زرداری صاحب کی شرائط

زرداری صاحب کی شرائط

جناب زرداری آج اہم سیاستدان ہیں‘ سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں مگر جناب آصف زداری صاحب ڈرائنگ روم کے سیاستدان ہیں۔ کیا۔ وہ ذاتی حیثیت میں اپنا سیاسی مقام بنانے کے قابل تھے؟ ادب و احترام کے ساتھ ہمارا جواب نفی میں ہے۔ انکی جو سیاست ہے‘ وہ بینظیر شہید کی مرہون منت ہے۔ جن کی ناحق موت کے ملزمان کی سزا اب تک زرداری صاحب پر قرض ہے۔ یہ قرض زرداری صاحب کب اتاریں گے؟

زرداری صاحب نے جو سیاسی وقار حاصل کیا‘ وہ صرف بینظیر سے پایا‘ بھٹو صاحب سے نہیں۔ ہم صرف تاریخی حقیقت کو سامنے لانا چاہتے ہیں کہ انکے والد محترم جناب حاکم علی زداری 1970ء میں پی پی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے مگر پھر بھٹو صاحب کو داغ مفارقت دیکر نیپ میں شامل ہو گئے اور بھٹو صاحب کے آخری دور تک ولی خان کی نیپ کے سندھ کے صدر تھے۔ یہ کہانی پرانی ہوئی مگر اس لئے ظاہر ہے بھٹو صاحب کے اثرات سے لاتعلقی ۔ بینظیر کی شہادت نے خود زرداری صاحب کو سیاست میں حد درجہ دخل اندازی کا موقع فراہم کر دیا۔ انہیں ووٹ کی طاقت بینظیر کی شہادت نے دی تھی مگر خود کو زرداری صاحب نے مفاہمت کا بادشاہ مشہور کر دیا۔ اگر فی الحقیقت زرداری صاحب میں سیاسی لیاقت ہوتی تو پنجاب میں یہ حالات ہوتے؟ زرداری صاحب‘ ایمانداری سے جائزہ لیں‘ اب بھی بلاول بھٹو محض بیساکھی کا سہارا ہیں جس کے سہارے زرداری صاحب پھر اپنے اقتدار کی مسند سجانا چاہتے ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ دعوئوں کے باوجود KPK ‘بلوچستان اور پنجاب میں زرداری صاحب زیرو ہیں۔ سندھ میں انکی جماعت کی مقبولیت حضرت پیر پگاڑا کی مرہون منت ہے۔ پیر صاحب خلوص سے میدان میں آگئے تو زرداری صاحب کے مینار کی بنیادیں ہلا دیں گے۔ اربن سندھ کی صورتحال عجیب ہے مگر وہاں بھی PP تو صفر ہے۔اب زرداری صاحب کیا کر رہے ہیں۔ اپنی Visits سے وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ PTI اور PP کا اتحاد ہو جائے۔ آگ اور پانی بھی کبھی اکٹھے ہوئے ہیں؟
زرداری صاحب ہوشیار ہیں جانتے ہیں کہ حکومت میں موجود نوازشریف سے بے اقتدار نوازشریف زیادہ مقبول اور مضبوط ہے۔ وہ اصل میں نوازشریف کو ڈرانے دھمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے شواہد موجود ہیں کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے نوازشریف کو اس صورتحال میں دھکا دیا تھا۔ مقصد اپنے ’’محدود‘‘ مقاصد کیلئے نوازشریف کی حمایت کا حصول ہے۔ بلاول بھٹو پریشان ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پی پی کا چوتھا‘ پانچواں نمبر ہے۔ سندھ میں بھی پگاڑا صاحب فعال اور متحرک ہو گئے تو الیکشن تک بھونچال آجائیگا۔ زرداری صاحب نے ایک جملہ بلاول کو رٹا دیا ہے ’’میرا پہلا الیکشن ہے اور انکل عمران کا آخری!‘‘
مگر زرداری صاحب کی ’’سیاست‘‘ جاری ہے۔ فی الحال دوریوں کا اظہار کرکے وہ نوازشریف کو پریشان کر رہے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں دونوں ہی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ جہاں زرداری کی خواہش ہے کہ وہ جیسے بھی ہو‘ جہاں نوازشریف کی توجہ حال کریں۔ زرداری صاحب‘ نوازشریف سے پاکستان کی صدارت اور پنجاب میں کم از کم بیس محفوظ نشستوں کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں بلاول کیلئے ایک سیٹ لاہور سے شامل ہے۔ بظاہر نوازشریف کیلئے یہ سودا بہت مہنگا ہے۔ سندھ سے سیٹیں اور اپنی طاقت سے دو چار سیٹیں لے آئیں تو صدارت کا منصب دینے میں کوئی نقصان نہیں ہے مگر پنجاب میں سیٹیں دینا مشکل فارمولا ہے کیونکہ خود مسلم لیگ کو پی ٹی آئی سے مقابلہ کرنا ہے۔ عمران کے روزانہ کے جلسوں نے ناک میں دم کر دیا ہے۔ اوپر سے مقدمات‘ نگران جج اور سزا کے خدشات۔ صدر ممنون حسین کو بنایا جا سکتا ہے تو اور ممتاز لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں نوازشریف شاید فیصلہ کریں کہ وہ ’’ہوا‘‘ کے ساتھ چلیں گے۔ پی پی جانے اور زرداری صاحب۔ سخت شرائط پر جناب نوازشریف کسی سمجھوتے کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ نوازشریف کو خبر ہے …؎
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہوگی‘ وہ دیا رہ جائے گا