" سہ فریقی کانفرنس....وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ ترکی"

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ

ترکی کے درالحکومت انقرہ میں پاکستان ترکی اور افغان قیادت کے درمیان افغانستان اور خطے کی صورتحال سے متعلق سہ فریقی کانفرنس کا مشترکہ علامیہ سامنے آ چکا ہے۔اعلامیے کیمطابق پاکستان اور ترکی نے افغان امن عمل میںموثر کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاءکے بعد افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے کے لائحہ عمل پر بھی غورکیا۔
ترکی پاکستان اورافغانستان تینوں ممالک کے رہنماﺅں کی یہ پہلی سہ فریقی کانفرنس نہ تھی ، افغانستان کے معاملے میں یہ سہ فریقی کانفرنس سن2007سے ہو رہی ہیں۔اس لحاظ سے یہ سہ فریقی کانفرنسیں نہ صرف یہ کہ افغانستان کے معاملے میں تمام پہلوﺅں سے آگاہ ہیں بلکہ کانفرنس کے شرکاءبخوبی جانتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے میں دنیا کے مختلف ممالک کا کردار اور انکے مفادات کیا کیا ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے ان سہ فریقی کانفرنسوں کی اس اعتبار سے بھی منفرد حیثیت ہے کہ ان کانفرنسوں میں سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ تینوں ممالک کی عسکری قیاد ت بھی شریک ہو تی ہے۔
انقرہ کانفرنس میں افغان صدرحامد کرزئی نے پہلی بار یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ افغانستان میں ایسے نا پسندہ عناصر کی پناہ گاہیں ختم کردینگے جو پاکستانی مفادات کیخلاف کام کر رہے ہیں۔2014 میں اتحادی افواج کے انخلاءکے بعد افغانستان تاریخ کے نئے دور میں داخل ہو گا اس موقع پر پاکستان کو افغانستان سے بہتر تعلقات بنانے اور وہاں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ طالبان رہنما جو اس وقت افغان حکومت کے سیاسی عمل میں شریک ہیں، ضروری ہے کہ پاکستان ان سے اپنے تعلقات مضبوط بنائے، ان رہنماﺅں میں عبدالرب رسول سیاف بھی ہیں جو آئندہ ہونیوالے الیکشن میں صدارتی امیدوار کے طورپر آنے کے خواہاں ہیں، اسکے علاوہ کئی سابق طالبان رہنما بھی کابل میں موجود ہیں جن میں سابق طالبان حکومت کے اسلام آباد میں سفیر ملا ضعیف بھی شامل ہیں۔ ملا ضعیف جیسے طالبان رہنماﺅں کے پاکستان سے گہرے مراسم رہے ہیں۔بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات میں ان مراسم کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ انقرہ مشترکہ اعلامیہ میں بھی امید ظاہر کی گئی کہ افغانستان امن عمل میں افغان طالبان شریک ہونگے۔ پاکستان کو افغانستان کی صورتحال پر گہری نظررکھتے ہوئے اپنے مفادات کا خیال رکھنا چاہئیے۔ افغان صدارتی امید وار اشرف غنی، سیاست میں سر گرم طالبان اور شمالی اتحاد جس کے صداراتی امیدوار عبدا للہ عبد اللہ ہیں سے بھی پاکستان کو اپنے تعلقات بڑھانے کیطرف توجہ دینی چاہئیے۔ دوسری جانب پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں آباد افغان مہاجرین کی انکی وطن واپسی پر بھی توجہ دینی چاہئیے۔ ان مہاجرین کے باعث امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ مستقبل کے افغان حکومتی منظر نامے میں حامد کرزئی کا مستقبل نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کو مستقبل کے ابھر نے والے افغان سیٹ اپ میں اپنا عمل دخل بڑھانا ہے تا کہ افغانستان میں نا پسنددیدہ عناصر کی پناہ گاہیں ختم ہونے کیساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔ انقرہ کانفرنس میں پاکستان، ترکی اور افغانستان کے درمیان مال بردار ٹرین کا ٹریک بچھانے پر غور خوش آئند ہے اس سے پورے خطے میں تجارت کو زیادہ سے زیادہ فروغ ملنے سے ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔ پاکستان، ترکی اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی صورت میں ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آ چکا ہے ۔ تینوںممالک خطے میں جنم لینے والے مسائل کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کیساتھ ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم سے ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں اور خدشات بھی دور کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ مستقبل میں پاکستان ، ترکی اور افغانستان اس پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر خطے میں قیام امن کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ سہ فریقی کانفرنس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم نے استنبول میں ترکی کے سرکایہ کاروں سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں ان ملاقاتوں میں وزیرا عظم نے ممتاز ترک کاروباری گروپوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے حکومت کی بھر پور معاونت اور زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی کا یقین دلایا۔ ترکی نے گزشتہ دس سال کے دوران حیران کن انداز میں اپنی معیشت کو بہتر بنایا ہے۔ اس عرصے کے دوران ترکی کی مجموعی قومی پیدا وار دوگنی ہو گئی ہے۔ ترکی کے صدر عبدا للہ گل اور وزیر اعظم طیب اردگان، وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف کا نہ صرف یہ کہ دل سے احترام کرتے ہیں بلکہ انکی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان میں ترک سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ لاہور شہر میں میٹرو بس سروس بھی ترک پاکستان دوستی کا عملی اظہار ہے۔ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے حکومت پاکستان جو کوششیں کر رہی ہے ترکی اس میں بھی ترحیحاً پاکستان کی معاونت کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان کو اقتصادی طور پر مستحکم بنانے کیلئے جو کاوشیں شر وع کیں ان میں سعودی عرب، ترکی اور چین کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تینوں ممالک پاکستان کے آزمودہ دوست ہیں۔ جنہوں نے ہمیشہ کڑے وقت میں نہ صرف یہ کہ مدد کی ہے بلکہ بین الاقومی طور پر بھی پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔
ترکی اور پاکستان کے عوام کے درمیان جو تاریخی رشتے قائم ہیں ان کی جڑیں قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان میں چلنے والی تحریک خلافت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات میں "ترک پاکستان گردیز" یعنی" ترک پاکستانی بھائی بھائی " کا ذکر ہر جگہ ملتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میںجب بھی کوئی ترکی پاکستانی سے یا پاکستانی ترکی سے ملتا ہے تو "ترک پاکستان گردیز" کا فقرہ ضرور استعمال ہوتا ہے۔