کارگل لڑائی کے ذمہ داران کا احتساب

 کوریائی جنگ(1951-53) کی ابتداءمیں شمالی کوریا کی فوجوں نے تقریباً تمام جنوبی کوریا پر قبضہ کرلیا تھا۔جنوبی کوریا کی حکومت 145کلو میٹر طویل اور 145کلومیٹر عریض خطہ زمین اور پوسان شہر اور بندرگاہ تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ ایشیا پیسفک کے فائیو سٹار جنرل میک آرتھر کو امریکی صدر سے حکم ملا کہ وہ جنگ کرکے جنوبی کوریا پر شمالی کوریا کی فوجوں کا قبضہ چھڑا لے۔جنگی آپریشن کی بریفنگ کے دوران ایشیا پیسفک کے کمانڈر جنرل میک آرتھر کے زیر کمان کمانڈر نے جنوبی کوریا کی شمال مشرقی ساحل کی شہروں سے حملہ کے آغاز کرنے کا مشورہ دیا مگر جنرل میک آرتھر نے جنوبی کوریا کے مغرب میں سیول کے قریب ساحلی شہر انچون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ انچون! ہم انچون پر بحری لینڈنگ کرافٹس کے ذریعے ساحل پر فوجیں اتاریں گے،پھر ساحل پر قبضہ جما کر سیدھا سیول کی طرف پیش قدمی کریں گے اورسیول پر قبضہ کرلیں گے۔ہمارا اصل حملہ انچون پر ہوگا مگر دشمن کو دھوکہ دینے کیلئے مشرقی ساحلوں پر بھی حملہ کرنا ہوگا۔جنرل میک آرتھر کو بتایاجاتا ہے کہ انچون کا بندرگاہ چھوٹا ہے اور بڑی فورس کی لینڈنگ ناممکن ہے اور ساحلی زمین سطح سمندر سے کلفCliffکی طرح اونچی ہے۔ساحل پر لینڈنگ کیلئے High tideکا انتظار کرنا ہوگا جو مہینہ میں ایک دن آتا ہے اور وہ بھی صرف چند گھنٹوں کیلئے رہتا ہے اس کے علاوہ سمندر کا پانی سطح زمین سے نیچے ہے۔جنرل میک آرتھر سنجیدگی سے کہتا ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن انچون کی ساحل سے حملہ کی توقع نہیں کریگا۔یہی امریکی فوج کی کامیابی کا سبب بنے گا۔انچون لینڈنگ کی تیاریاں شروع ہوئیں مکمل تربیت، ریہرسل کے بعد حملہ کیا گیا اور امریکی فوجوں نے پندرھن منٹ کے اندر انچون کی ساحل پر اومیدو پر قبضہ کرلیا اور آگے بڑھ کر سیول پر قبضہ کرلیا۔ بعد میں شمالی کوریا کی مد د کےلئے چین کی فوجیں جنگ میں شامل ہوئیں تو جنرل میک آرتھر نے امریکی حکومت سے چین کی بڑی شہروں پر فضائی بمباری کی اجازت طلب کی تو امریکی صدر ہیری ٹرومین نے کسی ممکنہ حادثہ سے بچنے کی خاطر جنرل میک آرتھر کو عہدہ سے ہٹا لیا۔ اعلیٰ عسکری قیادت کو بین الاقوامی معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے اور جنگ کو پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ فیصلہ سول حکومت نے کرنی ہوتی ہے۔
کسی بھی فوجی آپریشن سے پہلے اسکی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔اسکے بعد آپریشنل پلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اس میں ملوث ہونیوالے افراد، افسر اور جوانوں کی تربیت بھی مشقیں کرکے جاتیں ہیں۔ تربیتی مشقوں کے دوران خامیوں کو مزید تربیت اور مشقوں کے ذریعے دور کیاجاتا ہے۔متعلقہ آپریشن کیلئے لاجسٹک کے فول پروف نظام کو یقینی بنایاجاتا ہے۔ آپریشن میں ملوث نقص نظر آئے اسے دور کیاجاتا ہے۔ پلاننگ، ٹریننگ اور کو آرڈینیشن کے مراحل طے کرنے بعد ہی عملدرآمد کامرحلہ آتا ہے۔