ڈاکٹر طاہر القادری کیلئے کچھ گزارشات۔۔!!

ڈاکٹر طاہر القادری کیلئے کچھ گزارشات۔۔!!


ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے 23 دسمبر کو مینار پاکستان پر جلسہ کرکے قوم کو تبدیلی کا نعرہ دینے جا رہے ہیں تو ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ آخر تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ پاکستان میں موجودہ انتخابی نظام صرف اور صرف جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا تحفظ کرتا ہے اور موجودہ نظام میں کوئی متوسط طبقے کا فرد سیاست نہیں کر سکتا اس لئے ہر بار موجودہ نامور سیاستدان تبدیلی کا نعرہ لگا کر بولیاں لگاتے ہیں اور مخصوص لوگوں کو پارٹیوں میں شریک کرکے الیکشن میں دولت کے بل بوتے پر فتح حاصل کر لیتے ہیں لیکن اس سارے کھیل میں ملک کو کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ گزرتے دن کے ساتھ پاکستان تنزلی کے راستے پر چل رہا ہے۔ اسلئے تحریک استقلال نے موجودہ نظام سے بغاوت کرکے 1979ءمیں ہی موجودہ نظام سے بغاوت کرکے اپنے منشور میں ”چہرے نہیں نظام کو بدلو‘ لوٹ کھسوٹ کے راج کو بدلو“ کا نعرہ لگایا مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا جس کے باعث اب تقریباً 33 سال بعد ہم ایک بار پھر یہی نعرہ دوہرانے پر مجبور ہیں کیونکہ موجودہ انتخابی نظام سے ملک کی تقدیر نہیں بدلی جاسکتی۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب اگر واقعی ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انہیں ایسی کسی سیاسی جماعت سے ہرگز ہرگز رابطہ نہیں کرنا چاہئے جو کبھی بھی اقتدار میں رہی ہو یا اقتدار میں حکمرانوں کو سہارا دیا ہو۔ ڈاکٹر صاحب کو چاہئے کہ 23دسمبر کواپنے جلسہ عام میں سیاست نہیں ریاست بچاﺅ کے علاوہ نظام کی تبدیلی پر زور دیں۔ ڈاکٹر صاحب کو چاہئے کہ الیکشن کمیشن سے 5مطالبے کریں۔(1) فوری طور پر ملک میں فوج کے ذریعے مردم شماری کرائی جائے(2) ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی گھر گھر جاکر تصدیق کرائی جائے (3) ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرائی جائیں (4) آئندہ انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر منعقد کرائے جائیں (5) قومی‘ صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی نشستوں کی تعداد دوگنی کردی جائے۔یہ پانچوں مطالبات پورے ہونے تک ملک میں انتخابات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس سے ملک کو بجائے فوائد حاصل ہونے کے مزید نقصانات کا اندیشہ ہے۔
میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ23 دسمبر کے جلسے میں حاضرین کی تعداد توقعات سے بھی زیادہ ہوگی۔ مگر ڈاکٹر صاحب کوپاکستان میں موجود بنیادی مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئے اور ان مسائل کی اصل وجوہات سے بھی۔پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا بحران توانائی کا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ بڑے ڈیم تعمیر نہ کرنا ہے اس لئے اب تک حکمرانی کرنیوالے تمام فوجی و سویلین حکمران اس بحران کے مکمل ذمہ دار ہیں اور انہی لوگوں سے کسی قسم کا اتحاد کرکے ملک کا یہ بنیادی مسئلہ کبھی اور طریقے سے ہرگز حل نہیں کیا جاسکتا۔ توانائی کے بحران اور زیادہ قیمتوں کے باعث ملک کی 85% انڈسٹری بند ہوچکی ہے اور سرمایہ کار اپنی صنعتیں سمیٹ کر دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان الحمدﷲ ہائیڈل پاور پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیتوں سے مالا مال ملک ہے مگر ہمارے سیاستدان اس سے استفادہ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان میں گیس کی قلت بھی دن بدن بڑھ رہی ہے اور گیس سپلائی میں ترجیحات بھی حکمرانوں کی ذاتی جیبوں کے مطابق طے کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے گھریلو صارفین اور سی این جی اسٹیشنوں پر عوام کی حالت دیدنی ہے۔ پاکستان میں صنعت کار اپنی مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ڈیزل اور فرنس آئل کی لاگت کے حساب سے کرتے ہیں مگر پیداوار کے لئے گیس استعمال کرکے اپنے منافع میں اربوں روپے کا اضافہ کرتے ہیں اور اس تمام کھیل میں حکمران ان کا ساتھ دیتے ہیں حالانکہ گیس تھرمل پاور اسٹیشنوں کو دیکر لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی کی جاسکتی ہے۔ ہمارا برادر اسلامی ملک ایران پاکستان کو بار بار گیس پائن لائن کی جلد تکمیل کے لئے کہہ رہا ہے اور پاکستان کوپائپ لائن کے لئے امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ پاکستان کو چاہئے کہ گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت کے لئے پہلی ترجیح ایران کو دے اور کسی بھی دباﺅ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد ازجلد مکمل کیا جانا چاہئے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کو صرف اور صرف ایسی جماعتوں کو اتحاد کی دعوت دینی چاہئے جو کالا باغ ڈیم سمیت تمام بڑے آبی ذخائر کی فوری تعمیر کے حق میں ہوں۔ 23 دسمبر کے جلسے میں برملا طور پر منتخب ہونے پر فوری طورپر کالا باغ ڈیم سمیت تمام بڑے آبی ذخائر کی فوری تعمیر کا اعلان کریں اور اپنی ہم خیال تمام جماعتوں کو ساتھ دینے کی دعوت دیں۔
ڈاکٹر صاحب یہ اعلان کریں تو مناسب ہوگا کہ ہم منتخب ہوکر خیبرپختونخواہ میں منڈا ڈیم ‘ سرائیکی بیلٹ رحیم یار خان پر ایک چھوٹا ڈیم اور صوبہ سندھ میں خیرپورمیرس (کوٹ ڈیجی)‘ سیہون شریف اور جامشورو میں 3چھوٹے ڈیم تعمیر کریں گے تاکہ تینوں صوبوں میں سردی کی فصل (فصل ربیع) کے لئے وافر پانی دستیاب ہواور ساتھ ہی ساتھ کالا باغ ڈیم سمیت واٹر ویژن 2016ءمیں موجود 5 بڑے ڈیم بھی تعمیر کریں گے۔ کالا باغ ڈیم پرقومی اتفاق رائے نہیں تھا اس لئے یہ مسئلہ 2مرتبہ مشترکہ مفادات کونسل میں گیا اور 2مرتبہ مشترکہ مفادات کونسل نے اس کی منظوری دی ۔ چونکہ مشترکہ مفادات کونسل کا کام ہی صوبوں کے درمیان تنازعات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے اس لئے اس منظوری کے بعداس منصوبے پر بھی قومی اتفاق رائے پیدا ہوگیا۔
ڈاکٹر صاحب یہ بھی اعلان کریں کہ تمام صوبوں میں باقاعدگی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات منعقد ہوں گے تاکہ عوام کے بنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوسکیں۔ ملک بھر میں کسی کی بھی تقرری‘ ترقی اور تبادلہ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوگا اور تمام سیاسی‘ راشی اور سفارشی لوگوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے گا۔ تمام صوبوں کو ان کے قدرتی وسائل پر 50% حق دیا جائیگا اور صوبائی خودمختاری دیکر مرکز صرف وزارت خارجہ‘ خزانہ‘مواصلات اور دفاع اپنے پاس رکھے گا۔ گوادر پورٹ کی فوری تکمیل کی جائےگی۔