مسئلہ کشمیر اور اس کا ممکنہ حل

کالم نگار  |  راجہ افراسیاب خاں

دنیا کی تاریخ کا سب سے پرانا مسئلہ ریاست جموں و کشمیر کا ہے۔ 1947ءمیں پاکستان اور بھارت کے معرض وجود میں آنے کے بعد ہی سے ریاست جموں و کشمیر کا جھگڑا شروع ہو گیا تھا۔ ریاست جموں و کشمیر پاکستان کا لازمی حصہ ہے۔ اسی مسئلہ کی بنا پر اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تین خوفناک جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے خطرات سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان چوتھی جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات تاریخ کا ایک حصہ ہے کہ برصغیر میں ہندو اور مسلمان دو قومیں صدیوں سے آباد چلی آ رہی ہے اسی تاریخی پس منظر میں پاکستان اور بھارت پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک بات حقیقت بن کر سامنے آتی ہے کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی مسئلہ کشمیر کا آخری اور شافی حل نکالا جائے گا۔ ریاست جموں و کشمیر میں 85 فیصد سے بھی زائد مسلمان آباد ہیں۔ جموں اور اسکے گرد و نواح کے علاقوں میں ہندو اور سکھ آباد ہیں۔ اسکے علاوہ ساری ریاست جموں و کشمیر میں مسلمان ایک ناقابل تردید حد تک اکثریت والی آبادی ہے۔ وہ لوگ چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ وہ کسی صورت میں بھی بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہ ہیں وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انکی زندگی تاریخ، معاشیات اور جغرافیائی حالات اس امر کی ایک بڑی دلیل ہے کہ ریاست جموں و کشمیر روز اول سے ہی پاکستان کا لازمی حصہ بنا ہوا ہے۔ ذرا پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ نقشہ پر نظر دوڑائیں کہ کس طرح کشمیر پاکستان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ پاکستان کی زمین کو سیراب کرنے والے تمام کے تمام دریا کشمیر سے آتے ہیں۔ زندگی پانی اور ہَواکی وجہ سے جاری و ساری ہے۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کا قیام ناممکن بن جاتا ہے۔ کشمیر سے آنے والا پانی پاکستان اور پاکستانی قوم کو زندگی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا گیا ہے۔ اگر ہمیں ان دریاﺅں کے پانی سے محروم کر دیا جائے تو یقینی طور پر پاکستان دنیا کے ایک وسیع ترین ریگستان کی شکل اختیار کر لے گا۔
1947ءمیں بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج کو بھیج کر قتل غارت کے بعد زبردستی اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ کشمیریوں نے کبھی بھی دل و دماغ سے بھارت کو قبول نہ کیا ہے۔ کشمیری چاہتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو خالی کر دے اور وہ خود اپنی آزادانہ مرضی اور خواہش سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ بھارت نے شروع شروع میں کشمیریوں کے اس مو¿قف سے اتفاق کیا تھا کہ ریاست میں یو این او کی نگرانی میں ہونے والی آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری میں کشمیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں گے۔ افسوس کہ اس بھارتی اتفاق کے باوجود آج تک کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام نہ کیا جا سکا ہے اس طرح مسئلہ کشمیر جوں کا توں سرد خانہ میں پڑا چلا جا رہا ہے۔ وقت کا یہ اہم ترین تقاضہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ کشمیری خود اپنی آزادانہ خواہش اور مرضی سے مسئلہ کشمیر کو حل کریں گے تو سرزمین پاکستان اور بھارت میں امن و خوشحالی کا ظہور ہو گا اور اس طرح یہ خطہ دنیا کا ایک انتہائی خوشحال علاقہ بن جائے گا، دونوں ملکوں سے غربت اور جہالت کا خاتہ ہو گا، دونوں ملک امن و آشتی کے ساتھ ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتے چلے جائینگے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ اس دیرینہ ترین مسئلے کو آج ہی حل کر دیا جائے۔ اس لئے بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز آئے اور وہ پاکستان کے ساتھ گفت و شنید کا آغاز کرے۔ یہ بات چیت صرف اور صرف وقت گزارنے کیلئے ہرگز نہیں ہونی چاہئے بلکہ دونوں ممالک کو اسکے حل کی طرف انتہائی دیانتداری اور نیک نیتی سے آنا ہو گا۔ گہری سوچ کے بعد مَیں کشمیر کے جھگڑے کے حل کیلئے ایک تجویز پیش کرتا ہوں :
