نگران حکومت، انتخابات، قیاس آرائیاں اور حقیقت

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ

 یوں تو پاکستان کا سیاسی نظام ابتداءہی سے حوادث کا شکار رہا ہے۔ملک میں پانچ سال تک جمہوریت کی گاڑی چلنے کے باوجود بھی آج کل انتخابات کے لیے جس قسم کی قیاس آرائیوں کا ذکر سیاسی رہنماﺅں کے بیانات میںیاٹی وی ٹاک شوز ، اخبارات کے ادارئیے اور کالم نگاروں کے تبصرے میں ہو رہا ہے وہ اپنی جگہ انتہائی دلچسپ اور حیران کن ہے۔ بیسوں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن کی تشکیل اور نگران حکومتوں کے قیام کے حوالے سے تقریباً سبھی پہلوﺅں پر سیر حاصل بحث کے بعد حکومت اور حزب اختلاف نے سب امور کواس ترمیم میں سمونے کی کوشش کی ہے۔
اب جبکہ موجودہ اسمبلیوں اور حکومت کی مدت اقتدار ختم میں تقریباً تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں تو اس قسم کی قیاس آرائیوں کی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہئیے، لیکن کیا کیا جائے کہ "چھٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ سے لگی ہوئی"۔ ہماری قومی نفسیات کچھ اس طرح ترتیب پائی ہے کہ ہم ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ اہل نظر کہتے ہیں کہ" جہاں شک ہے وہاں شیطان اور جہاں یقین ہے وہاں خدا" ۔قیاس آرائیوںکے حوالے سے حمید نظامی پریس انسٹی ٹیوٹ نے لاہور میں گزشتہ ہفتے ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔جس کا عنوان تھا"انتخابات2013،قیاس آرائیاں اور امکانات" انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ابصار عبد العلی صاحب نے مجھے اس موضوع پر گفتگو کے لیے مدعو کیا۔ سیمینار کی صدارت ممتاز قانون دان اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر ایس ایم ظفر صاحب نے کی۔ دوسرے مقررین میں محترم فرید پراچہ صاحب اور تاثیر مصطفی صاحب بھی شامل تھے۔ایس ایم ظفر صاحب کی موجودگی میں اس موضوع پر اظہار خیال خاصہ مشکل تھا کیونکہ ایس ایم ظفر صاحب پاکستان کے آئین، قانون اور سیاست کی زندہ تاریخ ہیں۔ ابصار عبد العلی صاحب نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ہمارے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہر ناکامی کے لیے ایک بہانہ موجود ہوتا ہے اور اپنی ہر لغزش اور بے عملی کے لیے ہم دوسروں کو ملزم ٹھہراتے ہیں۔ جس میں دو ان دیکھے ملزم سر فہرست ہیں۔ ایک کسی بیرونی سازش کا ہونا اور دوسرا کسی تیسری طاقت کا کمال۔ ان دنوں کے سر پر سلیمانی ٹوپی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں اسباب حکومت وقت کو نظر نہیں آتے حالانکہ یہ دونوں عناصر کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں پاکستان کو اس وقت تک نقصان نہیں پہنچا سکتے جب تک پاکستان خود اپنوں کی نا اہلیو ں، بے بصیرت فیصلوں، عمل گریز منصوبوں اور بد ترین حکمرانی کے ہاتھوں اندرونی طور پر کمزور نہ ہو۔ گویا اپنے دشمن دوسرے سے زیادہ خود ہم ہیں۔اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہیں کر پاتے۔ ووٹ کی طاقت اور اس میں موجود تبدیلی لانے کی اہلیت کی سمجھ نہیں رکھتے اور ہمیں صحیح نمائندے اور اہل رہنما چننے کا شعور نہیں ہے ۔اس کی وجہ ہمارے عوام جاگیر داروں، وڈیروں، پیروں اور سرمایہ کاروں کی استحصال کا شکار ہیں جو انہیں "رعایا" کے درجے پر ہی رکھنا چاہتے ہیں اور "عوام" کا درجہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ جناب فرید پراچہ اور تاثیر مصطفی صاحب نے بھی اپنے خطاب میں انتخابات کے حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیوں کے پس منظر، پیش منظر اور صور تحال سے نمٹنے کے لیے عدلیہ، میڈیا اور فوج کے کردار کو سراہا۔انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ صورتحال میں اتار چڑھاﺅ کے باوجود انتخابات وقت پر ہوں گے اور اس کی سب سے بڑی وجہ پاک فوج کی موجودہ قیادت سے جمہوریت کی Commitment ہے ،ورنہ حالات تو ماضی میں بھی کئی بار ایسی صورت حال اختیار کر گئے تھے اگر فوج چاہتی تو وہ اقتدار سنبھال سکتی تھی۔ سبھی مقررین نے علامہ طاہر القادری کی حالیہ مہم جوئی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ ان کا اصل ایجنڈا عام انتخابات کا التواءہی ہے۔
