چین کیخلاف ہرزہ سرائی

پاکستان کے بعد آزاد ہونیوالا چین اس وقت دنیا کی دوسری سپر پاور بن چکا ہے اور چین ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا پر چھا رہا ہے مگر اس کے توسیع پسندانہ عزائم نہیں بلکہ چین دنیا میں امن کا بھی علمبردار ہے۔ ہانگ کانگ چین کا حصہ تھا مگر چین نے اسکے حصول کیلئے جنگ مسلط نہیں کی بلکہ بات چیت اور انتظار کرتا رہا اور بالآخر ہانگ کانگ چین کو مل گیا۔ چین کی گزشتہ دہائیوں میں تیز ترین ترقی پر دنیا بھر میں تحقیق ہو رہی ہے اور ہر سال امریکہ میں چین کی ترقی پر تحقیقی مقالے جمع کرانے والوں کو سینکڑوں کی تعداد میں پی ایچ ڈی ڈگریاں دی جا رہی ہیں اور اس بات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں کہ آیا چین نے بہت کم عرصے میں تیز ترین ترقی کیسے کر لی؟ حقیقت یہ ہے کہ چین کو مخلص قیادت میسر آئی ہے جس نے چین میں موجود ترقی کرنے کے تمام قدرتی وسائل سے مکمل استفادہ حاصل کیا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی ڈیم تعمیر کر کے چین میں مقیم دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کو مفت بجلی فراہم کر دی گئی ہے جس سے ترقی کی راہیں کھلیں اور کاشتکاروں کو سال بھر وافر پانی ملنے سے زرعی انقلاب برپا ہوا اور بجلی کی مفت فراہمی سے ملک کی صنعت و معیشت میں انقلاب آ گیا جس سے چین کی ہنرمند قوم نے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے خود کو دنیا بھر میں منوا لیا۔ چین نے اپنے قیام کے ساتھ ہی پاکستان کو نہ صرف اپنا بہترین دوست بنایا بلکہ عملی طور پر اس بات کا ثبوت دیا کہ چین پاکستان اور اسکی عوام کا سب سے عزیز دوست ہے اور اسی طرح پاکستان کی حکومت و عوام نے بھی چین کی عوام کے دوستی کے پیغام پر محبت و خلوص کا جواب دیا اور پاکستان و چین گزشتہ 60 سال سے دوستی کے بندھن میں بندھ چکے ہیں۔ پاکستان نے چین کیساتھ ساتھ امریکہ و مغربی ممالک سے بھی بڑے بڑے معاہدے کئے گئے مگر یہاں یہ بات اچھی طرح واضح ہے کہ امریکہ و مغربی ممالک نے معاہدوں کیلئے ہمارے حکمرانوں کو بھاری کمیشن دی اور ہمارے حکمرانوں نے بھی کمیشن کمانے کیساتھ ساتھ غیر ملکی امداد اور منصوبوں میں غبن کر کے بھاری رقوم لوٹ کر امریکہ و مغربی ممالک میں ہی محفوظ کیں اس طرح سے امریکہ و مغربی ممالک کو دوہرے فوائد حاصل ہوئے۔ ایک تو انکی مصنوعات و خدمات انتہائی مناسب قیمتوں میں فروخت ہونے سے انہیں آمدنی ہوئی اور اسکے ساتھ ساتھ ان منصوبوں میں لوٹی ہوئی رقوم انکے ممالک میں ہی سرمایہ کاری ہونے سے انکے ملک و عوام کو فوائد حاصل ہوئے اس لئے امریکہ و مغربی ممالک اپنی مصنوعات و خدمات پاکستان میں مہنگے داموں آسانی سے فروخت کرنے میں اس لئے کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کیلئے منصوبہ بندی کے تحت اپنی مرضی کے حکمران لاتا ہے۔چین پاکستان میں جو بھی منصوبے شروع کرتا ہے وہ خالصتاً پاکستان کو ترقی دینے کی نیت سے ہوتے ہیں اگر اس بات کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ چین سے خریدے گئے انجن ناکارہ ہو چکے ہیں اور خدانخواستہ یہ سب کچھ چین کی مفاد پرستی کی وجہ سے ہوا ہے تو اس سلسلے میں فوری طور پر وفاقی حکومت کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنی چاہئے۔ ریلوے کے محکمے کو تباہی کے کنارے پہنچانے والے سیاستدان ہی ہیں۔ چین کے ریلوے انجن کے معاہدے پر دستخط کرنے والوں کی کوتاہی اور کرپشن کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ان کیخلاف مقدمات چلا کر انہیں پھانسی دی جائے تاکہ عالمی معاہدوں میں ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے۔ چین کے خلاف ہرزہ سرائی کا اصل مقصد سینڈک منصوبے اور گوادر پورٹ کو سبوتاژ کرنا ہے کیونکہ گوادر پورٹ چین کے حوالے کئے جانے کے بعد سے امریکہ چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے یہ معاہدہ منسوخ ہو جائے تاکہ پاکستان گوادر پورٹ کی افادیت سے مکمل طور پر استفادہ حاصل نہ کر سکے۔ گوادر پورٹ سے چین، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک سڑکوں کا جال بچھانے کی مکمل منصوبہ بندی کر لی گئی ہے اور چین کے تعاون سے مواصلات کے شعبے میں انقلاب برپا کیا جانا ہے جس سے پاکستان خصوصاً بلوچستان میں زبردست ترقی ہو گی اور بلوچستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو گا۔پاکستان کی حکومت کو چاہئے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں شروع کئے گئے کسی بھی منصوبے و معاہدے میں تاخیر یا تعطل نہ آنے دے اور ان تمام منصوبوں پر تیز رفتاری سے عمل ہونا چاہئے کیونکہ گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنا اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے پاکستان کے بہترین قومی مفاد میں ہیں۔ میاں صاحب نے تو بلوچستان کے دورے کے دوران گوادر کی ریت میں صرف ایک بورڈ آویزاں کیا تھا جس پر ”گوادر پورٹ“ لکھا تھا کہ انکی حکومت ختم ہو گئی تھی اور گوادر پورٹ کی تکمیل کا سہرا جنرل مشرف کے سر جاتا ہے اور گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کا جرات مندانہ اقدام صدر آصف علی زرداری کا بہترین کارنامہ ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ منفی پروپیگنڈے میں نہ آئے اور چین کیساتھ زیادہ سے زیادہ معاہدے ہونے چاہئیں اور پے رول دانشوروں کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ قوم کو علم ہو سکے کہ اگر چین کے ساتھ معاہدوں کے بعد کسی قسم کے الزامات آ رہے ہیں تو اسکی حقیقت کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ چین سے تعلقات میں کسی قسم کی بدمزگی پیدا کی جائے۔