ہمارے تعلیمی ادارے اور مسئلہ سکیورٹی

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ہمارے تعلیمی ادارے اور مسئلہ سکیورٹی

پشاور آرمی پبلک سکول پر حملہ صرف سکول پر نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔ اس کا مقصد محض فوجی آفیسرز کے بچوں کو شہید کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں تعلیمی سلسلے کو تباہ کرنا ہے جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہیں کیونکہ اس دن سے تمام ملک کے تعلیمی ادارے ایک ماہ کیلئے بند کر دیئے گئے تھے۔ بلوچستان میں پہلے ہی کئی ماہ سے سکول بند ہیںیہی انکا مقصد ہے۔ حکومت اور عوام دونوں ڈرے ہوئے ہیں لہٰذا وہی ہو رہا ہے جو کچھ وہ چاہتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حکومت بھی اپنی سوچ میں بالکل واضح نہیں۔  اب تک حکومت کی طرف سے کوئی دفاعی تعلیمی پالیسی بھی سامنے نہیں آئی۔ مختلف افواہیں گردش میں ہیں اور جو جس کا جی چاہتا ہے وہی مشورہ دیتا ہے۔ پولیس کی طرف سے سکولوں کیلئے کچھ ہدایات سامنے آئی ہیں جس پر سو فیصد عمل پیرا ہونا ممکن ہی نہیں مثلاً ٹاور بنانا اور پھر ان پر شوٹرز تعینات کرنا وغیرہ۔ ایسے نظر آتا ہے کہ یہ لوگ سکولوں کو فوجی قلعوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو ممکن ہی نہیں۔ میری نظر میں یہ سب غیر حقیقی سوچ ہے کیونکہ دہشتگرد جب بھی آتے ہیں پوری منصوبہ بندی سے آتے ہیں اور وہ سب سے پہلے داخلی خارجی راستوں کو فائر کی زد میں لاتے ہیں۔ اب تک جہاں جہاں دہشتگردی کے حملے ہوئے ہیں تو وہ سب بہت مضبوط سیکورٹی والے ٹارگٹ تھے۔ مثلاً جی ایچ کیو، کامرہ ائیر بیس، کراچی ائیر پورٹ، مہران ایئر بیس اور پریڈلین مسجد وغیرہ۔ سب کے سب بہت ہی محفوظ مقامات تھے۔ وہاں تمام تر حفاظتی اقدامات بھی تھے توپھر بھی نہ حملے روکے جا سکے اور نہ ہی بے گناہوں کو موت سے بچایا جا سکاتو پھر سکولوںپر حملے کیسے روکے جا سکتے ہیں۔ میری نظر میں چند بنیادی حفاظتی اقدامات مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں۔
اول: ہر سکول کی کم از کم 6سے 8فٹ بلند دیوار اور اسکے اوپر دو دو فٹ کانٹے دارتار ۔ دوم: گیٹ کم سے کم ہوں۔سوم:گیٹ پر حسب ضرورت گارڈ موجود ہوں جن کے پاس Metal Detectors لازمی ہوں ۔ واک تھرو گیٹ زیادہ مقصد حل نہیں کرسکتے کیونکہ یہ بہت سی جگہوں مثلاً بینکس یا دیگر دفاتر میں کامیاب نہیں ہوئے۔نہ ہی رش کے وقت ان گیٹس سے کوئی خاص کام لیا جا سکتا ہے جبکہ سکولوں میں تو صبح کے وقت ہزاروں بچے ہوتے ہیں۔ان گیٹس کا استعمال کیسے ممکن ہوگا۔ سکولوں کی سیکورٹی کیلئے دو باتیں بہت اہم ہیں ۔ پہلی یہ کہ زیادہ تر سکولز شہری علاقوں خصوصاً گھنی آبادیوں میں واقع ہیں۔ اگر ہر محلے یا ایریا کی بنیاد پر سیکورٹی نیٹ ورک قائم کر دیا جائے بالکل اسی طرح جس طرح کسی دور میں چوکیدار ا پہرہ ہوتا تھا۔ سیکورٹی کے لوگ سارا دن گلی محلہ اور خصوصا ً سکول بلڈنگز کے ارد گرد نظر رکھیں اور علاقے میں کسی بھی مشکوک شخص کو دیکھ کر فوری کارروائی کریں۔ دوسرا یہ کہ علاقے میں پولیس پٹرولنگ کا انتظام بہت موثر بنا یا جائے اور علاقے کے پٹرولنگ انچارج کے فون نمبرز تمام سکولز پرنسپلز کے پاس موجود ہوں جنہیں ایک ٹچ کال پر بلایا جا سکے۔ خدانخواستہ کسی بھی خطرے یا شک کی صورت میں مناسب پولیس کارروائی حالات کو قابو میں لا سکتی ہے۔ اگر آرمی ایریا نزدیک ہو توRapid Deployment Forceکی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔یہ عمل کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ دہشتگردی کوشکست صرف اور صرف انٹیلی جنس کے ذریعے ہی دی جاسکتی ہے۔
ہمیں یہاں دو باتیں مزید بھی یاد رکھنی چاہئیں کہ یہ ہماری جنگ ہے اور ہمیں ہی یہ جنگ لڑنی ہے اور جنگ قربانیوں کے بغیر جیتی نہیں جا سکتی اور دوسرا یہ کہ سکولوں کو غیر معینہ مدت کیلئے سیکورٹی کے نام پربند کرنا نہ صرف بز دلی ہے بلکہ نئی نسل کیساتھ بہت زیادتی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ دانشمندانہ ہے کہ اس نے 12 جنوری سے سکول کھول دیئے۔ حکومت کے تعاون کے بغیر سکولوں کی سکیورٹی ممکن نہیں ہے۔ سکیورٹی اس قسم کی ہو جس سے سکول کا ماحول متاثر نہ ہو۔ تعلیم کیلئے جس پرامن ماحول کی ضرورت ہوتی ہے‘ حکومت ہی اسے یقینی بنا سکتی ہے۔ (ختم شد)