ریاست جموں و کشمیر میں تین مرحلہ جات میں رائے شماری کا اہتمام کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ان علاقوں میں رائے شماری ہو گی جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ خود اپنی آزاد مرضی سے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنا الحاق کریں گے۔
دوسرے مرحلے میں جموں وغیرہ کے ہندو علاقوں میں رائے شماری کی جائیگی کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس ملک کیساتھ شامل ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ ظاہر ہے ریاست کے اکثریتی مسلمان آبادیوں والے تمام کے تمام علاقے پاکستان کیساتھ شامل ہونے کا اعلان کرینگے۔ اس مرحلہ سے گزرنے کے بعد ہندو اور بُدھ مت علاقوں میں رائے شماری ہو گی اور اس طرح وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کیساتھ وابستہ ہونے کا اعلان کرینگے۔ اس طرح ریاست جموں و کشمیر کا جھگڑا امن و آشتی سے حل ہو جائیگا۔
دنیا اب بہت آگے کی سوچ میں مصروف ہے آج کا یورپ معاشی میدان میں ایک ہوتا ہُوا نظر آتا ہے۔ یورپ کے 27 ملکوں میں صدیوں سے خوفناک خونی جنگیں ہوتی رہی ہیں، لاکھوں لوگوں کا قتل عام ان جنگوں میں ہوتا رہا ہے آج وہی یورپ ایک وحدت میں نتھی ہو چکا ہے اس خطے میں بھی حق و انصاف کی بنیاد پر یورپ کا عمل دہرایا جا سکتا ہے اگر جرمنی اور برطانیہ میں امن قائم ہو سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی انصاف کی بنیادوں پر امن کا قیام ممکن نظر آتا ہے۔ یہ بات صرف اور صرف اس وقت ممکن ہو گی جب بھارت میں ”نازی جرمنی“ کی سوچ کا خاتمہ ہو گا۔ اس دور میں ”نازی جرمنی“ کی سوچ کا امکان کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکے گا۔ کشمیریوں کو آزادی دے کر اور پاکستان کے ساتھ دوستی اور امن کا رشتہ قائم کر کے بھارت کو تجارتی میدانوں میں زیادہ معاشی اور تجارتی فوائد حاصل ہونگے۔ میری تجویز ہے کہ بھارتی رہنما بار بار یورپی ممالک کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح یہ صدیوں پر محیط عرصے پر خوفناک جنگیں لڑنے والے ملک دوستی اور پیار کے رشتوں میں ایک ہو چکے ہیں۔ آج یورپ کے 27 ملک یورپین یونین کا نام اختیار کر چکے ہیں۔ بھارت والے یہ دیکھیں کہ کس طرح وہ ”انگریز اور جرمن“ جو پیدائشی طور پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے تھے آج وہ رشتے دار بن کر ایک ہو چکے ہیں۔
برصغیر میں بھی یورپین یونین کی طرح سات ملکوں کی سارک بن چکی ہے۔ صد افسوس کہ سارک ناکامی کی طرف جا رہی ہے، آئیں ہم سب سارک کا رُخ ناکامی سے موڑ کر کامیابی کی طرف لے آتے ہیں شرط صرف اور صرف یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کر لیا جائے۔کشمیر کے جھگڑے کے ختم ہوتے ہی ہم انتہائی تیزی سے بھارت کے ساتھ دوستی کے راستے پر چل پڑیں گے، پرانی دشمنیاں ختم ہو جائیں گی، سوشل اور تجارتی راستے کھل جائیں گے، سرحدیں نرم پڑ جائیں گی۔ ہر طرف تجارت ہی تجارت کی بات ہو گی۔ اس طرح اس خطے سے جہالت، غربت، بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ خوشحالی پاکستان اور بھارت دونوں کا مقدر بن جائے گی۔ دنیا کے کروڑوں لوگ سیر و تفریح کیلئے اس خطے کا رُخ کیا کرینگے۔ بھارت کو پاکستان سے بے معنی مقصد دشمنی کو مکمل طور پر ختم کرنا ہی ہو گا۔ بھارت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس بات کو سمجھ لے کہ پاکستان تاقیامت قائم و دائم رہنے کیلئے بنا ہے۔ اب سرزمین پاکستان ناقابل تسخیر بن چکی ہے۔ پاکستان اس وقت 25 کروڑ آبادی والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، کراچی، میرپور وغیرہ جدید ترین شہر بن چکے ہیں۔خوشحالی اور امن ہمارا مقدر بن چکا ہے۔