پارلیمانی نظام بمقابلہ صدارتی نظام!

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ
پارلیمانی نظام بمقابلہ صدارتی نظام!

’’ اگر سچ پوچھتے ہیں تو قوم کا ہر فرد جالب بنا ہوا ہے۔ کیا اسی دن کے واسطے ہم نے برسوں کے فاصلے طے کیے تھے۔ آپ ہی بتائیں آج جب قائد اعظم کی روح اس ملک کا طواف کرتی ہو گی تو کیا وہ سرشار ہو گی یاشرمسار۔ یوں لگتا ہے جیسے پنیر کا ایک ٹکڑا آسمان سے گرا ہے جس پر چیلیں، کوے، کتے بیک وقت جھپٹ پڑے ہیں۔‘‘
مسکرا کر بولے ’’ مجھے تمہاری تقریر بڑی پسند آئی ہے۔ کہو تو اس کو ٹائپ کروا کر ایڈوانس کاپی ایوب خان کو بھجوا دوں؟‘‘ …’’ ضرور بھجوایئے! بس اسکے نیچے ڈاکٹر دلاور کا نام لکھنا نہ بھولئے گا۔‘‘
کہنے لگے’’ میں نے تم سے کمک مانگی تھی، تم نے گالیاں برسانی شروع کر دی ہیں۔ ایک لمحے کیلئے تم اپنے آپ کو ڈیبیٹر سمجھو جسے صدارتی نظام کے سپورٹ کرنے کا ٹاپک دیا گیا ہے۔‘‘
’’ آپ خود تجربہ کار ہیں، آپ کو مشورہ دینا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔‘‘…’’ یار چراغ ہی دکھلا دو، میرے خیالات تم سے مختلف نہیں ہیں لیکن ہائے رے انسان کی مجبوریاں۔‘‘ …عرض کیا ’’ آپ میکائولی سے بڑے متاثر ہیں، یہ کہہ دیں کہ ۔
No theory is ever intelligible save in the context of its time. Govt is the art of the possibles . we have to see things as they are and not as they ought to be, We should strive for not what is iedeally best butt what is best practicable, because very often best turns out to be the enemy of the good.
’’ زبر دست! زبردست! ڈاکٹر صاحب کرسی سے قریباً اچھل پڑے۔ یہ معروضی حالات کا تقاضہ ہے۔ سیاست دانوں نے حکومت کو شطرنج کا کھیل بنا دیا تھا۔ جو اہر لعل نہرو نے کہا تھا۔ وہ اتنی شیروانیاں نہیں بدلتا جتنی حکومتی پاکستان میں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ وہ کس سے بات کرے؟ بات کرنے سے پہلے وزیر اعظم بدل جاتا ہے۔ آخر ایوب خان کو کون لایا تھا۔ سکندر مرزا، اس کو کس نے بلایا تھا، سیاست دانوں نے، یہ آمر نہیں مسیحا ہے۔ خدا کا نور نہ سہی چشم کا سرور نہ سہی، بہار صبح نو نہ بھی ہو تو بھی روشنی کی کرن یہی لے کر آیا ہے۔ ذرا اس کا قد بت تو دیکھو مردانہ وجاہت کا سمبل، Strapping six footerملک کی باگ ڈور انہیں مضبوط ہاتھوںمیں ہونی چاہئے۔ تقریر تیار ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب کے ذہن کے سب دریچے ، کھڑکیاں اور دروازے بیک وقت کھل گئے تھے ۔
