قرآن پاک کا مقام و مرتبہ

کالم نگار  |  نعیم قاسم

تنہا یا اجتمائی فکر اور عقل و دانش ہماری زندگی کے اجتماعی معاشرتی مسائل کا مکمل حل پیش کرنے میں قطعاً ناکام ہے علاوہ ازیں ذات فرد کے جذباتی اور روحانی پیچیدہ الجھنوں، دکھوں، پریشانیوں، انجانے ڈر اور زندگی کے فناءہوجانے کے خوف سے لاحق تفکرات کا احاطہ کرنے میں اعلیٰ دانش ور،فلسفی اور سائنس دان بھی ناکام ہیں، انسانی زندگی کے ارتقاءکے ہر مرحلے پر انسان کو اپنی راہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ کے طرف سے اپنے پیغمبروں پر نازل وحی کی ضرورت رہی،تاکہ وہ عقل و دانش سے ماورا مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو سکے، انسان کو وحی الہیٰ کی ضرورت اسی طرح ہے جس طرح انسانی آنکھ کو دیکھنے کیلئے روشنی کی ضرورت ہے،گزشتہ روز قرآن اور عربی زبان پر مکمل عبور رکھنے والے صاحب علم وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے قرآن پاک کی عظمت ،مقام و مرتبہ اور اسکی مستند حیثیت کے متعلق بڑا پر مغز اور مدللّ لیکچر دیا۔ڈاکٹر محمد اکرم چودھری سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا رہتے ہوئے قرآن پاک کے احکامات کی تشریح و توضیح میں ہمہ وقت مصروف کار رہتے ہیں، مگر اسلام آباد میں ان کا لیکچر استقبال رمضان کے سلسلے میں تھا انہوں نے مختلف تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر نازل کردہ وحی مبارکہ (قرآن مجید، فرقان حمید) کس قدر مستند خالص خدائی احکامات پر مبنی ہے، علاوہ ازیں انسانی سوچ و فکر کی ملاوٹ اور آمیزش سے بھی مکمل طور پر پاک ہے کیونکہ اسکی حفاظت کی ذمہ داری خود پروردگار نے اٹھا رکھی ہے۔مستند احمد بن حنبل سے روایت ہے کہ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیمؑ پر قرآنی صیحفہ یکم رمضان کو نازل ہوا،حضرت موسیٰؑ پر 2رمضان المبارک،حضرت عیسیٰؑ پر چودہ رمضان کو نازل ہو اجبکہ بنی اکرمﷺ پر مکمل قرآن پاک 27 رمضان المبارک لیلہ القدر کی رات کو اترا،مزید مستند احمد بن حنبل سے روایت ہے کہ ”اللہ نے اپنے ایک لاکھ24ہزار نبیوں پر 315قرآنی کتابیں یا آسمانی صیحفے اتارے“جبکہ ہم میں سے اکثر صرف چار کتابوں سے واقف ہیں تورات ، زبور،انجییل،قرآن پاک ۔1945میں بحرہءمردار میں کچھ پرانے پارچا جات ملے جن میں سب سے پرانی وحی جو سیدنا ادریسؑ پر اتری اسکاذکر ملتا ہے،جسمیں لکھا گیا ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا، ڈاکہ نہیں ڈالنا،بڑوں کی عزت اور بچوں پر شفقت کرنی چاہیے اور دوسرے انسانوں کی عزت اور عصمت کی حفاظت کرنا چاہیے،تاہم سب سے قدیم ترین وحی سیدنا نوحؑ پر نازل ہوئی مگر مشیت الٰہی سے آہستہ آہستہ سوائے قرآن پاک کے یہ 315الہامی کتابیں تحریف کا شکار ہوتی گئیں۔بہت سے قدیم مذاہب کی کتابوں سے نبی اکرمﷺ کی آمد اور ان پر نازل وحی کے متعلق پیش گوئیاں ملتی ہیں،مثلاً ایران میں آتش پرستشوں کے مذہبی پیشوا زرتشت کی مذہبی کتاب اوستا کے 10حصوں میں سے صرف ایک حصہ محفوظ ہے جس میں زرتشت یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ ”میرے بعد ایک نبی آئیگا جو دین کو مکمل کریگا، اسکا نام رحمت العالمین ہو گا اسطرح نبی اکرمﷺ کی بعثت سے اڑھائی ہزار سال پہلے خوشخبری دی جارہی تھی۔اسی طرح ہندﺅں کے وشنو کی کتاب میں 6سو قبل مسیح نبی پاکﷺ کے متعلق یہ بیان ہے کہ”قرب و قیامت کے قریب ایک شخص صحرا سے اٹھے گا ماں کا نام امانت والی اور والد کا نام اللہ کا غلام ہو گا اسے اپنے گھر سے نکال دیا جائیگا مگر وہ شمال کی طرف سفر کریگا اور پھر 10ہزار سپاہیوں کے لشکر سے دوبارہ اپنے گھر کو فتح کر لے گا۔