بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کب؟

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....

 جمہوریت کی علمبردار بڑی سیاسی جماعتیںمسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کہنے کو توجمہوریت رائج کرنا چاہتی ہیں مگر عملی طور پر جمہوری ڈکٹیٹرشپ رائج ہے ۔ بڑی سیاسی جماعتیں اپنا پارٹی الیکشن ہی نہیں کراتی بلکہ پارٹیوں کو اپنی ذاتی جاگیر کے طورپر چلایا جارہا ہے تو یہ لوگ ملک میں حقیقی جمہوریت کس طرح رائج کرسکتے ہیں؟ جنرل پرویز مشرف بے شک فوجی حکمران تھے مگر انہوں نے اپنے دور اقتدار میں باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے اور ملک بھر میں اختیارات کو ضلع‘ تحصیل اور یونین کونسل کو تفویض کیا۔ ان کے دور حکومت میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے اور کسی ایم این اے‘ ایم پی اے یا سنییٹرز کو ترقیاتی فنڈ نہیں دیا گیا بلکہ ترقیاتی فنڈز کا استعمال مقامی حکومتوں کے ذریعے کیا گیا جس سے ملک میں تعمیر وترقی کے نئے دورکا آغاز ہوا اور عوام کافی حد تک مطمئن تھے۔
الیکشن 2013ءمیں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے عوام سے جلد از جلد بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا وعدہ کیا تھا مگر عملی طورپر ایسا ہوتا نظرنہیں آرہا۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور اس سنگین صورتحال میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ اپنے زیادہ تر اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر منصفانہ تقسیم کرکے خود دیگر اہم امور کی جانب توجہ مرکوز کرے اور قومی سطح پر پالیسیوں کی تشکیل و عملدرآمد کی جانب زیادہ لگن سے کام ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ بار بار ان سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخیں مانگ رہی ہے لیکن یہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور ہر ہفتے نئے نئے ایشوز اٹھاکر یہ کوشش کی جاتی ہے کہ میڈیا و عوام کی توجہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی جانب جائے ہی نہیں۔
اب جنرل مشرف کیس شروع کرکے عوام کی توجہ نان ایشوز کی طرف مبذول کرنے کی گھناﺅنی سازش کی گئی ہے۔ اس کیس سے کچھ بھی ملنے والا نہیں البتہ اس کیس کی وجہ سے میڈیا نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے متعلق رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے پروگرام کرنا چھوڑ دیئے ہیں اور بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اس مشن میں کامیاب ہوگئی ہیں کہ بنیادی جمہوریت کا وقتی طور پر گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔
میڈیا کو چاہئے کہ بلدیاتی انتخابات کے جلد از جلد انتخابات کے لئے بھرپور مہم چلائے اور وفاق و صوبوں میں براجمان سیاسی جماعتوں سے جواب طلبی کرنے کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے بارے میں دریافت کیا جائے۔ بلدیاتی انتخابات کا جلد ازجلد انعقاد ہی عوام کے مسائل میں نمایاں کمی کا ضامن بن سکتا ہے اس کے علاوہ ایم این اے‘ ایم پی اے اور سینیٹرز کے ترقیاتی فنڈز پر مکمل طورپر پابند ی ہونی چاہئے اور سارا ترقیاتی فنڈبلدیاتی حکومتوں کے ذریعے استعمال کیا جائے البتہ ہر ضلع و تحصیل کے ترقیاتی بورڈ میں مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے اور سینیٹرز کو شامل کیا جائے اور یہ بورڈ صرف مقامی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیکر ان کی نگرانی کرنے کا مجاز ہو۔ ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونیوالے تمام فنڈز کے اجراءو استعمال کا اختیار مقامی ڈی سی او‘ ڈپٹی کمشنرز کو ہونا چاہئے۔ اس نظام سے ملک بھرمیں ترقیاتی منصوبوں کی معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
کراچی جیسے میگاسٹی کی حالت زار یہ ہے کہ جس علاقے کی جانب سفر کے لئے نکلیں تو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ نئے منصوبوں کا آغاز تو درکنار گزشتہ مقامی حکومتوں کے نظام کے تحت بننے والے منصوبوں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بھی سڑکیں اور پل خستہ حالی کا شکار ہیں۔ کہیں پر بھی اسٹریٹ لائٹس کا وجود نہیں ہے۔ کراچی کے بڑے بڑے کاروباری علاقوں میں گندگی وغلاظت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ مقامی حکومتوں کا نظام نہ ہونے کے باعث سرکاری افسران فنڈز نہ ہونے یا دیگر حیلوں بہانوں سے شہر کی حالت مزید ابتر بنارہے ہیں اور میرے خیال میں یہی حالت تمام چھوٹے بڑے شہروں کی ہے جہاں مقامی نمائندے نہ ہونے کے باعث سرکاری افسران بے لگام ہوچکے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق صفائی‘ ستھرائی اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ کو چاہئے کہ اب بلدیاتی انتخابات کے جلد از جلد انعقاد کے لئے تمام صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو طلب کرکے حتمی تاریخوں کا اعلان کرے اور ان تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کے لازمی انعقاد کو سپریم کورٹ یقینی بنائے اور الیکشن کمیشن کو مزید حیلوں بہانوں پر سرزنش کی جانی چاہئے تاکہ ملک میں بنیادی جمہوریت رائج ہو اور عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل ہونا شروع ہوسکیں۔