ٹرمپ کا انداز حکمرانی

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ٹرمپ کا انداز حکمرانی

ٹرمپ نے 20جنوری2017کو عہدہ صدارت سنبھالا۔ابھی تک ایک ماہ پورا نہیں گزرا۔ان چند ہفتوں میں ہی ٹرمپ نے اپنے انداز حکمرانی سے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ایک کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کر رہے ہیںاور ہر آرڈر منفی نوعیت کا۔اب تک کوئی ایسا آرڈر جاری نہیں ہوا جس سے کسی امریکی یا غیر امریکی کو سکون ملا ہو۔ٹرمپ نے دوران الیکشن امریکیوں کو خوش کرنے کے لئے کئی وعدے کئے تھے لیکن شاید یہ احساس نہیں کیا تھا کہ اسکے احکامات کے منفی اثرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو اب سامنے آرہے ہیں۔ان بے تکے احکامات کی وجہ سے آدھا امریکہ ٹرمپ سے خفا ہے۔جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ٹرمپ کے احکامات کے خلاف عدالتوں میں کئی کیسز دائر کر دئیے گئے ہیں جس سے وہ بہت زیادہ متنازعہ شخصیت بن گئے ہیں۔اسوقت پچاس سے زائد قانونی مقدمات ٹرمپ کے خلاف دائر ہو چکے ہیں۔ان مقدمات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی پاپولیریٹی بطور صدر کتنی رہ گئی ہے۔امریکی تاریخ میں آج تک کسی بھی امریکی صدر کے خلاف اتنے مقدمات درج نہیں ہوئے۔
ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلا حملہ’’ اوباما کیئر ‘‘ پر کر کے اسے ختم کردیا جسے زیادہ لوگوں نے پسند نہیں کیا۔ٹرمپ نے دوسرا اور سب سے مہلک وار سات مسلمان ممالک کے شہریوں پر کیا ۔ان میں شام، عراق، ایران، لیبیا ،صومالیہ ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ان ممالک کے شہریوں کو دہشتگرد گردانا گیا لہٰذا ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔اس غیر قانونی حکم نامہ کے خلاف لوگوں کی طرف سے بہت غصہ ظاہر کیا گیا۔مظاہرے ہوئے تو عدالت نے اس حکم نامہ کے خلاف سٹے آرڈر دے دیا جس سے ٹرمپ کو بہت غصہ محسوس ہوا تو اس نے اپیل کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔یہ اپیل امریکی محکمہ انصاف نے سان فرانسکو کی اپیل کورٹ میں دائر کی تھی جس کی سماعت تین ججوں کے پینل نے کی اور عدالت نے جاری شدہ حکم امتناعی رد کرنے سے انکار کردیا تو یوں سات ممالک پر پابندیاں بحال کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی ہنگامی اپیل مسترد ہو گئی ۔اس دن سے ٹرمپ عدلیہ کے سخت مخالف ہو گیا۔اب ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ میں کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہوا تو اسکی ذمہ دار عدلیہ ہو گی۔ٹرمپ کا یہ حکم نامہ اس حد تک نا قابل برداشت سمجھا گیا کہ حکومت کے اپنے اٹارنی جنرل نے اس حکم نامہ کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا تو ٹرمپ نے غصہ میں آکر اٹارنی جنرل کو جاب سے ہی فارغ کر دیا۔ٹرمپ نے مایوسی اور غصہ میں ہزاروں تارکین وطن کی گرفتاری کا حکم بھی دے دیا ہے جو بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ٹرمپ میڈیا سے بھی سخت خفا ہے۔ٹرمپ کی نظر میں میڈیا دہشتگردی کی ٹھیک طریقے سے کوریج نہیں کر رہا جس وجہ سے جنرل پبلک اور عدلیہ دہشتگردی کی سنگینی کا احساس نہیں کر رہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے چند اہم واقعات کی لسٹ بھی تیار کی جو ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق میڈیا کی وجہ سے مکمل طور پر رپورٹ نہیں کئے گئے۔
مسلمانوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ ٹرمپ صرف مسلمانوں کو ہی دہشتگرد سمجھتا ہے۔ وہ اسے بنیاد پرستی اور اسلامی دہشتگردی کا نام دیتا ہے۔بنیادی طور پر وہ اوپر دئیے گئے سات ممالک کو قصوروار سمجھتا ہے بعد میں وہ اس لسٹ کی توسیع کر کے کچھ دیگر مسلمان ممالک کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔جہاں جنرل پبلک نے ٹرمپ کے مسلمان ممالک کے خلاف حکم نامے کا برا منایا ہے وہاں امریکہ کی بڑی بڑی بزنس کمپنیوں نے خصوصی طور پر اس حکم نامے کے خلاف پروٹسٹ کیا۔اسوقت97بڑی ٹیکنیکل کمپنیوں نے مل کر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ان کمپنیوں میں فیس بک، ایپل، گوگل اورنیٹ فکس جیسی مشہور کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلمان ممالک سے آنے والے مہاجرین اپنے ساتھ ٹیکنالوجی اور ہنر مندی لاتے ہیں۔