مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان ابتدائی ملا قاتیںہو چکیں۔ کمیٹیوں کی طرف سے مثبت باتیںکہی گئی ہیں اور اِس کا اظہار بھی کیا گیا کہ مذاکرات ’’انشاء اللہ‘‘ کامیاب ہو نگے لیکن قیامِ امن کے یہ مذاکرات عجب انداز سے چل رہے ہیں ایک طرف امن کی باتیں اور دوسری طرف دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے ۔خیبر پختون خواہ اور کراچی شہراِس نہ دبنے والی دہشت گردی کی لہر کا خاص نشانہ بنے ہیں۔خیبر پختوان میں اِ ن 15دنوں میں دہشت گردی کے15 اورچار بڑے واقعات کراچی شہر میںہوئے ۔اِن جملہ واقعات میں درجنوں معصوم اور بے گناہ شہری نشانہ بنے کراچی میںبیشتر کا نشانہ پولیس اور رینجرز اہلکار رہے ہیں آخری واردات پولیس بس پر حملہ کے ذریعے کی گئی جس میں 13 پولیس کمانڈوز شہید ہوئے۔یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ طالبان اگر فی الحقیقت امن کے خواہشمند ہیں تواِسکے حصول میں دہشت گردی کو کیوں ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔اگر ایسا کر کے وہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ پاکستان کی ریاست اُنکے مقابلے میںکمزور پڑ گئی ہے توکہنا پڑیگا کہ وہ بڑی بھول کر رہے ہیں ۔ دہشت گردی کو ترک نہ کر کے اور بے گناہ لوگوں کی جان لے کر وہ اُن لوگوں کو بھی اپنے خلاف کئے جا رہے ہیںجو مذاکرات کے ذریعے تلاشِ امن کے زبردست حامی رہے ہیں ۔جب لوگ ہوٹل میںکھانا کھاتے ،جانے کتنے معصوم لوگوںکو کسی خودکش بمبار کی جہالت کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں ۔جب لوگ کسی مسلمان گھرمیں قرآن حکیم کی تلاوت کرتے ہوئے خواتین ،مرداور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھتے ہیں۔اُس دین کے پیروکار جو کہتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل ایسا ہی ہے جیسے کل انسانیت کو قتل کر دیا جائے۔یہاں ایک مسلمان کے قتل کا نہیں ایک انسان کے قتل کی بات ہو رہی ہو تو لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ کونسااسلام اور کونسی شریعت ہے جسکے نفاذکی بات وہ لوگ کرتے ہیں جن کے ہاتھوں50 ہزار سے زائد کلمہ گو اَب تک شہید ہو چکے ہیں۔وہ پاکستانی نہیں ہو سکتے ہیں مسلمان تو خیر کیا ہو نگے ۔یقینًا یہ لوگ غیر ملکی غیر مسلم ہی ہو سکتے ہیں۔
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے بیشتر افراد اسلام، دستور ریاست ،پارلیمنٹ وغیرہ کے متعلق ویسے خیالات ہی رکھتے ہیں جیسے بیشتر پاکستانی،ہاں ایک لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز الگ سے اپنا راگ الاپنے میں مصروف نظر آتے ہیں اُنکے خیال میں پاکستان کا دستور قرآن سنت اور اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے ۔ ظاہر ہے اُنکے خیال میں مولانا مفتی محمود، شاہ احمد نورانی اور وہ تمام جید علماء غلطی پر تھے جنھوں نے 1973کے دستور پر دستخط کئے یہ سمجھتے ہوئے کہ اِس دستور میں کوئی شِق قرآن اور سنت سے متصادم نہیں اور نا ہی ملک میں کوئی ایسا قانون بنایا جا سکتا ہے جو اسلام کے خلاف ہو خطیب لال مسجد یہ بھی فرماتے ہیں کہ خواتین اور اقلیتوں کو پارلمینٹ میں موجود ہی نہیں ہونا چاہئے ۔ خواتین کو گھروں کی چار دیواری تک ہی محدود رہنا چاہئے ۔دلیل کے طور پر فرماتے ہیں کہ خواتین بیش قیمت اثاثہ ہوتی ہیں۔انکی حفاظت ہیرے جواہرات کی طرح کرنا چاہئے ،انھیں غلط نظروں سے دور رکھنا چاہئے ۔ 21ویں صدی کے جمہوری پاکستان میں18 کروڑ عوام کی اکثریت اِن خیالات کو مسترد کرتی ہے ۔