اس میں بھی ہر سطح پر کمان کی اعلیٰ کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔ آجکل کارگل کی لڑائی کے معاملہ کو ریٹائرڈ جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب میں موضع بحث بناڈالا ہے۔ جنرل شاہد عزیز صاحب ماشاءاللہ جنرل پرویز مشرف کے ہمنوا، پاکستان میں فوجی بغاوت کے ذریعے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے میں شریک جرم رہے اور جنرل پرویز مشرف کے با اعتماد ساتھی رہ کر اعلیٰ ترین عسکری عہدہ یعنی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدہ تک پہنچ کر انتہائی اہم عسکری کمان کرتے رہے۔ جناب کی ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی گئی کتاب کو عین انتخابات کے قریب پذیرائی ملنا اور پھراس میں انتہائی حساس عسکری و سیاسی معاملات کو چھیڑنا ایک خاص مقصد کی نشاندہی کرتا ہے۔نوائے وقت میں 14اور17اپریل 2012کو شائع شدہ اپنے کالم میں واضع کیا تھا کہ امریکہ،پاکستان میں مسلم لیگ(ن)کی قیادت کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے رخنہ تصور کرتا ہے۔ ”اب امریکی حکمت عملی کچھ یوں ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کا راستہ روکناچاہتے ہیں“ اسکے علاوہ میں نے اپنے کالم (نوائے وقت 31دسمبر 2012) میں بھی پاکستان کی اندرونی سیاست میں غیر ملکی عمل دخل کے متعلق بھی واضع کیا تھا۔
اکتوبر 2011 کو PTI کے عمران خان کو Launch کیا گیا اور انہوں نے مسلم لیگ کو ہدف تنقید بنایا۔ عمران خان کی سیاست نرم پڑ گئی تو دسمبر 2012میں طاہر القادری کومسلم لیگ (ن) کیخلاف Launch کیا گیا۔طاہر القادری بھی اب اعلیٰ عدالت کے ذریعے اپنی غیر آئینی مطالبہ سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہوئے۔ اپنے آقاﺅں کو اپنی بے بسی اور بے کسی ظاہر کرکے آقاﺅں سے ملے ہوئے ٹاسک سے جان چھڑا رہے ہیں۔البتہ طاہر القادری صاحب بھی ممکنہ طورپر اپنے مریدوں کے ووٹ مسلم لیگ(ن) کے مخالف اور امریکی لابی کے سیاسی جماعتوں کی جھولی میں ڈال کر امریکی مفادات کے حصول کو تقویت دینگے۔پاکستان کے شہر لاہور میں متوسط اور غریب طبقہ کیلئے باوقار سفر ی سہولیات کو جنگلہ بس سروس کا نام دینے والوں کی بوکھلاہٹ اپنی جگہ پر ہے لیکن ابھی مزید شگوفے پھوٹنے اور کئی تماشے ہونے کے امکانات ہیں۔کارگل کی لڑائی کے معاملہ کو چھیڑنا بھی ایک نیا شگوفہ ہے۔کارگل کی لڑائی ایک عسکری معاملہ ہے اسلئے اس کا تجزیہ بھی عسکری طریقہ کار سے ہوناچاہئے اور اسکے سود وزیاں کا معاملہ بھی تذویراتی Strategic نظر سے دیکھناچاہئے۔
مئی1999 میں معمول کیمطابق میں نے صبح کے وقت اپنے گھر کے ورانڈے میں بیٹھ کر اخبار کا مطالعہ کیا تو کارگل کے محاذ پر لڑائی چھڑ جانے کی خبر پر نظر پڑی۔یقین کیجئے کہ لمحہ بھر کیلئے مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا کئی سوال ذہن میں ابھرے۔پاکستان نے کارگل میں انڈیا کی پوسٹوں پر قبضہ تو کرلیا،کیا انہیں قابو بھی رکھ سکیں گے؟Can we hold it? ہم نے موقف اختیار کیا کہ مجاہدین نے قبضہ کیا ہے۔یہ موقف تو بیوقوفی ہے۔ہم مجاہدین کو اپنے ذمہ میں نہیں لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ مجاہدین کشمیر ی ہیں، پاکستان ان کو اسلحہ نہیں دیتا ان کی عسکری امداد نہیں کرتا فقط ان کی اخلاقی حمایت کرتا ہے۔