جب چلی سرد ہَوا

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ
جب چلی سرد ہَوا


وقت کو سب سے بہترین مرہم قرار دیا گیا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ زخم کتنا ہی گہرا اور کتنا ہی کاری کیوں نہ ہو وقت کا مرہم بالآخر اسے مندمل کر دیتا ہے مگر بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ بظاہر وہ بھر ہی کیوں نہ جائیں مگر جونہی انہیں یاد کیا جاتا ہے یا اُن کی یاد آ جاتی ہیں تو درد کی ٹیسیں اُٹھنے لگتی ہیں اور زخم پھر سے تازہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے تو شاعر نے کہا ہے ....
دل کی چوٹوں نے کبھی چین لینے نہ دیا
جب چلی سرد ہَوا میں نے تجھے یاد کیا
16 دسمبر 1971 کا سقوطِ ڈھاکہ اور پھر جنرل نیازی کا جنرل اروڑا کے آگے ساری دنیا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا منظر ہر سال بلکہ بار بار ہمیں خون کے آنسو رُلا دینے کیلئے کافی ہے۔ جنرل نیازی خود کو شیر کہلواتے تھے اس روز بھیگی بلی بنے ہوئے تھے اور ساری قوم کے سر شرم کے مارے جھک گئے تھے۔
حالات کا تجزیہ کرنے والے اپنے اپنے تجزیے پیش کرتے ہیں۔ کوئی فوج کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے تو کوئی اس عظیم المیے کا ذمہ دار سیاستدانوں کو قرار دیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ آگ لگانے اور اس آگ کو بھڑکانے اور بھڑکتی آگ کو مزید دہکانے اور آگ کو ٹھنڈا نہ کرنے میں ہر کسی نے بقدر ہمت اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو کم سی معلوم ہو گا کہ جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو ہم عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ موجودہ بنگلہ دیش سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ پاکستان اس وقت کا مغربی پاکستان اس عظیم مملکت کے دو بازو تھے مگر ہماری ناعاقبت اندیشی کی بنا پر ہم نے روزِ اول سے ہی اختلافات کی بنیاد رکھ دی تھی اگرچہ قائداعظمؒ نے اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود مشرقی پاکستان کا سفر اختیار کیا اور قومی یکجہتی کو مستحکم کرنے کی ہرممکن سعی کی۔ مگر ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہر کسی نے قومی معاملات بگاڑنے میں حسب توفیق حصہ لیا۔بعد از خرابی بسیار 1956ءمیں قوم ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی دستور پر متفق ہو گئی۔ دستور نافد کر دیا گیا۔ ملک پٹڑی پر چڑھ گیا۔ پہلے قومی انتخابات کا انعقاد قریب تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ایوب خان نے 1958ءمیں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ دستور کو سمیٹ دیا گیا۔ سیاستدانوں کی چُھٹی کرا دی گئی۔
صدر ایوب خان کے دس سالہ آمرانہ دور حکمرانی کے بعد جب اقتدار پر یحیٰی خان قابض ہو گئے تو انہوں نے اپوزیشن کے مطالبے پر بی ڈی سسٹم کو چھوڑ کر ایک شخص ایک ووٹ کی بنیاد پر انتخابات کروانے کی یقین دہانی کرائی۔ ستر کے انتخابات اگرچہ آزادانہ تھے مگر ان انتخابات کے نتیجے میں ابھرنے والی قیادت کو جنرل یحییٰ خان نے اقتدار دینے سے انکار کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے جیت لیں اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اکثریت حاصل کر لی۔ اب یہ سارا کھیل ان تین شخصیات کے اردگرد کھیلا جا رہا تھا۔ پاکستان توڑنے کی ذمہ داری یحیٰی خان‘ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو پر عائد ہوتی ہے تاہم اگر ذوالفقار علی بھٹو اپنی ذہانت و فطانت کو منفی انداز میں استعمال کرنے کی بجائے مثبت انداز میں استعمال کرتے تو اس عظیم سانحے سے محفوظ رہا جا سکتا تھا۔ یحییٰ خان کا مجیب الرحمن سے بس ایک مطالبہ تھا کہ وہ انہیں تاحیات صدر مان لیں۔ مجیب الرحمن نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور تعصب و نفرت کے شعلوں کو ہَوا دینے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سمجھ رہے تھے کہ ملک ٹوٹ رہا ہے ان حالات میں انہوں نے ”اِدھر ہم اُدھر تم“ کا نعرہ لگا کر اس عمل کو تیز تر کر دیا۔ ان حالات میں صرف 24ہزار فوجیوں کے ساتھ اپنی ہی قوم کے خلاف فوجی ایکشن کا حکم دیدیا گیا۔ بھارت تو پہلے ہی 1965ءکا قرض چکانے کیلئے موقعے کی تلاش میں تھا۔ لہٰذا اس نے مشرقی پاکستان کی سرحدوں کے تقدس کو پامال کیا۔ یہ جارحیت اقوام متحدہ کے بنیادی چارٹر کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ بھارتی حملے سے پہلے ساری دنیا کے پریس اور میڈیا پر مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے بارے میں بڑی ہولناک اور خوفناک خبریں اور رپورٹیں چھپ چکی تھیں۔ ساری دنیا چیخ اُٹھی کہ پاکستان کی فوجی حکومت غاصب، ظالم اور جابر ہے۔ فوجی ایکشن کی بنا پر دنیا نے بھارتی حملے کی بھرپور مذمت نہ کی۔ جو کچھ 1970 میں ہوا تھا وہی حالات ہمارے ہاں بار بار پیدا ہوتے رہے ہیں اور اب پھر پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اس وقت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ہماری سیاسی و معاشی مخدوش حالت کو دیکھ کر تجزیے کئے جا رہے ہیں کہ پاکستان کی ریاست ایک ناکام ریاست ثابت ہو رہی ہے۔ بلوچستان میں ”فوجی ایکشن“ یا ریاستی ایکشن ہو رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی طرز کی تنظیمیں اپنی من مانی کر رہی ہیں اور افراتفری پیدا کرنے اور بدامنی کو ہَوا دینے میں اپنا منفی کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہی ہیں۔ ہماری حکومت نے امریکہ کو درپردہ ڈرون حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔ کراچی میں رقصِ ابلیس جاری ہے۔ بہت سے مسلح گروہ کراچی کے امن کو برباد کرنے کیلئے وجود میں آ چکے ہیں اور سب مل کر کراچی کو مقتل بنا چکے ہیں۔ الطاف حسین برملا ججوں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے انہیں 7 جنوری کو عدالت میں طلب کر لیا۔ الطاف بھائی کی دید کیلئے اہل کراچی ہی نہیں اہل پاکستان بیتاب ہیں اس لئے وہ بلا جھجک اپنے وطن اپنے وطن لوٹ آئیں اور عدالت میں حاضر ہو کر اپنا جواب ریکارڈ کروائیں۔
معاشی صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے قرضوں کی قسط ادا کرنے کیلئے رقم نہیں۔ سٹیٹ بنک کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں کمی اور قرضوں کی واپسی سے دباﺅ بڑھ رہا ہے۔ دو برس میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 ارب ڈالر کی کمی ہو گئی ہے۔ بجلی کی پیداوار کیلئے ایندھن نہیں، ٹرینیں چلانے کیلئے ڈیزل نہیں، صنعتیں چلانے کیلئے گیس نہیں اور کاروبار زندگی چلانے کیلئے بجلی نہیں مگر روزانہ پندرہ ارب روپے کی کرپشن کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں پہلے اصلاحات پھر انتخابات، جمہوریت نہیں خلافت اور انڈیا سے سے رشتہ کیا نفرت کا انتقام کا۔ یہ سارے راستے انارکی کی طرف جاتے ہیں۔ ہم بار بار پکار رہے ہیں، چیخ رہے ہیں، دینی جماعتوں کو صدا دے رہے ہیں، خدا جانے پہنچ رہی ہے وہاں تک میری صدا کہ نہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ کرنے کا بنیادی راستہ صرف اور صرف ایک ہے اور وہ جمہوری، دستوری اور انتخابی راستہ ہے، اسکے علاوہ ہر راستہ خطرناک اور ہولناک ہے۔