`قارئین! وحی کی تاریخ میں سب سے پرانی کتاب تورات ہے جو پانچ ابواب پر مشتمل ہے یہ عبرانی زبان میں ہے اور یہ حضرت موسیٰؑ پر اتری چالیس تختیوں کی صورت میں اتری مگر جب بہت عرصہ بعد رومن جرنیلوں نے اپنے دور میں ہزاروں یہودیوں کو ہلاک کر دیا تو پھر تورات کے صرف انہی احکامات پر اکتفاءکیا گیا جو اس وقت ایک بوڑھی عورت کو یاد تھے اور حضرت موسیٰؑ کے وصال کے 6سو سال بعد یہ واقعہ ہوا۔زبور حضرت داﺅدؑ پر اتری اور عیسائی برادری جو مقدس گیت اپنی عبادت گاہوں میں پڑھتی ہے وہ زیادہ تر زبور سے ماخوذ خیال کیا جاتا ہے۔تیسری کتاب انجیل جسکے معنی خوشخبری کے ہیں حضرت عیسیٰؑ پر اتری مگر اسوقت 72سے زائد نسخے موجود ہیں کسی حضرت عیسیٰؑ کو خدا کا روحانی بیٹا ،کسی میں اصلی بیٹا اور کسی میں ان کو خدا کا انسانی خدمت گار کہا گیا ہے،82 فیصد سے زیادہ انجیل کے نسخوں میں انسانی ذہن و فکر کی ترجیحات مختلف ادوار میں شامل کی گئیں۔قارئین! قرآن پاک 23سال کی مدت میں آقا دو جہاں محمدﷺ پر وحی کی صورت میں بتدریج اترا اور لیلة القدر کی رات مکمل صورت اختیار کر گیا،، یہ بتدریج مکہ میں 13سال اور اور دس سال مدینہ میں وحی کامل کی صورت میں نبی اکرمﷺ پر اترتا رہا۔یہ چالیس سے پچاس جلیل القدر صحابہ حضور ﷺ کے حجرے کے باہر سارا دن اس انتظار میں رہتے کہ کب آپﷺ پر وحی نازل ہو تو وہ اسکو لکھ لیں۔وصال سے قبل نبی اکرمﷺ نے اپنے صحابہ کو بتایا کہ مجھے جبرائیلؑ نے کہا ہے کہ اس ماہ رمضان میں دو دفعہ آپ کو قرآن پاک پڑھنا ہے،آپﷺ جب قرآن پاک پڑھتے تو صحابہؓ اپنے پاس موجود تحریروں سے موازنہ کر لیا کرتے تھے چنانچہ جب آپﷺ اس دنیا سے رخصت ہو ئے تو 25 صحابہ ؓ قرآن پاک کے حافظ تھے اور ان میں خاتون صحابیہ اُم ورقہؓ نامی حافظہ بھی شامل ہیں۔ قارئین!ہمارے چاروں خلفائے راشدین کو مکمل قرآن پاک زبانی یاد تھا،حضورﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے سرکاری سر پرستی میں جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابت کی نگرانی میں قرآن کمیشن قائم کیا اور قرآن کو کتابی صورت دینے کیلئے کم ازکم دو دوشہادتیں طلب کی گئیں تاہم قرآن پاک کی تمام آیات پر دو دو شہادتیں ملتی گئیں مگر سورہ توبہ کی آخری آیت پر حضرت حزیفہؓ کی طرف سے ایک ہی شہادت موصول ہوئی جب اس پر غور و غوض ہوا تو اکثر صحابہؓ کو حضرت حزیفہؓ کے متعلق نبی اکرمﷺ کی کہی ہوئی بات یاد آگئی کہ ”حزیفہ دوسروں کی دو شہادتیں تمہاری ایک ہی شہادت سے کسی بھی معاملے کو سچا سمجھنا کیلئے کافی ہے“اس پر انہیں صاحب الشہادت کا خطاب ملا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنے عہد میں حکم دیا کہ ہر خطے،علاقے اور قبیلے کے لوگ صرف اسی لہجے میں قرآن پاک پڑھیں جس لہجے میں آپﷺ پڑھتے تھے۔ چنانچہ آپؓ نے اپنے دور میں ایک ہی لہجے کی بنیاد پر پانچ نسخے تیار کرائے جن میں سے چار ابھی بھی دنیا میں موجود ہیں وہ قرآن پاک جو شہادت کے وقت حضرت عثمانؓ تلاوت کر رہے تھے جس پر حضرت نائلہؓ کی انگلیاں کٹنے سے خون کے چھینٹے گرے تھے قرآن پاک کا وہ نسخہ آج بھی استنبول میں موجود ہے۔قرآن پاک کی مستند حیثیت کو جاننے کیلئے 1933ءمیں میونخ یونیورسٹی میں جرمن مستشرق برجسٹراسر نے قرآن ارکائیوز قائم کی اور 14صدیوں پر مشمتل 42ہزار نسخے اکٹھے کئے ور ان کا آپس میں باہم موازنہ کیا اور اسے ایک بھی آیت میں اختلاف نہیں ملا۔اللہُ اکبر یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ ”ہم نے اس کتاب کو (اپنے نبی)پر اتارا اور ہم ہی اسکی حفاظت کرینگے۔ قارئین! ڈاکٹر محمد اکرم چودھری کا کہنا ہے کہ عربی دنیا کی آسان ترین زبان ہے اور کوئی شخص قرآن کو عربی ہی میں یاد کر سکتا ہے۔