سمپوزیم کا انتظام BNRسنٹر میں کیا گیا تھا۔ صدارت غلام نبی میمن وزیر قانون نے کرنی تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو سارا ہال بھر چکا تھا، آدھے سے زیادہ کالے کوٹوں والے وکیل تھے۔ یہ اس وقت بھی ملٹری ڈکٹیٹر کے خلاف تھے ۔ پروگرام شروع ہوا۔ یکے بعد دیگرے پروفیسر ، دانش ور اور بیورو کریٹ آتے گئے، ایوب کے گن گاتے رہے۔ خوشامد، مدح سرائی اور کاسہ لیسی کو خوبصورت الفاظ کا لبادہ اوڑھا کر عالم پناہ کوسلام عقیدت پیش کیا گیا۔ ایجنسیوں کے کارندے ہر تقریر کو سونگھتے رہے۔ سب مقررین پر کڑی نگاہ رکھی۔ انکی کارکردگی کا یہ عالم تھا کہ نا قد بعد میں گھر پہنچتا ، تنقید پہلے ایوان صدر پہنچ جاتی۔ ایوب خان کے احکام پہنچنے سے پہلے ہی نواب صاحب اس کی تعمیل کر چکے ہوتے۔ سبحان اللہ! اس قسم کے فعال گورنر اب کہاں ہیں۔آج کل کے لاٹ صاحب صرف بڑھکیں مارتے ہیں، وہ مارتے بھی تھے اِن کی زبان چلتی ہے اُن کا عصا گھومتا تھا، یہ غصے میں بھی ہوں تو مزاحیہ اداکار لگتے ہیں وہاں صرف موچھ ہلنے کی دیر ہوتی، ہیبت سے زمین و آسمان لزرنے لگتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کی تقریرپر بھی خاصی لے دے ہوئی، وکیلوں نے سوالات میں انہیں خاصا زچ کیا۔ ایک وکیل بولا’’ یوں لگتا ہے کہ یہ تقریرایوان صدر سے بن سنور کر آئی ہے۔ آپ شعبہ سیاسیات کے سر براہ ہیں۔ آپ کو حقائق سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے‘‘
’’ حقائق ہی تو بیان کیے ہیں، آپ نے تعصب کی عینک لگا رکھی ہے، ذرااسے اتار کر ملکی حالات پر نظر ڈالیں گے تو ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔‘‘ ڈاکٹر ذہنی طور پر تیار تھے اس لئے جواب پہلے سے سوچ کر آئے تھے۔ …دوسرا بولا ’’آپ کو مجبور کیا گیا ہے کہ آمرانہ نظام کو منطقی جواز فراہم کریں‘‘۔
بولے ’’ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا ہے۔ آپ بھی برداشت کی عادت ڈالیں۔ کیا والٹیر کا وہ قول نہیں پڑھا؟
Though I may differ with what you have said, but I will defend to the last moment of my life your right of saying it.
اس پر ایک وکیل بولا ’’آپ نے اس قول کو غلط سمجھا ہے۔ والٹیر نے ان لوگوں کی بات کی تھی جن کی سوچ پر پہرے نہیں ہوتے۔ اس نے مفلوج، مدقوق اور مجبور سوچ کی بات نہیں کی تھی‘‘۔
ماحول کی تلخی کو دیکھتے ہوئے صدر نے دوسرے مقرر کو اظہار خیال کی دعوت دے دی۔ پارلیمانی نظام کے حق میں بھی کافی تقریریں ہوئیں۔ اعجاز بٹالوی، منٹو صاحب اور دوسرے وکلا نے بڑے مضبوط دلائل دیئے۔ لیکن سب سے دلچسپ تقریر وکیلوں کے سرخیل نسیم حسن شاہ کی تھی۔ شاہ صاحب قانونی موشگافیوں کے ماہر تھے۔ بین الاقوامی قانون پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ لاء کالج میں پارٹ ٹائم پڑھاتے تھے۔ ان کا وہ جملہ بڑا مشہور ہوا۔ ایک دفعہ پڑھاتے ہوئے کہنے لگے:
Gentlemen! I am niether a student of international Law, nor the teacher of international Law, I am authority on international law.
