بالآخر ضرب ِ عضب کا فیصلہ

بالآخر ضرب ِ عضب کا فیصلہ

 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد گذشتہ 13 سال سے جاری دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بحیثیت فرنٹ لائن اتّحادی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2013ء تک ہم مجموعی طور پرپچاس ہزار کے قریب قیمتی جانوں کی قر بانی دے چکے ہیں ۔اکنامک سروے 2013-14ء کے دوران وزارت داخلہ، خارجہ اور خزانہ کے مشترکہ اعدادوشمارکے مطابق اس پورے عرصے کے دوران دہشت گردی کی کاروائیوں کے نتیجے میں افراسٹرکچر وغیرو کی صورت میںجو مالی نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑاوہ 8264.4 بلین روپے ہے۔ جنگ جاری ہے جو ایک وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 8 جون کو جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی میں داخل ہو کر ائیرپورٹ سیکورٹی فورس کی وردیوں میں ملبوس درجن کے قریب مسلّح دہشت گردوں نے غیر ملکی ساخت کے دستی گرنیڈ،راکٹ لانچر اور خود کار ہتھیار استعمال کر کے جو تباہی مچائی،اس میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ایک اندازے کیمطابق 180 بلین روپے کا مالی نقصان ہوا ۔ قوم کو دو درجن سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ ہماری سیکورٹی فورسز کی قابلِ ستائش جوابی کاروائی کے نتیجے میں دس کے دس دہشت گرد مارے گئے۔ ابتدائی طور پر تحریکِ طالبان پاکستان نے اور بعد ازاں القاعدہ سے منسلک اسلامک موومنٹ ازبکستان نامی دہشت گرد تنظیم نے ذ مہ د اری قبول کرلی ۔وزیرِداخلہ چوہدری نثار کا بیان بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ حملہ آور مقامی ہیں نہ پڑوسی ملک کے باشندے ۔ قطع نظر اسکے کہ و فاقی وزیر کے اس انداز کا پس منظر کیاہو سکتا ہے ،ایک بات طے ہے کہ پاکستان کے مصروف ترین ہوائی اڈے پرہونیوالی دہشت گردی کی اس کاروائی میں استعمال ہونے والا اسلحہ غیر ملکی تھا بلکہ خود حملہ آور بھی غیرملکی تھے۔ وزیرِاعظم نے سیکورٹی کے حوالے سے بلائی گئی میٹنگ میں یہ کہا کہ عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑاجائیگا ۔ وزیرِدفاع خواجہ محمد آصف نے بھی بیان جاری کر دیا کہ دہشت گردی کی کاروائی ناقابلِ معافی ہے اوردہشت گردوں اور منصوبہ سازوں کو شکست ہوگی ۔ پھر وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی نے کہا کہ واقعہ میں مقامی عناصر کے ساتھ بیرونی عناصر ملوث ہیں۔ وفاقی وزیرِاطلاعات پرویز رشید کے مطابق بھی بیرونی ہاتھ کار فرما ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم مسلسل ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں، آخر اس بیرونی ہاتھ کو بے نقاب نہ کرنے کی وجہ کیا ہے۔ہم کب تک مصلحتوں کا شکار رہیں گے۔ہم کیوں اس خوش فہمی میں مبتلاہیںکہ بیرونی فنڈنگ، غیرملکی اسلحہ اور غیرملکی حملہ آور وں کے ذریعے ملکی سا لمیّت کے خلاف مکروہ کارروائیوں میں ملوّث ہاتھ کاٹے بغیرہم اپنے دشمنوں کے عزائم ناکام بنا لیں گے۔جب تک سپلائی چین کو منقطع نہیں کیا جائیگاملک کے اندر دہشت گردی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے لیکن یہ کام حکومت کا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر سیّد خورشید شاہ نے اگرچہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں انڈیا ملوث ہے استعمال ہونے والا اسلحہ انڈین ساخت کا ہے اسلئے انڈین ہائی کمشن کے پاس احتجاج رجسٹر کروایا جائے لیکن حکومت نے افغان سفیر کو بلاکر احتجاج ریکارڈ کروانا ہی کافی سمجھا ہے۔ حکومت نے بھارت سے دو ٹوک احتجاج کرنا گوارہ نہیں کیا حالانکہ بھارت نے بمبئی واقعہ پر بغیر ٹھوس شواہد کے طوفان کھڑا کر دیا تھا اور اب بھی ایک طرف تو وہ کراچی دہشت گردی کی مذمت کر رہے ہیں دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اپنی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کو بنیاد بنا کردعوی کر رہی ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 1200 کے قریب چینی لبریشن آرمی کے اہلکار موجود ہیں، انہوں نے چینی انجئنیروںسمیت ان اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ سشماسوراج نے پاکستان پر بھی واضح کر دیا ہے کہ بھارت اپنے ہمسائیوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن پاکستان کو چاہئیے کہ اپنی سر زمین بھارت مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہ دے۔ اگر کراچی کے واقعہ میں انڈین ہتھیار استعمال ہوئے ہیں توبھارت کو متنبّہ کرناہماری حکومت کا بھی فرض تھا ۔یہ خاموشی چشم پوشی کے مترادف ہے۔ دہشت گرد اس حد تک منّظم ہیں کہ امیر خالد محسود کی سربراہی میں محسود گروپ کی تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی کو ابھی بمشکل دس دن ہی گزرے ہونگے کہ کراچی ائیر پورٹ پر حملہ کر دیا گیا۔ ائر پورٹ پرفلائیٹ اپریشن کی بحالی کو ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ اے ایس ایف کے تربیّتی مرکزاور گرلز ہاسٹل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آگیا۔ میری نظر میں یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی تقسیم کے بعد بھی کاروائی کرنے کی اتنی ہی صلاحیّت رکھتی ہے جتنی پہلے رکھتی تھی۔ سیکورٹی کی حالت دیکھتے ہوئے کیتھے پیسیفک ائیرویز نے کراچی کیلئے اپنی پروازیں عارضی طور پر کینسل کر دیں۔ مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے اپنا پاکستان کا سرکاری دورہ غیر معیّنہ مدت کیلئے ملتوی کر دیاہے۔ آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کا ستمبر میں لاہور آکر تین ون ڈے میچ کھیلنے کا پروگرام بھی وقتی طور پر کینسل ہوگیاہے ۔ پہلے ہی سری لنکن ٹیم پر حملے کیوجہ سے پانچ سال سے کسی بین الاقوامی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ ان حالات میں ہمارے حکمرانوں کو غیر معمولی تدبر اور احساسِ ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ انہیں اپنی ترجیحات بدلنی ہونگی۔ سیاست نہیں ریاست کی فکر کرنی ہوگی۔اپنی نہیں قوم کی بہتری اور ملکی وقار کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی۔
اب حکومت نے مصلحتوں سے نکلنے کیلئے مصلحتاً شمالی وزیرستان میں اپریشن کا فیصلہ کیا یا حقیقت میں اس نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کیا ہے۔ کچھ حلقے کہتے ہیں کہ فوج نے اپریشن کاآغاز کیا تو حکومت نے اپریشن کا اعلان کر کے اسے اون کر لیا۔ بہرحال پس پردہ جو کچھ بھی ہے۔ اپریشن کے سوا اب کوئی چارہ نہیں تھا گو اس میں دیر کر دی گئی‘ بہرحال دیر آید درست آید‘ اب حکمران کسی مصلحت کو آڑے نہ آنے دیں۔ضرب عضب کی کامیابی اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔شدت پسند آپس میں بھی لڑ بھڑ کر کمزور ہو رہے ہیں۔ ان پر قابو پانا مشکل نہیں رہا۔مذاکرات کیلئے جو وقت دیا‘ وہ ضائع ہو گیا۔ ایک بڑی دردِسر غیرملکی شدت پسند ہیں‘ غیر ملکی شدت پسندوں کو پس زنداں رکھا جائے یا ملک کی سرحدوں کے باہر دھکیل دیا جائے۔ ان سے ہر صورت نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ فوج حکومت اور قوم کی طرح میڈیا کو انکے ساتھ ایک پیج پر آنا چاہئے۔ دہشت گرد آپریشن والے علاقوں سے بڑے شہروں میں غائب ہونے کی کوشش کریں گے۔ ان کو پناہ دی گئی تو ہمارے شہروں میں بارود کی بورچی رہے گی۔ ہم اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں کسی اجنبی کو پناہ دیں نہ کسی دوسرے کو ایسا کرنے دیں۔ عوام فوج کے شانہ بشانہ رہے تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور بہت جلد ہو سکتا ہے۔