بیجنگ میں پاکستان کو مجرم ثابت کرنے کی ناکام سازش

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
بیجنگ میں پاکستان کو مجرم ثابت کرنے کی ناکام سازش

پاکستان کے نمک میں تاثیر نہیں، اس میں کو ئی اثر نہیں کہ جو جتنا زیادہ کھاتا ہے اتنا ہی گہرا زخم لگاتا ہے۔ بیجنگ میں آخری دن بہت کچھ بے نقاب کرگیا۔ چینی دفتر خارجہ کی بریفنگ میں سافما کے کہانی کار پاکستان کیخلاف اپنا خْبثِ باطن بالکل عیاں کر گئے بلکہ تمام روایات کو پامال کرتے ہوئے اپنے مہربان چینی میزبانوں پر بھی گھسے پٹے الزامات لگانے سے باز نہیں آئے۔ ان کا طریقہ واردات یہ کہ اونچی آواز میں لغویات کے سہارے سارے وفد کو یرغمال بنا لیتے ہیں جس میں انگریزی پر دسترس اور روانی سے بھی خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سوالات کاآغاز ہوتے ہی نہایت بدتمیزی سے دیگر ساتھیوں کو پس پشت ڈال کر لایعنی بحث مباحثہ شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی پراپیگنڈے کو بیجنگ میں آگے بڑھاتے ہوئے سوال داغا کہ چین نے جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد کو دوبارہ ویٹو کرکے دہشت گردی کے معاملے میں دہرے معیار اور منافقت کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ برکس اعلامیے میں چین نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی تھی جس پر چینی دفتر خارجہ کے قونصلر، ڈائریکٹر ایشیا ڈویژن چن فنگ نے بڑے دھیرج اور ہموار لہجے میں جواب دیا کہ چین مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد نہیں سمجھتاBRICS رکن ممالک تنظیم کے دہشت گردی کے خلاف اعلامیے کے بعد مولانا مسعود کیخلاف قرارداد ویٹو کرنا ہماری پالیسی کا تضاد نہیں ہے کیونکہ برکس تنظیم کے ارکان نے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا ۔ جواں سال اور وسیع المطالعہ مدیر کاظم خان نے ماحول کو نارمل کرنے کے لئے پوچھا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کی سب سے زیادہ تکلیف کس کو ہوئی ہے جس پر چینی ترجمان نے بھی بھارتی شردھالو سے ترنت حساب برابر کرتے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے شدید تکلیف ہوئی ہے لیکن ہم ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سی پیک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا بنیادی مقصد اس خطے میں امن اور خوشحالی لانا ہے۔ سی پیک کو کسی قسم کے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا نہ ہی اسے علاقائی تنازعات میں الجھا یا جائے گا۔ اقتصادی راہداری منصوبے کا بنیادی مقصد باہمی رابطوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چین راہداری منصوبے میں مزید ممالک کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر کی قرارداد کو ویٹو کرنے کے حوالے سے زہریلے سوال کے بعد بھی ان کو صبر نہیں آیا پینترا بدل کر ایک بار پھر پاکستان پر کاری وار کرنے کی جسارت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا چین ایسٹ ترکمانستان میں بے چینی کے حوالے پاکستان کے کردار سے مطمئن ہے اس پر چینی سفارت کار نے دوبارہ بد باطن کو مایوس کرتے ہوئے بتایا کہ چین ایسٹ ترکمانستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون اور کردار سے نا صرف مطمئن ہے بلکہ ہم پاکستان سے دوستی پر فخر کرتے ہیں امن و امان اور تحفظ کے بارے میں عبدالخالق علی مارشل کے استفسار پر بتایا گیا کہ چینی کارکن اور ادارے پاکستان جا رہے ہیں اس لئے ہم سیکیورٹی کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں لیکن پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال سے مطمئن ہیں مگر بہتری گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے اس لئے چین حکومت پاکستان اور پاک فوج سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ گوادر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیاکہ اس عظیم الشان منصوبے کی تکمیل کا حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا ہم ابتدا میں خصوصی اقتصادی علاقے اور صنعتیں قائم کریں گے اور مقامی لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنا رہے ہیں۔ گوادر میں پینے کے پانی کی قلت کے سوال پر ترجمان نے بتایا کہ چین نے اپنے کارکنوں کی ضروریات کیلئے پینے کے پانی کا چھوٹا سا پلانٹ لگایا ہوا ہے جو مقامی آبادی کی ضروریات پوراکرنے کے لئے ناکافی ہے ہم حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں تعاون کی پیش کش کر رہے ہیں۔
کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے وفد کا ہر جگہ کھلے بازوؤں کے ساتھ استقبال کیا گیا لیکن تین چار نام نہاد ترقی پسند مدیرانِ کو ہر جگہ پاکستان کیلئے محبت اور گرم جوشی کے مظاہرے ایک آنکھ نہیں بھا رہے تھے لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے کہ موقع بہ موقع آنے بہانے سے پاکستان میں کیڑے نکال کر دل کے درد کا ساماں کرتے رہے‘ ان میں سے بیشتر زندگی کی گاڑی شاہانہ طریقے سے کھینچتے ہیں لیکن جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرنے سے باز نہیں آتے۔
چین نے بھارت پر بار بار واضح کیا ہے۔ ہمارے علاقے میں کسی قسم کے توسیع پسندانہ عزائم نہیں ہم علاقے میں تمام ہمسایہ ممالک سے برابری کی سطح پرامن ماحول بھائی چارے کے تعلقات کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری کو ذریعہ بنائیں گے۔ مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے چینی ترجمان نے کہا کہ بھارت سے سرحدی تنازعات کو مکالمے اور باہمی مذاکرات سے پر امن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی طرح بھارت کی ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے سوال پر انہوں نے بتایا چین بھارت کو یہ رویہ ترک کرنے پر قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کشمیر کے تنازعے میں فریق نہیں ہے بھارت کا کشمیر کے کسی حصے پر چین کے قبضے کا الزام بے بنیاد ہے جس کی پرزور طریقے سے ماضی میں بھی تردید کی جاتی رہی ہے۔ کشمیر پاکستان اور بھارت میں دوطرفہ تنازعہ جس کے پرامن طریقے سے جلد از جلد حل سے ہی علاقے میں امن اور خوشحالی کا دور شروع ہو سکتا ہے ۔ ترجمان نے دلائی لامہ کی بھارت میں سرگرمیوں کے بارے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دلائی لامہ کی سرگرمیوں پر ہم بھارت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں بھارت نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ صرف پناہ گزین ہیں لیکن دلائی لامہ اور اس کے حواریوں کو بھارتی سر زمین پر چین کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ افغانستان میں امن مذاکرات کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ اس معاملے میں پاکستان سے قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں لیکن عمو می فضا اس کیلئے سازگار نہیں ہے اس سلسلے میں لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔امریکہ کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ ایک مدیر اصرار کرتے رہے کہ میں وطن کا وفادار ہوں جب انہیں بتایا گیا ان کا وطن پاکستان ہے تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے اسی طرح ایک بزرگ مدیر گرامی بلوچستان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے گوہر فشانی فرما رہے تھے کہ اگر آج ریفرنڈم ہو تو پاکستان کو ایک ووٹ نہیں پڑے گا اس پر واحد بلوچی زبان کے ٹی وی کے مالک مدیرنے بغیر لگی لپٹی جواب دیا کچھ خدا کا خوف کریں گوادر سے میرا ایک ووٹ تو ہر حال میں پاکستان کے نام کا نکلے گا۔افسوس صد افسوس کہ اپنے آپ کو مہذب ثابت کرنے کیلئے بڑے بڑے نامی گرامی اصحاب پاکستان کے دشمن بد بختوں کی ہرزہ سرائی سنتے ہیں لیکن غیر جانبدار دکھنے کیلئے مادر وطن پاکستان کو دی جانے والی گالیاں کشادہ دلی ظاہر کرنے کیلئے خاموشی سے برداشت کرتے ہیں۔ حرف آخر چین کی ہوش ربا ترقی کی دو علامتیں ملاحظہ فرمائیں۔ شنگھائی میں صرف بچوں کی کتابوں کا 5 واں سالانہ میلہ آج جمعہ 17 نومبر سے شروع ہو رہا ہے جس میں بچوں کیلئے لکھی جانے والی 60 ہزار کتابوں کی نمائش بھی کی جائے گی۔ جس میں دنیا کے 60 ممالک سے 360 بچوں کے پبلشرز حصہ لے رہے ہیں ۔اب ذرا اپنے بچوں اور ان کیلئے پاکستان میں شائع ہونے والی کتب کے بارے میں بھی سوچئے گمان غالب یہی ہے کہ پاکستان سے کسی پبلشر کو اس نمائش میں جانے کی توفیق نہیں ہو گی۔ اسی طرح ٹرانسپورٹیشن اور اس کے مستقبل میں امکانات پر عالمی کانفرنس ہنگزو میں اتوار سے شروع ہو رہی ہے جس میں ساری دنیا سے ماہرین اکٹھے ہو رہے ہیں۔ جمعرات کو صبح سویرے ارمچی پہنچ گئے تھے یہ شہر بے مثال مسلمان اکثریتی علاقے کا دارالحکومت ہے یہ یوغر مسلمانوں علاقہ' گوجروں کی سلطنت ہے یہ چین کا گوجراں والہ ہے ارمچی کی کہانیاں اگلی ملاقات پر' آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