جس سے امریکی معیشت پھلتی پھولتی ہے۔ان مسلمان ممالک کے شہریوں کے خلاف سفری پابندیاں امریکی معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں۔اس حکمنامے کے خلاف امریکہ سے باہر دیگر ممالک میں بھی مظاہر ے ہوئے ۔امریکہ کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے انگلینڈ میں ہوئے۔یہاں تک کہ انگلینڈ کے دارالعوام کے سپیکر نے ٹرمپ کو برطانیہ دورے کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جو کہ امریکی صدر کے لئے باعث شرمندگی ہے۔ٹرمپ کا اگلا کارنامہ میکسیکو کے خلاف غصہ ہے ۔وہ میکسیکو کی سرحد پر میکسیکو کے خرچ پر دیوار بنانا چاہتا ہے جس سے میکسیکو انکاری ہے لیکن ٹرمپ اپنے فیصلے پر بضد ہے۔ٹرمپ نے ڈپلومیسی میں بھی برے طریقے سے مار کھائی ہے۔آسٹریلیا اور امریکہ میں مہاجرین کے لئے معاہدہ تھا ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیراعظم سے فون پر بات کر کے معاہدے پر سخت تنقید کی۔ایک گھنٹے کی طے شدہ بات چیت کے بجائے25منٹوں میں فون بند کر دیا۔یہ بین الاقوامی ڈپلومیسی کی سب سے بری مثال تھی۔
ٹرمپ کے اپنے مشیر بھی ٹرمپ ہی کی طرح کے لوگ ہیں ۔ان میں سب سے مشہور ٹرمپ کا ملٹری چیف جنرل میٹس Mattisہے جو عوام میں ’’پاگل پوڈل‘‘ کے لقب سے مشہور ہے۔اس نے اپنا چارج سنبھالتے ہی اپنے آپ کو اپنے لقب کے مطابق سچ ثابت کیا۔ بغیر کسی ثبوت کے ایران پر الزام لگا دیا کہ وہ پوری دنیا میں سب سے بڑا دہشتگر د ہے ۔حالانکہ پچھلی پانچ دہائیوں سے ایران میں نہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ رونما ہوا ہے اور نہ ہی کسی بھی جگہ ہونے والی دہشتگردی کو ایران نے سپورٹ کیا ہے۔یہ امریکہ تھا جس نے ایران پر بے جا پابندیاں لگائیں۔ایران کا امریکہ میں جمع سرمایہ ضبط کیا۔ ایران کا صرف قصور یہ ہے کہ وہ امریکہ کی کاسہ لیسی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔اگر حقیقت دیکھی جائے تو دنیا میں صرف دو ممالک ایسے ہیں جو ہر لحاظ سے دہشتگرد ہیں۔اول اسرائیل جس نے پچھلے ستر سالوں سے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور اپنے آپ کو ’’گریٹ اسرائیل ‘‘ بنانا چاہتا ہے۔ اسرائیل اپنی سر حدیں نیل سے لے کر دریائے فرات تک وسیع کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنے راستے کی ہر رکاوٹ تباہ کرنے کے لئے تیار ہے۔دوسرا بڑا دہشتگرد امریکہ بذات خود ہے جو بہت سے ممالک کی تباہی کا ذمہ دار ہے۔افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور یمن اسکی تازہ مثالیں ہیں۔امریکہ ہی کی دہشتگردی کی وجہ سے لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے گئے۔ایران کو چونکہ اسرائیل پسند نہیں کرتا اس لئے امریکہ کی نظر میں بھی ایران دہشتگرد ہے۔جنرل میٹس کا دوسرا کارنامہ روس پر الزام تراشی ہے۔ میٹس صاحب فرماتے ہیں کہ روس امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہ خوامخواہ روس کو بے جا چھیڑنے اور دشمنی مول لینے کے مترادف ہے۔
میٹس کا تیسرا ہدف چین ہے جسے اس نے چینی علاقے میں دخل اندازی کی دھمکی دی ہے۔ میٹس کی ان ممالک کو بے جا دھمکیاں بین الاقوامی تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو کسی بھی مہذب حکمران سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں۔ میٹس نے مسلمان ممالک پر بھی بہت سے الزامات لگائے ہیں۔ ٹرمپ کی طرح وہ بھی مسلمان ممالک کو دہشتگرد سمجھتا ہے۔ وہ نہیں سمجھتا کہ دہشتگردی کا سب سے بڑا موجد امریکہ بذات خود ہے ۔آج مسلمان ممالک جس اذیت ناک عذاب سے گزر رہے ہیں وہ امریکہ ہی کی مہربانی ہے۔ میٹس کو پتہ ہونا چاہیے کہ افغانستان میں روس کا راستہ روکنے کے لئے کارٹر حکومت نے القاعدہ کی بنیاد رکھی۔لیبیا کے قذافی کا تختہ الٹنے کے لئے اوبامہ اور ہیلری نے ISIS (مملکت اسلامی) کھڑی کی اور یوکرائن میں اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے اوبامہ اور ہیلری ہی نے نیو نازی کی بنیاد رکھی اور آج الزامات مسلمان ممالک پر لگ رہے ہیں۔ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