مصر‘ ترکی‘ پاکستان اور پولیٹیکل اسلام

کالم نگار  |  غلام اکبر

تیسری دنیا کی اصطلاح دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد کرہِ ارض پر ظہور پذیر ہونیوالی دوسپر طاقتوں کے درمیان شروع ہونیوالی سرد محاذ آرائی کے ساتھ معرضِ وجود میں آئی ۔یہ تیسری دنیا ایسے ممالک پر مشتمل تھی جو یا تو دورِ جدید کے بنیادی تقاضوں پر پورا اترنے کی جدوجہد کے ابتدائی مراحل میں تھے‘ یا پھر ہنوز پسماندگی کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ اِن میں بیشتر ممالک یورپ کے نوآبادیاتی نظام میں غلامانہ زندگی بسر کررہے تھے یا کرچکے تھے۔ کچھ ممالک کو ایک سپر پاور نے اپنی چھتری کے نیچے لے لیا تھا اور کچھ کو دوسری سپر پاور نے اور کچھ ایسے بھی تھے جو اپنا شمار غیر جانبدار بلاک میں کرانا پسند کرتے تھے۔ پورا عالمِ اسلام اس تیسری دنیا کا ایک حصہ تھا اور اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بہت بڑا حصہ تھا۔جس زمانے میں بھٹو حکومتِ پاکستان کے سربراہ بنے ¾ ” تیسری دنیا “ کی ترکیب بڑی اہمیت اختیار کر چکی تھی۔ بھٹو مرحوم اپنے آپ کو تیسری دنیا کی ایک موثر آواز بنانے کا عزم لیکر اٹھے تھے۔ اور اس خواب کی تکمیل کیلئے انہوں نے دنیائے ہلال کے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا تھا۔ لاہور میں مسلم ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور اس حقیقت سے بھٹو مرحوم کے بدترین مخالف اور نقاد بھی انکار نہیں کرینگے کہ متذکرہ کانفرنس کے انعقاد کے ذریعے دنیائے ہلال کے مستقبل کی منزلوں کا تعین اور راہوں کی نشاندہی کرنے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا گیا تھا۔جس دور کا یہ ذکر ہے اسکی شناخت دنیائے ہلال کی خاصی قدآور شخصیات سے ہوتی ہے۔ایک تو خود بھٹو مرحوم کی شخصیت تھی جو ایٹمی طاقت بننا پاکستان کی ایک اٹل منزل قرار دے چکے تھے۔ دوسری شخصیت شاہ فیصل کی تھی۔ پھر الجزائر کے بو مدین تھے ۔ لیبیا کے کرنل قذافی تھے اور ایران کے حکمران رضا شاہ پہلوی تھے۔عملی طور پر اس کانفرنس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوسکے لیکن اپنی بے پناہ علامتی اہمیت کی وجہ سے اس واقعہ کو پولیٹیکل اسلام کے ظہور کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔میں ذاتی طور پر ”پولیٹیکل اسلام “ کی ترکیب کو گمراہ کن سمجھتا ہوں۔ اس سے یہ تاثرابھرے بغیر نہیںرہتا کہ اسلام دو قسموں کا ہوتا ہے جن میں ایک قسم پولیٹیکل اسلام کی ہے۔ جو لوگ تاریخِ اسلام سے آگہی رکھتے ہیں اور آنحضرت کی زندگی کے بارے میں بنیادی شعور کے حامل ہیں انہیں یہ حقیقت معلوم ہونی چاہئے کہ آپ نے اپنی حیات مبارکہ کا ایک ایک پل ایک طرف تو اپنی امت کی کردار سازی میں گزارا اور دوسری طرف ایک ایسی مملکت کے قیام اور فروغ کیلئے‘ جس میں خدا کی حاکمیت کے بنیادی تصور کو عملی صورت میں پیش کیا جاسکے۔دوسرے الفاظ میں اسلام ہے ہی مکمل طور پر پولیٹیکل ۔ بات جب بھی اسلامی نظام کے قیام کی کی جاتی ہے تو اس کا مطلب پولیٹیکل اسلام کا عملی نقشہ پیش کرنا ہوتا ہے۔ امریکی مفکروں اور تجزیہ کاروں نے ” پولیٹیکل اسلام “ کی ترکیب یہ گمراہ کن تاثر پھیلانے کیلئے ایجاد کی ہے کہ ” اسلام “ خود تو بڑا اچھا دین ہے لیکن جب اسے سیاست میں گھسیٹا جاتا ہے تو اس کا جو ” چہرہ“ سامنے آتا ہے وہ “ مہذب “ دنیا کیلئے قابلِ قبول نہیں۔ اس موضوع کا انتخاب میں نے اس صورتحال کو سمجھنے کیلئے کیاہے جو مغرب کی پس پردہ سازشوں کے نتیجے میں عالم اسلام کے دو بڑے ممالک کے اندر بالخصوص اور کئی دیگر ممالک میں بالعموم نظرآرہی ہے۔دو بڑے ممالک سے میری مراد ترکی اور مصر ہے۔ پاکستان کا ذکر یہاں میں اس لئے نہیں کررہا کہ جس صورتحال کا سامنا وطنِ عزیز کو ہے وہ گزشتہ صدی کے اواخر میں پیدا ہوئی تھی اور اسکی نوعیت مصر اور ترکی میں نظر آنیوالی صورتحال سے ذرا مختلف ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران پیش آنیوالے عالمی واقعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو امریکی میڈیا کی بالخصوص اور مغربی میڈیا کی بالعموم بڑی بھرپور توجہ ترکی اور مصر پر مرکوز رہی ہے۔