مقدس ہستیوں کے توہین آمیز خاکے بند کئے جائیں

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
مقدس ہستیوں کے توہین آمیز خاکے بند کئے جائیں

نوجوان کا تعلق بنی تمیم سے تھا، زمانہ جاہلیت میں غلام بنا کر فروخت کیا گیا تو اُم ابمار نے نوجوان کو خرید لیا ۔ نوجوان کو اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ اُم ابمار کواس کی خبر ہوئی کہ اُس کا غلام رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے تو سزا کے طور پر اس نے نوجوان غلام کاسر لوہے کی گرم سلاخوں سے داغااور لوہے کی زرہ پہنا کر اُسے دھوپ میں ڈال دیا، اسکے بعد تو جیسے ظلم و ستم کا لامتناعی سلسلہ شروع ہوگیا۔ اکثراوقات گرم ریت پر بالکل سیدھا گرم گھسیٹا جاتا۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ نوجوان غلام کو کوئلے کے انگاروں پر چت لٹاکر ایک وحشی کافر اُنکے سینے پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوگیاحتیٰ کہ غلام کی کمر سے پگھل کر نکلنے والی چربی اور رطوبت سے دہکتے کوئلے بجھ گئے۔ برسوں بعد خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعے سے متعلق پوچھا تو نبی کے اس عاشق نے اپنی کمر کھول کر دکھادی۔ پوری کمر پر برص کی طرح کے سفید داغ دھبے پڑے ہوئے تھے۔ اس عبرت ناک منظر کو دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل بھر آیا اور روتے روتے اُن کی ہچکی بندھ گئی۔ مکہ کا یہ غلام کوئی اور نہیں ابن خطاب کے قبول اسلام میں اہم کردار ادا کرنے والا سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا، تاریخ اِس عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے جانتی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مکی زندگی کے دوران کفار مکہ نے حضور رحمت ِدو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے اُس سے صرف زمین ِارضی ہی بلبلا نہیں اٹھی بلکہ عرش بھی کانپ اٹھا تھا، کفار مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے وہ بھی کچھ کم دردناک اور ہیبت ناک نہ تھے، کفار مکہ کیلئے مشکل نہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو چشم زدن میں قتل کر ڈالتے ، لیکن اِس عمل سے اُن کافروں کا جوش انتقام ٹھنڈا نہ ہوتا، کفار مکہ تو چاہتے تھے کہ اسلام قبول کرنے والوں کو اس قدر ستاؤ کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر پھر شرک و بت پرستی کرنے لگیں۔
یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی سزائیں دیتے اور ایذا پہنچاتے۔ سنگدل، بے رحم اور درندہ صفت کافروں نے ان غریب و بے کس مسلمانوں پر جبر وکراہ اور ظلم و ستم کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا ، غریب مسلمانوں پر جور و جفاکاری کے بے پناہ اندوہناک مظالم ڈھائے گئے اور ایسے ایسے روح فرساء اور جاں سوز عذابوں میں مبتلا کیا گیا کہ اگر ان مسلمانوں کی جگہ پہاڑ بھی ہوتا تو ڈگمگانے لگتا اور ہاتھی ہوتا تو وہ بھی بلبلا اٹھتا۔
مسلمانوں کو صحرائے عرب کی تیز اور تپتی دھوپ میں تنور کی طرح گرم ریت پر لٹاکر کوڑوں سے پیٹا جاتا، جلتی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاکر سینوں پر بھاری پتھر رکھ دیے جاتے، لوہے کو آگ میں گرم کر کے مسلمانوں کے جسم داغے جاتے، پانی میں اس قدرڈبکیاں دی جاتیں کہ مسلمانوں کا دم گھٹنے لگتا۔مسلمانوں کو چٹائیوں میں لپیٹ کر انکے نتھنوں میں دھواں دیا جاتا کہ وہ کرب اور بے چینی سے بدحواس ہو جاتے۔کفار کا ظلم برداشت کرتے کرتے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ضرب المثل بن گئے تھے، امیہ بن خلف کے کہنے پر حضرت بلال کو گردن میں رسی ڈال کر کوچہ و بازار میں گھسیٹاجاتا تھا، ان کی پیٹھ پر لاٹھیاں برسائی جاتی تھیں اور ٹھیک دوپہر کے وقت تیز دھوپ میں گرم گرم ریت پر ان کو لٹا کر اتنا بھاری پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیا جاتا تھا کہ حضرت بلال ؓ کی زبان باہر نکل آتی تھی۔
