ضربِ عضب اور بگڑے ہوئے بچے!

ضربِ عضب اور بگڑے ہوئے بچے!

میرا آج بھی اس بات پہ قوی یقین ہے کہ دنیا کے آغاز سے لے کر آج تک جتنی بھی جنگیں ہوئیں ان کا بہرصورت مذاکرات کی میز پر اختتام  ہوا۔ تاریخ میں ہمیں ایسی جنگوں کے شواہد بھی ملتے ہیں جو صدیوں پر محیط ہوئیں مگر بالآخر مذاکرات کے ذریعے تاوان کی ادائیگی یا ہرجانہ ادا کر کے صلح ہوتی رہی۔ لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ ان جنگوں کے دوران مقابلہ دو قوموں کے درمیان ہوتا تھا جہاں کوئی تیسری قوت ضامن کا کردار ادا کرتی تھی یہ کبھی نہیں ہُوا کہ ایک قوم کو اپنے ہی باغیوں کے خلاف مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا ہو اور یہ بات میں پچھلے تقریباً ایک عشرے سے اپنے قارئین کو بتاتا چلا آ رہا ہوں۔ گو کہ میرے نظریے کے مخالف مائنڈ سیٹ کے لوگوں نے  پچھلے 13 سال سے ایک مخصوص نظریات کے حامی طبقے کو ذہنی یرغمال بنا رکھا ہے یہ وہ طبقہ ہے جو نعوذ باللہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کا ترجمہ اپنی مرضی کے مطابق اور اپنے نظریے کو سپورٹ کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اس گھنائونے فعل کی تکمیل کے لیے ان لوگوں کو مختلف مذہبی و نیم سیاسی جماعتوں اور گروپس کی درپردہ تائید حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں چونکہ ڈائریکٹ پارلیمانی یا صدارتی سسٹم کی موجودگی میں اقتدار کے ایوان تک پہنچ نہیں پاتیں مگر پاور پلے، سٹریٹ پاور اور مملکت کے اندر لاکھوں مدرسوں کی موجودگی میں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر ہزاروں کا مجمع منٹوں میں اکٹھا کر لیتی ہیں۔
2001ء میں نائن الیون کے سانحہ کے بعد چار و ناچار پاکستان کو لکیر کے اس طرف کھڑے ہونا پڑا چونکہ مذہبی شدت پسندوں کو پاکستان کا یہ کردار پسند نہیں آیا تو انہوں نے مختلف حیلے بہانوں اور لال مسجد کے واقعہ کو بنیاد بنا کر مملکت پاکستان سے انتقام لینے کا بہانہ میسر آ گیا اس سے پہلے چونکہ افغانستان میں دنیا بھر کے مسلمان سرفروشوں نے جمع ہو کر آئی ایس آئی کی قیادت میں اس وقت کی نمبر ایک سپر پاور سوویت یونین (روس) اور اس کے جی بی کو عبرتناک شکست دی تھی۔ روس کے زوال کے بعد مجاہدین بے یارو مددگار اور بے روزگار ہو گئے لیکن ان کا اسلحہ اور ان کی بندوق ان کے پاس تھی۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر کے مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھ پھر ایک نیا موقع آیا کہ وہ مذہب کو استعمال کرتے ہوئے اب کی بار امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف برسر پیکار ہوں۔ ان شدت پسندوں کی آبائی مملکتیں جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مڈل ایسٹ کے حکمران خود تو امریکہ اور اتحادیوں کے طفیلی تھے مگر مذکورہ ممالک اور ریاستوں میں ان گنت ایسے سرمایہ کار موجود تھے جو اپنے اپنے ممالک کو میدانِ جنگ بنانے کی بجائے پاکستان، عراق اور افغانستان کو اپنے لئے بہتر کھیل کا میدان تصور کرتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ عراق اور افغانستان کے بعد پاکستان کو گھسیٹ کر اس کھیل میں شامل کیا گیا اور گذشتہ 13 سال میں ہم نے نہ صرف کھربوں ڈالرز کا انفرا سٹرکچر تباہ و بربادکروا لیا بلکہ ہم معاشی طور پر اتنے لاغر ہو گئے کہ ہمیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے 70 بلین ڈالرز کے مزید قرضہ جات لینا پڑے اور 80 ہزار سویلین، 12ہزار عسکری جوانوں نے اس راہ میں جانوں کے نذرانے پیش کیے جبکہ اس غیر اعلانیہ جنگ میں لاکھوں افراد باقی عمر کیلئے