ُپر امن مذاکرات کے دوران بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں جانی نقصان سے تحریکِ طالبان کا فوری طور پر لا تعلقی کا اعلان خوش آئند خبر تھی تحریک کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا تھاکہ حالیہ دھماکوں میں تحریک طالبان ملوث نہیں دھماکوں میں ملوث قوتوں کو تلاش کرنا حکومت کا کام ہے ہم ایسے دھماکوں کی حمایت نہیں کرتے جن میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوں۔کراچی کے حالیہ واقعات اور طالبان کا اُسکی ذمہ داری قبول کر لینے سے صورت حال بالکل مختلف نظر آتی ہے اور طالبان کے قول فعل پر اعتبار کرنا پہلے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔ تحریک طالبان کے شاہد اللہ شاہد کے ایک حالیہ انٹرویومیں ایسی باتیںبھی کہی گئی ہیں جنکی توثیق تحریک کی مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے نہیں ہوتی مثلاً شاہد اللہ شاہد نے اپنے انٹرویو میںکہا کہ تحریک طالبان پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ملا فضل اللہ ہمارے خلیفہ ہو نگے اور ملا عمر امیر المومینن ۔ملا فضل اللہ پاکستانی قوم کی قیادت کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اُنکی جنگ پرویز کیانی یا شجاع پاشا کے ساتھ نہیں پاکستانی فوج کیخلاف ہے جسکی امریکہ سے دوستی کی وجہ سے جنگ لڑ رہے ہیں ۔جہاں تک ملک میں شریعت کے نفاذ کا تعلق ہے اِس سے کوئی پاکستانی اختلاف نہیںکر سکتا لیکن پاکستان کا دستور ملک میں شریعت کے نفاذ کا سب سے بڑا داعی اور سب سے بڑا محافظ ہے جو قرار دیتا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن
اورسنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا اور قوانین کو قرآن اور سنت سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ملک میں اِدارے موجود ہیں جن کو اِس بات کا ذمہ دار ٹھہرایاگیا ہے کہ وہ اِس بات کا اہتمام کریں کہ ملک میں نافذ کوئی قانون قرآن اور سنت سے متصادم نہ ہو ۔اسلامی شریعت کونسل اور شرعی عدالت اِسی مقصد کی تکمیل کے لئے معرض وجود میں لائی گئی البتہ پاکستانی قوم یہ سمجھتی ہے کہ قوانین بنانا پاکستانی پارلیمنٹ کاکام ہے قانون سازی کیلئے آئینی اور جمہوری ذرائع اور طریقہ کار موجود ہے ۔علامہ اقبال بھی اِس نتیجہ پر پہنچے تھے جنھوں نے 1930کے خطبہ الہٰ آباد میںکہہ دیا تھا کہ اسلام کے نفاذکا واحد ممکن طریقہ پارلیمنٹ کے ذریعہ ہے یہ کام کسی مختصر سے گروہ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو بندوق اور بموں کے ذریعے اپنے کچے پکے عقائد کو شریعت کا نام دے کر اکثریت پر ٹھونسنے کا بیڑہ اُٹھالیں۔
قوم کو اطمینان ہے کہ ملک میں شریعت کے نفاذ کا وہی طریقہ سب سے بہتر ہے جسکی نوید علامہ اقبال نے دی تھی اور جسکا اہتمام دستور پاکستان میں موجود ہے ۔رہا سوال ملا فضل اللہ کے قوم کی قیادت کر سکنے کی صلا حیتوں کا تو شاہد اللہ شاہد کے اِس ذاتی خیال پر تبصرہ کرنا تضیع اوقات کے مترادف ہو گا ۔پاکستانی فوج کے متعلق اتنا کہہ دینا کافی ہو نا چاہئے کہ 18کروڑ عوام پر مشتمل قوم کو اپنی فوج کی جرات بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے اور یہ قوم پورے طور پر اپنی فوج کی پشت پر ہے۔اگر معمولات مذاکرات سے نہ سلجھ پائے جس کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے اور آخری فیصلہ فوج کو کرنا پڑا تو فتح انشاء اللہ حق کی ہو گی اور قوم اور فوج دونوں سرخرو ہو نگے ۔