اس موضوع پر اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے میں نے اہل تصوف کی جانب سے دی جانے والی ایک مثال کا سہارا لیا۔ ایک تالاب کے پانی میں دو افراد پاﺅں لٹکائے بیٹھے تھے ۔اسی تالاب میں ایک مچھلی اور سانپ بھی تھے۔ مچھلی نے سانپ سے پوچھا کہ تمھاری اور میری شکل و صورت اور کھال کتنی ملتی جلتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انسان مجھ سے پیار اور تم سے نفرت کرتا ہے۔میں پکڑکر شوق سے کھانا چاہتا ہے جبکہ تمہیں دیکھتے ہی خوف زدہ ہو جاتا ہے اور مارنے کو دوڑتا ہے۔ سانپ بولا کہ میں انسان کا دشمن نہیں میں تو خود اسے دیکھ کر جان بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں ۔انسان مجھ سے ڈرتا بھی ہے اور موقعہ ملے تو میری زندگی کو ہی ختم کردیتا ہے۔ دراصل انسان کی نفسیات میں میرے حوالے سے خوف اور دشمنی بھری ہوئی ہے اگر تمہیں یہ بات آزمانی ہے تو آﺅ ایک تجربہ کرتے ہیں۔ میں کنارے پر بیٹھے آدمی کے پاﺅں پر کاٹتا ہوں، جیسے ہی وہ پاﺅں باہر نکالے تم اس کے سامنے پانی میں اچھلنا۔ پھر یہی عمل میں کروں گا۔ تم خود ہی اندازہ لگا لینا کہ آدمی کا ردعمل کیا ہو گا۔سانپ آگے بڑھا اور پانی کے اندر لٹکے ہوئے پاﺅں کو کاٹا تو سامنے سے مچھلی نے پانی پر چھلانگ لگائی۔دوسرا آدمی بولا کہ کوئی بات نہیں مچھلی تھی۔ دونوں پھر گفتگو میں محو ہو گئے۔کچھ ہی دیر بعد مچھلی نے آدمی کے پاﺅں پر کاٹا اور سانپ سامنے سے اچھلا، یہ عمل دیکھتے ہی آدمی چلایا، ہائے سانپ کاٹ گیا۔ یہ کہتے ہی وہ بے ہوش ہو گیا۔کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے سیاسی نظام کی ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما دودھ کے جلے ہوئے ہیں وہ چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینا چاہتے ہیں۔سیاست دانوں کو ماضی میں جس صورت حال کا سامنا رہا۔ خواہ وہ ان کی وجہ سے پیدا ہوئی ہویا کسی فوجی آمر کی بناءپر وہ اب بھی نفسیاتی طور پر گھبرائے ہوئے ہیں۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے تمام تر مشکلات کے باوجود ایک دوسرے کی حکومت کو پانچ سال تک سہارا دیا ۔ دوسری طرف حب الوطنی سے سرشار اعلیٰ عدلیہ اور متحرک میڈیا جمہوری اقدار کے فروغ میں معاون کردار ادا کر رہا ہے پھر ایسی نفسیاتی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہئیے تھی خصوصاً جبکہ پاک فوج کی قیادت جمہوری نظام کے لیے چھتری فراہم کر رہی ہو تو ایسی قیاس آرائیاں اور افواہوں کو جنم نہیں لینا چاہئیے۔میرے اس سوال کا جواب ایس ایم ظفر صاحب نے دیتے ہوئے کہا کہ دراصل ہمارے پانچ سالہ جمہوری نظام میں مچھلی نے سانپ کا روپ دھار لیا ہے اور اس مچھلی نے اپنی خوراک کرپشن سے حاصل کی ہے مجھے اگر کوئی ڈر ہے تو اس مچھلی سے ہے جو اب سانپ بن گئی ہے۔اگر ہم کرپشن پر قابو پا لیتے تو کسی قسم کی قیاس آرائی جنم نہ لیتی ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ انتخابات تو انشاءاللہ وقت پر ہوں گے لیکن اگر عوام نے کرپشن سے پلے ہوئے سانپوں ہی کو منتخب کر کے پارلیمنٹ میں بھیجنا ہے تو پھر جمہوریت کا مستقبل درخشاں نہیں ،بقول ان کے اس ملک میں جمہوریت کب تک اور کیسے چلے گی اس کا سارا دارومدار ان انتخابات کے نتائج پر ہو گا۔