دارالحرب یا دارالاسلام

کالم نگار  |  غلام اکبر

دوسرے الفاظ میں ایک مسلم لیگی ووٹ بنک تھا جو نظریہ ءپاکستان کا حامی تھا اور دوسرا ووٹ بنک گاندھی جی اور نہروجی کی آل انڈیا نیشنل کانگریس کی سرپرستی میں قائم علاقائی جماعتوں پر مشتمل تھا جس میں سب سے بڑی قوت نیشنل عوامی پارٹی )نیپ(کی تھی۔ اس ووٹ بنک کی ممتاز شخصیات میں سرفہرست سرحدی گاندھی، خان عبدالغفار خان اور بلوچی ¾ گاندھی خان ¾ عبدالصمد اچکزئی تھے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بابائے قوم نے صوبہ سرحد میں قائم ڈاکٹر خان کی حکومت کو معزول کردیا تھا۔ یہ اقدام اگرچہ روایتی جمہوریت کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تھا لیکن اس کی علامتی اہمیت بے پناہ تھی۔ قائداعظمؒ نے ملک کی آنیوالی نسلوں کو اُن خطرات سے خبردار کردیا تھا جو نظریہ ءپاکستان کی مخالف قوتوں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ملک کو درپیش آسکتے تھے۔
پاکستان کی نظریاتی اساس میں سب سے پہلی دراڑ عوامی لیگ کے قیام سے پڑی جس نے حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمان کی قیاد ت میں ملک کو علاقائی سیاست کی تباہ کاریوں سے روشناس کرایا۔ اِن تباہ کاریوںکا نقطہ ءعروج بالآخر سقوط ڈھاکہ کا المیہ بنا۔
اس تفصیلات طلب موضوع کو ایک طرف رکھ کر میں واپس ووٹ بنکوں کی بنیاد پر ملک کی سیاسی تقسیم کی طرف آنا چاہتا ہوں۔آج کے پاکستان کی سیاسی تقسیم صرف اور صرف اس بنیاد پر ہوتی چلی جارہی ہے کہ سیاست اور ریاست میں اسلام کا کوئی کردار ہونا چاہئے یا نہیں۔ ایک طرف وہ سیاسی قوتیں صف آراہوچکی ہیں جو اس بنیاد پر کہ مذہب آدمی کا ذاتی معاملہ ہے ¾ دین کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف وہ سیاسی قوتیں ہیں جوعملی طور پر نہ سہی ” فکری “ طور پرملک کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے نصب العین کی پابند ہیں۔ ایک طرف لبرل اورسیکولر کیمپ ہے تو دوسری طرف وہ بکھرا ہوا منتشر ” کیمپ“ ہے جس کے اجزائے ترتیب و ترکیب نے ہنوز نظریہ ءپاکستان سے منہ نہیں موڑا۔اس ضمن میں ایک گمرہ کن سٹیٹمنٹ جو لبرل اور سیکولر کیمپ دیتا رہتا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب آدمی کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کیمپ کے فکر ین یہاں یہ بات بالکل نظر انداز کردیتے ہیں کہ اسلام ایک مذہب کے طورپر نہیں بلکہ ایک اجتماعی نظام ¾ ایک کمیونٹی اور ایک امت کے طور پر آیاتھا۔ جن لوگوں نے قرآن پاک کا معمولی سا بھی مطالعہ کیا ہے ¾ یا جو آنحضرت کی زندگی کے بارے میں تھوڑی بہت بھی معلومات رکھتے ہیں ان کیلئے اس حقیقت سے فرار ممکن نہیں ہوگا کہ اسلام انسانی معاشرے کی اجتماعی تشکیل کیلئے اترا تھا۔ کردار ¾ مساوات اور انصاف۔ یہ تین اصطلاحیں ایسی ہیں جن کے بغیر اسلام کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا اور ان تینوں اصطلاحوں کا تعلق انسانی معاشرے کی اجتماعیت سے ہے۔ ریاست اگر انسانی معاشرے کی اجتماعیت کا نام نہیں تو پھر اور کس چیز کا نام ہے ؟ ایک نقطہ ءنظر سے یہ دنیا دارالاسلام بھی ہے اور دارالحر ب بھی۔ اوردوسرے نقطہءنظر سے یہ دنیایا تو دارالشرک و دارالکفر ہے ¾ یا پھر دارالاسلام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدمؑ کے پیچھے مقصد ہی یہ رکھا تھا کہ وہ زمین پر اتر کر دنیا کو دارالسلام بنائیں۔ کرہءارض پرپیغمبروں کی آمد کا سلسلہ اسی مقصد کی تکمیل کیلئے قائم رہا تا آں کہ خالقِ کائنات اور قادر ِ مطلق نے اپنے آخری نبی کو بنی نوع انسان کیلئے اس خوشخبری کیساتھ بھیجا کہ اسلام کو اولادِ آدمؑ کیلئے حتمی دین اور نظامِ حیات کے طورپر منتخب کرلیا گیا ہے۔ اقبال ؒ اور قائد ؒ نے جس پاکستان کاخواب دیکھا تھا اسے اگر آنحضرت کے لائے ہوئے پیغام کی عملی تصویر بنانا مقصود نہیں تھا تو پھر ”تقسیم ہند “ کی ضرورت ہی کیا تھی؟جب تک یہ ملک حقیقی معنوں میں دارالاسلام نہیں بنتا ¾ اسکے قیام کے حقیقی مقصد کی تکمیل نہیں ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ ہاتھ کھڑے کریں جو اس مقصد کی تکمیل کے حق میں ہیں۔(ختم شد)