پاکستان کے جسد خاکی کو لاحق مرض۔ شفا ف کرپشن

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم
 پاکستان کے جسد خاکی کو لاحق مرض۔ شفا ف کرپشن


 کاش ہمارے نظام میں غریب کا بچہ بھی دنوں میں موسیٰ گیلانی، مونس الٰہی اور ارسلان افتخار کی طرح عملی زندگی میں کامیابیوںاور کامرانیوں کی منازل طے کرے تاہم کچھ غریب اور بے حال کارکنوں کو مسلم لیگ(ن) یا پیپلز پارٹی کا ایم این اے یا ایم پی اے بن کر دولت کی دیوی کے درشن ضرور نصیب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) راولپنڈی کے کارکن ایم این اے اور ایم پی اےز پر ماشاءاللہ خود دھن برس رہا ہے اگر چودھری نثار کے ہاتھ کرپشن سے پاک صاف ہیں تو بتائیں ریاستی نظام میں بہتری آسکتی ہے کیونکہ اس طرح کرپشن میں کمی تو آجاتی ہے مگر خاتمہ ناممکن رہتا ہے۔ ابھی تک ہمارے سیاستدان اور حکمران احتساب کا بے رحم، آزادانہ اور اعتبار رکھنے والا نظام قائم نہیں کرسکے ہیں نواز شریف کا احتساب بیورو ہویا موجودہ نیب اس میں کوئی شک نہیں کہ انکی وجہ سے کرپشن کی رقومات حکومت کو واپس ملیں مگر دونوں اداروں میں ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر مخالفین کا احتساب کیا گیا۔ جنرل شاہد عزیز کو نیب کے چیئر مین کی حیثیت سے اس لئے استعفیٰ دینا پڑا کہ انہوں نے موجودہ حکمرانوں کے خلاف کرپشن کے کیسز واپس لینے سے صاف انکار کردیا تھا اور چینی اور آئل کمپنیوں کے ناجائز کارٹل کیخلاف اقدامات اٹھانے کی کوشش کی اور شوکت عزیز کی مرضی کے برخلاف بڑی بڑی آئل کمپنیوں سے 19ارب روپے کی ریکوری کرنے کی جسارت نہ کرنے سے انکار کردیا۔لہٰذا ضروری ہے۔
(i) انتخابی نظام میں ایسی اصلاحات ہونی چاہئیں کہ دولت کی کار فرمائی اور فیصلہ کن اہمیت نمایاں طورپر کم ہوجائے۔
(ii) الیکشن لڑنے والے تمام جماعتوں کے امیدواروں کے کوائف کی مکمل چھان پھٹک کرکے بدکردار،بے اعتبار اور کرپٹ عناصر کو نا اہل قرار دیدیاجائے۔
(iii) زرعی آمدنی پر منصفانہ انکم ٹیکس لگایاجائے،صنعتکاروں اور تاجر طبقے سے بلا امتیاز پورے واجب الادا ٹیکس وصول کیے جائیں۔
(iv) آزادانہ حیثیت کا حامل نیا احتساب کمشن قائم کیاجائے اور اسکے ذریعے ایسے لوگوں کا احتساب شروع کردیاجائے جن پر کرپشن اور لوٹ مار کے متعین الزامات ہوں یا جو اپنے معلوم ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھتے ہوں اور انکا معیار زندگی بے جواز ہو اور کسی بھی کرپٹ شخص سے پلی بار گینگ نہ کی جائے ۔
(v) غیر پیداواری سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے سیاسی حکمرانوں، اعلیٰ بیورو کریسی اور اراکین پارلیمنٹ کے تمام PERKS کا فوراً خاتمہ کردیاجائے۔
(vi) تمام پبلک انٹر پرائزز واپڈا ،پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل جو ہمارے کٹ کا سالانہ 480 ارب روپے ہضم کررہی ہے انہیں شفاف نجکاری کے عمل کے ذریعے بیج دیاجائے۔
(vii) تعلیم، صحت اور عوامی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیاجائے اور اس میں سرکاری اہلکاروں اور ایم این اے ،ایم پی ایز کے ٹھیکیداری کمشن کا مکمل خاتمہ کیاجائے۔
(viii) تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے اخراجات کا جائزہ لینے کیلئے عدلیہ پر مشتمل کمیشن قائم کیاجائے اور ان کے غیر پیداواری اخراجات میں مناسب کٹوتی کی جائے۔
(ix) بیورو کریسی کے اعلیٰ افسران کو کس استحقاق کے تحت کروڑوں کے دو دو پلاٹ الاٹ کئے جارہے ہیں اور لاکھوں روپے کا الاﺅنس لینے کے بعد وہ کس استحقاق کی بنیاد پر سرکاری گاڑیاں نہ صرف خود استعمال کرتے ہیں بلکہ انکے بیوی بچے،ساس سسر سبھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں ۔ایسی بد دیانتیوں کا خاتمہ فوری طورپر ہوناچاہئے۔
(x) حکمران جہاز میں اپنے چمچوں کو مفت غیر ممالک کے دورے حج اور عمرے کروانے ختم کریں جیسے مصر کے محمد مرسی نے کیا۔انکے اہل خانہ عام پرواز سے سعودی عرب بغیر پروٹوکول عمرہ کرنے گئے۔
(xi) قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی پابندی کیلئے اعلیٰ عدلیہ کے تمام فیصلوں پرعمل کرنا ہوگا۔(ختم شد)