تاثر یہ ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے اور اب بھی کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک کے عوام بڑی بھاری اکثریت میں ”اسلامائزیشن کے ایجنڈے “ کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ترکی میں وزیراعظم طیب اردگان کیخلاف مظاہروں کا سلسلہ استنبول او ر ازمیر تک محدود رہا لیکن ان مظاہروں نے جس نوعیت کی شدت اختیار کی اس پر ترکی کا سیکولر تشخص قائم رکھنے کی خواہش رکھنے والی قوتوں نے یہ امید باندھ لی کہ وزیراعظم اردگان کا آفتابِ اقبال غروب ہونیوالا ہے۔ امریکی میڈیا میں یہ بات کھل کر کہی جانے لگی کہ اپنے اسلامی خوابوں اور ان خوابوں سے منسلک اپنے متکبرانہ رویوں پر وزیراعظم طیب اردگان کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ بارہ برس تک کامیابیوں اور عروج تک کے سفر کا بھرپور مزہ لینے کے بعد اردگان نے تیزی کیساتھ مقبولیت کھونی شروع کردی ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے تو یہ پیش گوئی بھی کردی کہ اب اردگان کیلئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ صدارت کا انتخاب جیت کر اپنے اقتدار کو طول دے سکیں۔ جب استنبول اور ازمیر میں ”اردگان مخالف “ مظاہروں کا زور ٹوٹنا شروع ہوا تو مغربی مبصرین کے یہ تجزیے بھی غلط ثابت ہوتے نظر آنے لگے کہ سیکولر فوجی قیادت اور لبرل عدلیہ کو نیچا دکھانے والے اردگان عوامی مخالفت کے سیلاب کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔مخالفت کے اس طوفان کا مقابلہ وزیراعظم طیب اردگان نے جس قوت ارادی اور ثابت قدمی سے کیا ہے اس سے انکے کردار کی پختگی اور اپنے مشن کی صداقت پر یقینِ کامل کا اندازہ ہوتا ہے۔گزشتہ صدی کے اواخر میں جب وہ استنبول کے میئر تھے تو انہوں نے ایک تقریب میں یہ نظم پڑھی تھی۔
” باسفورس سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں ۔۔۔۔ مجھے ماضی کی ان عظمتوں کا پیغام دیتی ہیں
جو آج مجھ سے ¾ میری قوم سے اور میری سرزمین سے روٹھ چکی ہیں ۔لیکن تاریخ ایک جگہ نہیں رکتی۔آگے بڑھتی ہے۔اور آگے میں اپنی عظمت رفتہ کو واپس آتا دیکھ رہا ہوں۔“یہ نظم اس خوف کے اسباب سامنے لاتی ہے جو اردگان کے بارے میں مغربی مبصروں کے تجزیوں میں رچا بسا نظر آتا ہے۔ ہنوز ترکی ” پولیٹیکل اسلام “ کی ترکیب سے جنم لینے والی سوچ کے ڈھانچے میں پوری طرح نہیں ڈھلا ۔ لیکن وہاں ” اسلام “ کو داستان پارینہ سمجھنے والی قوتوں کا زور ٹوٹ چکا ہے۔مصر میں محمد مرسی اسلام کے مخالفین کی مربوط مورچہ بندی کو توڑنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ مصری فوج پر واشنگٹن اور اسرائیل کا کئی دہائیوں پر محیط اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ ترکی کی فوج سیکولر اور لبرل کہلانے اور ثابت ہونے میں ہمیشہ زیادہ دلچسپی رکھتی رہی ہے لیکن چونکہ ” ترک قوم پرستی “ کا جذبہ ترک رویوں میں اتنی شدت کے ساتھ رچا بسا رہا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کو وہاں ”اثرو رسوخ“ کے زیادہ بڑے اور موثر جزیرے بنانے اور قائم رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ مصر میں فوج ایک عرصے سے مغربی مقاصد کی تکمیل کا ایک ذریعہ بنی رہی ہے۔ مصری فوج کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا واشنگٹن کیلئے زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوا۔اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ” پولیٹیکل اسلام “ کو مصر میں فیصلہ کن پسپائی حاصل ہو چکی ہے۔اخوان المسلمون نے 85 برس تک اپنی سوچ کا پرچم صرف مصر ہی نہیں دنیا بھر میں بلند رکھا ہے۔جو قوتیں مصر کو لبرل اور سیکولر ایجنڈے کے سپرد کرنے کا خواب دیکھ رہی ہیں ناکامی ان کا مقدر بنے گی۔پولیٹیکل اسلام محض ایک سیاسی ترکیب نہیں‘ ایک ایسے ولولہ اور ایک ایسی امنگ کا روپ دھار چکا ہے جسے دبانا اور روکنا اب ایسی کسی فوج کے بس کی بات نہیں جو ہدایات واشنگٹن سے لیتی ہو۔مصر کا انقلاب پسپا نہیں ہوا۔ ایک ایسی موج میں ڈھلنے کیلئے واپس سمندر میں گیا ہے جو اَب جب بھی اسلام دشمن قوتوں سے ٹکرانے کیلئے واپس آئیگی اپنے ساتھ عزمِ ایوبی بھی لائے گی۔مصر ترکی اور پاکستان ۔۔۔ ایک ایسے روشن مستقبل کا نام ہیں جس سے آنکھیں ملانا پولیٹیکل اسلام کو داستانِ پارینہ سمجھنے والوں کے بس کی بات نہیں ہوگی۔