شاہ صاحب وکیلوں کی طرف سے پارلیمانی نظام کے حق میں تقریر کرنے اٹھے۔ دھیمے لہجے میں انہوں نے بڑی پر مغز تقریر کی۔ کئی تاریخی حوالے دیئے، مختلف ممالک کے آئینوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ حکومت پر چند فرینڈلی فائر بھی کئے۔ جب انہوں نے تقریر ختم کی تو وکیلوں کو احساس ہوا کہ شاہ صاحب انکے ساتھ ہاتھ کرگئے ہیں۔ بڑی مہارت اور چابکدستی کے ساتھ وہ صدارتی نظام کو سپورٹ کرگئے تھے۔ چند لمحوں کے لئے تو سامعین سکتے میں آگئے پھر ایک دم شور اٹھا۔
He is a hostile witness. He is a hostile witness.
منحرف گاہ، انہوں نے لیگل کمیونٹی کی پشت میں چھرا گھونپا تھا۔ سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ سوال کم تھے دشنام طرازی زیادہ تھی۔ کیوں کیا ہے، ایسا کیوں ہوا ہے۔ شاہ صاحب کے لئے جواب دینا مشکل ہوگیا۔ ایسے پتہ چلتا تھا سوال نہیں ہوا ہے چاروں طرف سے مشین گن سے ریپڈ فائر ہو رہا ہے۔ تمام گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی۔ جب زچ ہوگئے تو پنجابی میں سب کو مخاطب کر کے کہنے لگے:
’’اوئے گل سنو! بھاویں کوئی نظام وی لے آئو۔ بننا تے چوہدری محمد حسین نے اے‘‘۔ (کوئی نظام بھی لے آئیں۔ منتخب تو چوہدری محمد حسین ہی ہوگا)
سامعین مسکرائے۔ نسیم حسن شاہ کی حس مزاح بڑی تیز تھی۔ اس زعم میں ایک فنکشن میں چوہدری نظام دین سے پنگالے بیٹھے۔ کہنے لگے ’’چوہدری صاحب آپ سے ہاتھ ملانے کے لئے سیڑھی استعمال کرنی پڑتی ہے‘‘۔
اس نے جو جواب دیا وہ قلمبند کرنے کی شائستگی اجازت نہیں دیتی لیکن اس کا اثر یہ ہوا کہ کافی عرصہ تک شاہ صاحب لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے بدک جاتے۔جب ہم سنٹر سے باہر نکلے تو ڈاکٹر صاحب خوش تھے۔ کہنے لگے دیکھا ان بڑبولوں کا کیا حشرا ہوا۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ میرے ساتھ متھا لگا لیا اسے کہتے ہیں دیگر اں را نصیحت خود میاں فضیحت۔ روسو کے پیروکار۔ رہتے پاکستان میں ہیں اور باتیں فرانس کی کرتے ہیں۔میں نے انہیں پیشگی مبارک باد پیش کی۔ بس اب تو چند دنوں کی بات ہے۔ شعبہ کی سربراہی خود چل کر آپ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ مجھے تو ابھی سے فضا میں نقرئی گھنٹیاں بجنے کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔خوش ہو کر بولے۔ کچھ نہ کچھ تو ہونا ہے۔ کچھ نہ کچھ تو ہو کر رہے گا لیکن…!
’’لیکن کیا‘‘ … ’’ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں نادر شاہی فرمان جاری ہوجائے اگلے سمپوزیم کا ٹاپک ہوگا۔ ملوکیت بمقابلہ جمہوریت! … دیکھو! تم ایسا کرو، آج سے ہی مغل ہسٹری پڑھنا شروع کردو۔ … اور ہاں، نور جہان اور کرسٹائین کیلر میں کوئی مماثلت نظر آئے تو اس کا ذکر بطور خاص ہو نا چاہئے۔ سمجھے؟ …میں سب کچھ سمجھ گیا تھا۔ سوسنار کی ایک لوہار کی۔ ڈاکٹر صاحب بڑے جہاندیدہ تھے۔ ہمارے تمام طنزو تشنیع کا حساب ایک جملے میں چکا دیا۔ (ختم شد)