کفار مکہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرم پتھروں پر چت لٹا کر اِس قدر مارتے کہ عمار بن یاسر ؓ بے ہوش ہو جاتے، اُن کی والدہ حضرت بی بی سْمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اسلام لانے کی بنا پر ابو جہل نے ناف کے نیچے نیزہ مارا کر شہید کردیا تھا، حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کفار کے تشدد سے شہید ہو گئے۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کفار مکہ ہر روز نئی طرح کی اذیت دیتے اور اتنا مارتے کہ رومی کئی کئی پہر بے ہوش پڑے رہتے۔
حضرت ابو فکیہہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے ، آپ بھی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہی مسلمان ہوگئے تھے،جب صفوان کو انکے قبول اسلام کا پتا چلا تو اس نے انکے گلے میں رسی کا پھندہ ڈال کر گھسیٹا اور گرم جلتی ہوئی زمین پر چت لٹا کر انکے سینے پر وزنی پتھر رکھ دیا ،تشدد سے باندی حضرت زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔
کفار مکہ کا یہ ظلم صرف غریبوں اور غلاموں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اسلام لانے کے جرم میں بڑے بڑے مالداروں اور رئیسوں کو بھی نہ بخشاگیا،مکہ کے متمول اور ممتاز معززین میں شمار کیے جانے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حرم کعبہ میں اِس قدر مارا کہ اُن کا سر خون سے لت پت ہو گیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا نے ان کو رسیوں میں جکڑ کرمارا۔ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے رعب اور دبدبہ والے آدمی تھے مگر انہوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے چچا ان کو چٹائی میں لپیٹ کر ان کی ناک میں دھواں دیتے تھے جس سے ان کا دم گھٹنے لگتا تھا۔
کفار کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک ہلکی سی تصویر پیش کرنے کا مقصد وہ منظر نامہ دکھانا تھا، جس میں اسلام پروان چڑھ رہا تھااوراس ظلم کے مقابلے میں مسلمان صبر و استقامت اور برداشت کا پیکر بنے ہوئے تھے۔مسلمان ہوکر کفار کا ہر ظلم سہنے والوں کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا اور اوجڑی پھینکے جانے جیسے المناک واقعات ہی نہ تھے بلکہ طائف میں پتھر کھاکر مسکرانے اور عذاب کی پیشکش کے جواب میں ہدایت کی دعا فرمانے جیسی سنت موجود تھی۔ آج کے مسلمان کیا سمجھتے ہیں کہ جب نبی پر کوڑایا اوجڑی پھینکی جاتی اور پتھروں سے مار مار کر ایڑھیوں تک خون بہادیا جاتا تھا تو اُس وقت کیا صحابہؓ کا خون نہیں کھولتا ہوگا ؟ کیا نبی کے سچے عاشقوں کو غصہ اور طیش نہیں آتا ہوگا؟یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے صحابہ کرامؓ ہم جیسے آج کے گناہ گار اور عاصی مسلمانوں سے ہزاروں لاکھوں گنا اچھے اور بہتر مسلمان تھے، لیکن صحابہ کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں عمل کا بہترین نمونہ بھی موجود تھا، اس لیے ظلم کے سامنے اُن سب کے ہاتھ بندھے رہے اور ایک وقت آیا کہ فتح مکہ کے موقع پر سبھی ظلم کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ یہ تھا برداشت کی تربیت کا وہ ثمر، جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں دعا کی تھی۔
قارئین کرام!! بحیثیت مسلمان ہم سب کا ایمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی سب سے افضل اور برتر ہستی ہیں، اتنی افضل و برتر کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں کرسکتا، جبر کے مقابل صبر کا پرچم تھامے رکھنے والے کی توہین کیسے کی جاسکتی ہے ؟بہت سے دانشور حضرات کا کہنا ہے کہ مقدس ہستیوں کے توہین آمیز خاکوں یا فلموں پر مشتعل نہیں ہونا چاہیے، یقینا صبر، برداشت اور تحمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ہیں، یقینا اپنی مرضی کی راہ اپنانے کی بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہی مسلمانوں کا راہ عمل ہونا چاہیے، لیکن یہ دانشوراپنے ممدوح اہل ِمغرب کو بھی تو سمجھائیں ۔ اگر فرانس میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر گولیاں برسانے والے مسلمان کہلانے کا حق نہیں رکھتے تو صحافت کے نام پر کلنک کا ٹیکا ثابت ہونے والے چارلی ایبڈو کا خاکے بنانے کا مکروہ، مذموم اور ملعون اقدام کیاآزادی صحافت کہلائے گا؟ خاکے بنانے کا مکروہ، مذموم اور ملعون کام آزادی اظہار رائے ہرگز نہیں!