہم میں مذہب ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا فی نفسہ کوئی جرم ہے نہ جمہوری اخلاقیات کے منافی۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مذہبی شخصیات اور جماعتیں مذہب کا خودساختہ ماڈل متعارف کرواتی ہیں اور اسے حرف آخر کے طور پر دوسروں پر تھوپنا چاہتی ہیں۔ فی نفسہ مذہب کوئی بری چیز نہیں بلکہ یہ تو مطلوب قدرت ہے جبکہ مذہبی فرقہ بندی مزموم و ممنوع۔ مذہب اسلام انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی اور آخری نعمت ہے جبکہ مذہبی فرقہ پرستی کی شکل انسان اور معاشرے کیلئے مضر ہے۔ جب ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو پھر ان کو ایک ہی جملے میں ذکر کرکے ممنوع قرار دیناجہالت بھی ہے اور باعث شرو فتنہ بھی۔ رہ گیا مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا تو اس کیخلاف قانون سازی پاکستان کی اساس اور بنیاد کیخلاف قانون سازی ہوگی۔ الیکشن کمیشن جانبدار اور کمزور سہی مگر تاریخی حقائق سے اس قدر بھی نابلد نہیں کہ وہ نظریہ پاکستان کی بنیاد کو ہی چیلنج کردے۔ تحریک پاکستان کے دوران سب سے زیادہ مقبول و معروف نعرہ آج بھی مینار پاکستان کے سامنے آزادی چوک کی دیوار پر قدِ آدم الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ نظریہ پاکستان کی اس سے بڑی وضاحت اور کیا ہوگی۔ آج کل کچھ دانشور سیکولر فکر کے پرچار میں نظریہ پاکستان کی اصطلاح کو یحییٰ خان کے دور کی اختراع قرار دے رہے ہیں۔ نظریہ پاکستان کی وضاحت اور تحقیق چونکہ ہمارا موضوع نہیں بلکہ ہم مذہب اور مذہبی فرقہ پرستی کے باہمی فرق کو واضح کرنا چاہتے ہیں اس لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس مبہم بیان کو اگر یہ مفہوم دیا جائے کہ ”پاکستان کے قومی اور صوبائی الیکشن میں کسی شخص یا جماعت کے فرقہ پرستانہ بنیادوں پر ووٹ مانگنے کے عمل کو قابل سزا جرم قرار دیا جارہا ہے“ تو یہ قومی اور مذہبی تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ بہت سی مذہبی سیاسی جماعتیں مخصوص مسلکی شناخت رکھتی ہیں اور وہ ووٹ بھی اسی شناخت کی بنیاد پر حاصل کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے اس رحجان میں بوجوہ اضافہ ہورہا ہے جس کے رد عمل میں حال ہی میں کچھ جماعتیں نئی رجسٹرڈ ہوئی ہیں جو الگ الگ انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن مہم چلانے جارہی ہیں اور ان میں سے بعض نے دیگر ہم خیال قومی یا علاقائی سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ہم نے انہی ادارتی مضامین میں کئی مرتبہ پاکستان کے جان لیوا امراض میں مذہبی انتشار اور فرقہ پرستی کو سرفہرست مرض قرار دیا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ مذہبی فرقے جتنی آزادی کے ساتھ ہماری سرزمین پر پھلے پھولے ہیں اسی قدر ”بہادری اور آزادی“ کیساتھ انہوں نے ایک دوسرے کا خون بھی بہایا ہے۔ اگر ہر مذہبی فرقے اور مسلک کو ووٹ مانگنے کی اجازت مل جائے اور لوگ انہیں اسی بنیاد پر قانون ساز اداروں میں بھیجنا شروع کردیں تو انکی قانون سازی اور حکمت عملی بھی فرقے اور مسلک کی بنیاد پر ہوگی۔ کیا پہلے یہاں صوبائی، لسانی، نسلی اور قبائلی انتشار کم ہے جو سیاست بھی فرقوں کی بنیاد پر کی جانے لگی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف اس ملک بلکہ پورے خطے کیلئے نہایت سنگین خطرات کا پیش خیمہ ہوگااور ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اندر بھی مذہبی لوگ ایک دوسرے کی سرپٹھول کیا کرینگے۔ لہذا اس رحجان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ خود اسلام، مذہب اور مسلک کے اجتماعی وجود کیلئے بہتر ہوگا۔ میں یہاں ایسی نئی جماعتوں اور سیاسی گروہوں کا نام لے کر ذکر نہیں کرنا چاہتا مگر سب جانتے ہیں کہ ہر مسلک میں کئی کئی دھڑے انتخابی سیاست میں اتر چکے ہیں۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز صورت حال ہے اس لئے قانون نافذ کرنے والے قومی اور صوبائی اداروں کا فریضہ ہے کہ وہ ایسی جماعتوں کو بین کردیں جو مخصوص مسلکی بنیادوں پر ووٹ مانگ رہی ہیں۔ پاکستان مخالف اور دین دشمن قوتوں نے یہاں فرقہ واریت پر خاصا سرمایہ لگا رکھا ہے اور انہیں اپنی توقعات سے کہیں زیادہ نتائج حاصل ہورہے ہیں۔ اس لئے سیاست اور جمہوریت کو اس فرقہ پرستی سے الگ رکھنا ہمارے فرائض ملی میں شامل ہے۔