ڈیموں کی افادیت

ڈیموں کی افادیت

ڈیموں کی افادیت سے دنیا بھر میں انکار نہیں کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مخصوص لابی جو غیر ملکی آقائوں کے اشاروں اور پے رول پر ہونے کی وجہ سے آبی ذخائر کی نہ صرف مخالفت کرتی ہے بلکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے جیسے خدانخواستہ تمام صوبوں کی عوام ڈیموں کی مخالف ہو حالانکہ حقیقت میں چند افراد کا ٹولہ ہے جو غیر ملکی آئی پی پیز کے کاروبار کے تحفظ و فروغ کے لئے ڈیموں کی مخالفت کرتا ہے۔
بجٹ 2014ء کے بعد ایک قومی اخبار میں اسی طرح کے ایک صحافی نے موجودہ بجٹ کو ’’ڈیموں کا بجٹ‘‘ قرار دیکر تمام ممکن حدتک اس کے ثمرات زائل کرنیکی کوشش کی ہے۔ میرا قومی فریضہ ہے کہ میں ڈیموں کی افادیت سے محب وطن 18 کروڑ عوام کو ایک بار پھر آگاہ کروں حالانکہ اس موضوع پر میں درجنوں مرتبہ تحریر کرچکا ہوں اور ہر ہر سطح پر میری کوشش رہی ہے کہ کالا باغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر کی افادیت وضرورت سے لوگوں کو آگاہ کرتا رہوں۔ میاں نوازشریف کی موجودہ حکومت نے وفاقی بجٹ میں 2 کھرب 58 کروڑ روپے آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے مختص کئے ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے اور جب تک چھوٹے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کو اولین ترجیح نہیں دی جاتی اس وقت تک ملک میں سستی بجلی اور وافر پانی دستیاب نہیں ہوسکتا۔ داسو ڈیم کی تعمیر کا اعلان خوش آئند ہے اور حکومت زیادہ سے زیادہ چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کوترجیح دے۔ مہنگی بجلی (تھرمل پاور) سے مہنگائی میں کسی بھی صورت میں کمی نہیں آسکتی بلکہ فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلاجارہا ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں ہماری مصنوعات کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
میں نے کئی بار لکھا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے قبل سندھ میں خیرپورمیرس‘ سہون شریف‘ جامشوروسمیت 4چھوٹے ڈیم بنائے جائیں اور جب یہ چاروں چھوٹے ڈیم بن کر پانی سے بھرجائیں گے تو سندھ کی سال بھر کی ضرورت کا پانی سندھ میں ہی موجود ہوگا اور فصل ربیع و فصل خریف میں سندھ اپنی ضرورت کے مطابق پانی ان 4 چھوٹے ڈیموں سے لیتا رہے گا۔ اس کے بعد کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا جائے اور پھر سندھ کو کسی صورت اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ پانی ہمیشہ اونچائی پر اسٹور کیا جائے گا تاکہ بوقت ضرورت کم اونچائی پر پہنچایا جاسکے ۔
شمس الملک کا نام سنتے ہی ذہن میں کالا باغ ڈیم کا نام آجاتا ہے کیونکہ ان کی وجہ شہرت ہی کالا باغ ڈیم ہے اور کالا باغ ڈیم کے سب سے بڑے حمایتی ہیں اور وہ یہ حمایت اعداد و شمار اور دلائل کی قوت سے لیس ہوکر کرتے ہیں۔ شمس الملک کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہے اور وہ واپڈا کے سابق چیئرمین‘ کالا باغ ڈیم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور سابق نگراں وزیراعلٰی خیبرپختونخواہ بھی رہے۔ اس لئے ان کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ شمس الملک کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سب سے بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ سب سے زیادہ بولتے ہیں جو سب سے کم جانتے ہیں۔ یہ المیہ ہے اس قوم کا۔ اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ قومی نوعیت کے اس اہم منصوبے کے ساتھ بھی یہاں یہی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ کالا باغ کے خلاف جو کچھ بھی کہا گیا یا اب بھی کہا جاتا ہے‘ وہ ایسے لوگ کہتے ہیں جنہیں اس کی الف سے ب بھی نہیں پتہ۔ کالا باغ ڈیم ایک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے اور اس ڈیم کا قیام آج بھی اتنا ہی ناگزیر ہے جتنا اس کے آغاز میں بلکہ موجودہ توانائی بحران میں اس کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کا پانی بند کیا گیا تو ان دونوں ممالک کے درمیان تصفیے کے لئے ورلڈ بینک نے فیصلہ کروایا اور کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے لئے فنڈز بھی رکھے گئے ۔ کالا باغ ڈیم سب سے بہترین پروجیکٹ ہے۔ جب کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی بن گئی تو کہا گیا کہ اس پر اتفاق رائے نہیں ہے اس لئے اس کا متبادل ڈھونڈا جائے گا۔ بیس سال گزر جانے کے باوجود اس کا متبادل نہیں ملا اور نتیجہ یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ سے کارخانے بند اور عوام بے روزگار ہوگئے ہیں۔ پچھلے پچاس سال میں چین نے 22 ہزار ڈیم بنائے ہیں‘ امریکہ نے ساڑھے چھ ہزار ڈیم بنائے ہیںاور بھارت نے ساڑھے چار ہزار ڈیم بنائے ہیں اور اگر ایک ڈیم سے اتنا مسئلہ ہوتا تو امریکہ سپر پاور نہ ہوتا‘ چین شکست و ریخت سے دوچار ہوجاتا۔ باقی دنیا ڈیم بناکر ترقی کر رہی ہے لیکن ہمارے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک ڈیم بنانے سے خدانخواستہ پاکستان ٹوٹ جائے گا‘ حیرت و افسوس کا مقام ہے۔
اس ڈیم کی مخالفت صرف اور صرف بھارتی لابی کے افراد کر رہے ہیں جن کو سالانہ بار ہ ارب روپے دیئے جاتے ہیں۔ لوگ پوچھیں گے کہ کیوں؟ بھارت کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ تو بات صرف سمجھنے کی ہے کہ بھارت اس لئے اس منصوبے کو نہیں بننے دے رہا کہ بھارت بین الاقوامی دنیا میں کہہ سکے کہ پاکستان لاکھوں ملین ایکڑ فٹ پانی کو سمندر میں ضائع کررہا ہے لہٰذا اس کو ہمیں استعمال کرنے کی اجازت دی جائے اور اس حوالے سے بھارت نے آغاز بھی کردیا ہے اوراس کے مختلف ڈیم اس کا کھلا اعلان ہیں جن پر پاکستان کے تمام اعتراضات کو اس نے رد کرکے کام کو جاری رکھا ہوا ہے۔ میرے خیال میں کالا باغ ڈیم کے مخالفین کو اگر بھارت سالانہ 12ارب روپے دیتا ہے تو ہم 15 ارب دیں کیونکہ یہ لابی کسی کی نہیں اور اس کے لئے صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ ڈیموں کی تعمیر اشد ضروری ہے اس سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور یقینی طور پر مہنگائی میں کمی آئیگی۔ صنعتوں کو وافر سستی بجلی ملنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں مسابقت کی جاسکے گی اور وافر سستی بجلی ہونے سے نئی انڈسٹری قائم ہوگی جس سے بے روزگاری میں یقینی طور پر کمی واقع ہوگی اور عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ اسی طرح زراعت کو سستی بجلی ملنے سے کسان خوشحال ہوگا اور ڈیموں کے باعث وافر پانی کی دستیابی سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ ہموار غیر آباد ززمین بھی آباد ہوجائیگی اور ملک میں زرعی وصنعتی انقلاب برپا ہوگا۔
میرے خیال میں اگر کوئی شخص نیک نیتی سے ملک بھر کا دورہ کرکے عوامی آگاہی مہم چلائے تو یقینی طورپر یہ بات سب کے علم میں آجائیگی کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت 2 صوبے نہیں بلکہ چند مخصوص لوگوں کا ایک ٹولہ کر رہا ہے اور عوامی آگاہی کے بعد اگر میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کرے تو اس عظیم ترین قومی مفاد کے منصوبے میں حائل زیادہ تر رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