اب انڈیا نے جو ابی حملہ تو کرنا ہے یہ کتنی بڑی بیوقوفی ہے کہ ہماری اعلیٰ عسکری قیادت نے جنگ کے پہلے ہی روز سے اپنی فوجوں کو Abondon کیا اور انکی امداد کے ذمہ داری سے دستبردار ہوئے۔یہ تو ایسا ہے کہ اپنی فوجوں کو مقتل میں داخل کرکے تباہ ہونے کیلئے چھوڑ دیا گیا اور کوئی لاجسٹک سپورٹ بھی نہیں دی۔اب جب انڈیا کی فوجیں ہمارے افسر اور جوانوں پر حملہ کرینگے تو ہمارے پاس کیا جواز رہ گیا کہ ہم بھی اپنی فوجوں کو بچانے کیلئے انڈیا کے ساتھ لڑائی کرینگے۔ اف خدایا! پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی یہ کیسی مہم جوئی(Mis adventure) ہے۔خدا خیر کرے! ان سوچوں کی وجہ سے میں چکرا سا گیا۔اٹھ کر پانی پی لیا تو کچھ سنبھل سا گیا۔حالیہ تحقیق سے یہ منکشف ہوا کہ انڈیا کی جوابی حملہ کے بعد پاک فوج اپنے افسر اور جوانوں کو کارگل میں اگلی مورچوں پر گولیاں، اسلحہ، راشن یعنی لاجسٹک پہنچانے میں مطلق ناکام رہی۔کیپٹن کرنل شیر جیسے 500سے زائد شیر جوان اپنی رائفل کی آخری گولی تک فائر کرکے دس بدست سنگینوں سے لڑائی کرنے کیلئے مورچوں سے باہر آکر دشمن کو للکار اور دشمن کو گولیوں سے شہید ہوئے۔اگر یہ سب ہونا تھا تو پھر ایسی مہم جوئی کیوں کی گئی؟ ایک ریٹائرڈ کرنل نے اپنی کتاب میں تمام حقائق سے پردہ چاک کیا جبکہ ریٹائرڈ جنرل شاہد عزیز نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرکے متعلقہ جنرلز کو ذمہ داری سے مبرا کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقتاً کارگل آپریشن کی ناقص پلاننگ اور ناکامی کے ذمہ دار متعلقہ جنرل آفیسر کمانڈنگ،کور کمانڈر، جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف اور چیف آف آرمی سٹاف بنتے ہیں۔کارگل سانحہ کے فوراً بعد ان چاروں جنرلز کو عہدوں سے ہٹا کر ان کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر کارگل کے شہداءکے لہو کا حساب لیاجاتا۔ایسے معاملات میں جوڈیشل کمشن نہیں بنایا جاتا ہے بلکہ براہ راست متعلقہ اعلیٰ عہدیداروں کا احتساب کیاجاتا ہے۔ پورے دنیا کے ملکوں میں اس احتساب کی مثالیں موجودہیں۔اب رہی بحث کہ کارگل سانحہ کا کیا فائدہ ہوا تو بیشک تبصرہ کار اور کالم نگار اس سانحہ کے سینکڑوں فوائد بیان کریں مگر جس زاویہ سے مجھے نظر آتا ہے اس سے تو کارگل سانحہ کے بد ترین اور دوررس نقصانات ہیں۔ مئی1998 میں یعنی ایک سال قبل انڈیا کی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے اپنی ایٹمی قوت ہونا دنیا پر ظاہر کیا تو انڈیا میں کھلبلی مچ گئی۔انڈیا نے تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا اعلان کیا اور مذاکرات شروع بھی ہوئے جس میں پیشرفت ہورہی تھی۔کارگل کی لڑائی نے ان تما م کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ایٹمی قوت ایک ایسی Deterrent ہے کہ اس قوت کے حامل ممالک روایتی جنگ سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں روایتی جنگ لڑتے لڑتے،ایٹمی جنگ نہ چھڑ جائے۔کارگل جنگ نے ثابت کردیا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان روایتی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