معذور ہو چکے ہیں اور آج بھی ہماری حالت یہ ہے کہ ’’سوئے ہوئے بچے کا منہ چومنا نہ بچے پہ احسان نہ بچے کی جاں پہ احسان‘‘ ایک طرف دہشت گرد اور شدت پسند پاکستانی افواج کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں بلکہ اس تکلیف دہ عرصہ کے دوران ہماری اپنی قوم بھی تقسیم ہو کر رہ گئی ہے حتیٰ کہ تحریک انصاف اور عمران خان بھی جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کے ساتھ مل کر اس مسئلہ پر ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر تے رہے ہیں جبکہ موجودہ حکمران بھی ان ’’بگڑے ہوئے بچوں‘‘ کیلئے نرم ترین گوشہ رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سات ماہ پہلے مملکت خدادادِ پاکستان میں ایک ایسے ڈرامے کا آغاز ہوا جس کا کہ انجام 15 جون کو وہی ہوا جس کا سب کو انتظار تھا لیکن اس دوران اتنا پانی پُلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا ،قوم اور فوج کا مورال انتہائی پست ہو چکا تھا کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنا بظاہر پاکستان میں ممکن نہ رہا تھا حتیٰ کہ جماعت اسلامی کی طرف سے مرنے والے دہشت گردوں کو اور ان کے ’’کتوں‘‘ تک کو شہداء کا درجہ دیا گیا۔ کچھ ایسی فضا وطن میں بن چکی تھی کہ دہشت گردوں کو بگڑے بچے اور مجاہدین اسلام کا نام دیا گیا۔ سابق چیف جسٹس، میڈیا کا ایک بڑا ٹائیکون اور بیوروکریسی میں موجود ایک خاص مائنڈ سیٹ دہشت گردوں کو سپورٹ کرکے مجرمانہ کردار ادا کرتے رہے اور پاک فوج کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ جاگتی آنکھوں سے یہ تماشا  دیکھتی رہے لیکن جب موجودہ کمانڈر انچیف جنرل راحیل شریف، جنرل ظہیر السلام اور پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی قوتِ برداشت جواب دے گئی تو آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔
قارئین ان ’’بگڑے ہوئے بچوں‘‘ کی وجہ سے میرے بیوی بچے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ اس دوران ملک کی معاشی حالت نحیف ہو چکی ہے۔ ہمارا سیاسی ڈھانچہ دھاندلیوں کی بدولت تباہ ہو چکا ہے کہیں نظم اور نظام نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور چور مچائے شور کے مترادف ڈاکٹر طاہر القادری پر منی لانڈرنگ کے انتہائی فضول الزامات لگائے گئے ہیں۔
وفاقی وزراء پرویز رشید، سعد رفیق اور عابد شیر علی نے ایک دفعہ پھر ن لیگی خصوصی ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے چاند پر تھوکنے کی جسارت کی ہے۔ میری ڈاکٹر صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انہوں نے مشفقانہ جواب دیا کہ مسلم لیگ (ن) کے شرارتی بچوں کا میں جواب تو دینا مناسب خیال نہیں کرتا لیکن اتنا بتاتا چلوں کہ دنیا کہ چالیس سے زائد ممالک میں منہاج القرآن کے سینٹرز موجود ہیں جہاں پر سالانہ آڈٹ رپورٹ اور ٹیکس ان ممالک کے مروجہ قانون کے مطابق ادا کیا جاتا ہے جبکہ عابد شیر علی اور اس کے والد شیر علی نے گذشتہ ادوارِ حکومت میں ملکی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا ، وزیراعظم نواز شریف کی بھارت، کینیا، سعودی عرب،ملائشیا اور برطانیہ میں شوگر ملیں، سٹیل ملز، سیمنٹ فیکٹریاں اور لندن میں کھربوں ڈالرز کی جائیدادیں اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ وزیراعظم اور ان کا خاندان اس وقت برطانیہ کا ساتواں امیر ترین خاندان بن چکا ہے لیکن انہیں اب لوٹی ہوئی پائی پائی قومی خزانے میں جمع کروانی ہو گی۔ ہم انقلاب لانے کے بعد اب کی بار پاکستاں کی سرحدیں سیل کر دیں گے تاکہ قومی مجرم راہِ فرار اختیار نہ کر سکیں۔