جنرل راوت ، مودی اور ۔ ۔ !

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
جنرل راوت ، مودی اور ۔ ۔ !

سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کے نئے آرمی چیف ’’ بپن را وت ‘‘ نے اکتیس دسمبر کو آرمی چیف کا منصب سنبھالا ۔ بظاہر یہ ایک معمول کی کاروائی ہے مگر موصوف نے یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد چوالیس دنوں میں کم از کم دس بار پاکستان کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز لب و لہجہ استعمال کیا ۔ اور بالواسطہ اور بلا واسطہ ہر طرح کی دھمکیاں دیں ۔
یاد رہے کہ جنرل بپن راوت بہ زعمِ خود ، اپنے آپ کو جنگی حکمت عملی کا ماہر تصور کرتے ہیں ۔ انہوں نے مختلف بھارتی نیوز چینلز بشمول انڈیا ٹو ڈے ، ٹائمز نائو ، نیوز ایکس وغیرہ پر پندرہ جنوری کو بھارتی آرمی ڈے کے موقع پر پاکستان کے خلاف انتہائی اشتعال انگیزی پر مبنی باتیں کیں ۔ اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں تا حال جاری ہے ۔
اسی تناظر میں خود بھارتی جنگی امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ جنرل راوت کو محض اس بنیاد پر بھارتی آرمی چیف کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا کہ انھوں نے تقریباً پونے دو برس قبل میانمر اور منی پور کی مشترکہ سرحد پر کاروائی کی تھی جسے بھارتی ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی پذیرائی ملی تھی ۔ اس کاروائی کے نمایاں محرکین میں بھارتی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ’’ اجیت ڈووال ‘‘ اور بھارتی وزیر دفاع ’’ منوہر پریارکر ‘‘ کی جانب سے راوت کو سراہا گیا تھا ۔ یاد رہے کہ بپن راوت اس وقت بھارت کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ تھے ۔ غیرجانبدار حلقوں نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ دہلی کے حکمران پاکستان کے حوالے سے کس قدر زہریلی ذہنیت کے حامل ہیں ایسے میں انکے حوالے سے خوش گمانی کا اظہار کرنیوالے تمام حلقوں کو زمینی حقائق کا ادراک رکھنا ہو گا ۔
دوسری جانب معروف بھارتی صحافی اور دانشور ’’ اے جی نورانی ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ موصوف ( مودی ) اپنی آدھی سے زیادہ مدت پوری کر چکے ہیں مگر اب بلا جھجک یہ کہا جا سکتا ہے کہ محض دعوے اور باتیں کرنے کے علاوہ وہ بھارت کی معیشت میں بہتری لانے کے ضمن میں قطعاً کامیاب نہیں ہوئے ۔ نوٹ بندی کی شکل میں انھوںنے جو بہت بڑا جوا کھیلا تھا ، وہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اب ایک طرح سے وہ پوری دنیا کے سامنے بے لباس ہو چکے ہیںاور اب نہ وہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے ۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کے تمام تر دعوے محض ہوائی قلعے تھے ۔ ان کے سارے سپنے چکنا چور ہو چکے ہیں ۔ گویا ’’ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا ‘‘ ۔
نوٹندی کے حوالے سے انکے پسندیدہ سلوگن ’’ وشواس ، وکاس وغیرہ ‘‘ بھی کام نہیں آئے کیونکہ بھارتی عوام جواب چاہتے ہیں اس افراتفری کیلئے جو مودی نے پیدا کی۔ لیکن مودی اس بات کو سمجھ نہیں رہے ۔ مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں اور حتیٰ کہ RSS میں بھی خود کو ایک عظیم رہنما ثابت کرنے کی تمام تر سعی کی۔وقت نے ثابت کیا کہ انکے تمام تروعدے محض الیکشن جیتنے کیلئے تھے نہ کہ عوام کی خدمت کیلئے ۔وہ اعلیٰ بیورو کریسی سے لیکر کابینہ تک تمام چیزوں کیلئے مختارِ کل کی حیثیت اختیار کر چکے تھے مگر اب وہ در حقیقت زوال کا سفر بڑی تیزی سے طے کر رہے ہیں ۔
انہوں نے اپنا پستی کا سفر روکنے کیلئے لاتعداد حربے استعمال کیے جن میں ایک سرجیکل سٹرائیک (نام نہاد) کا بھی تھا مگر نتائج کے اعتبار سے ’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘ والی کیفیت طاری ہے ۔ اور ہر آنیوالے دن کیساتھ اس میں کمی آنے کی بجائے شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ مودی نے خود کو ایک ناقابلِ تسخیر رہنما کے طور پر پیش کیا مگر حالات و واقعات نے ظاہر کیا کہ انکی سیاسی زندگی محض ایک پانی کا بلبلہ تھی ۔ ‘‘
واضح رہے کہ ’’ اے جی نورانی ‘‘ بھارتی صحافت میں ایک منفرد اور نمایاں اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں ۔ وہ 16 دسمبر 1930 کو بمبئی میں پیدا ہوئے ۔ ’’ عبدالغفور عبدالمجید نورانی ‘‘ ایک قانون دان ، صحافی اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں ۔
اس تمام پس منظر میں یہ موہوم امید ہی کی جا سکتی ہے کہ دہلی کے حکمران اپنی قابلِ مذمت روش ترک کر کے تعمیری راہ اپنائیں گے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو منصفانہ بنیادوں پر حل کرنے کی جانب سنجیدہ توجہ دیں گے ۔