سقو ط ڈھاکہ .... 42 سال

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
سقو ط ڈھاکہ .... 42 سال


16 دسمبر 1971ءکا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک ترین دن اور ایک ایسا سانحہ ہے جس کے نقش ہماری تاریخ سے کبھی نہ مٹائے جا سکیں گے۔42 سال پہلے آج ہی کے دن مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا جسے ہم سقوط ڈھاکہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے اس عمل سے ہمارے حکمرانوں، سیاسی اور عسکری قیادت نے کیا کوئی سبق سیکھا؟ ہمارے دانشور، علمائے کرام، سفارتکار، ماہرین تعلیم، عدلیہ اور میڈیا نے کیا ان 41 سالوں کے دوران اپنا محاسبہ کیا؟ یہ ہیں وہ سوالات جن کا تجزیہ کرنے سے ایک ہی جواب آتا ہے کہ بد قسمتی سے ہم نے صرف لفظی اعتبار سے اس سانحے کو یاد رکھا لیکن اصلاح احوال یا مستقبل کیلئے کوئی ایسی حکمت عملی اختیار نہ کی جس سے ظاہر ہوتا کہ ہم نے اس المیے سے کوئی سبق سیکھا ہے۔ کاش اگر ہم سقوط ڈھاکہ کے عمل سے سبق سیکھ لیتے تو آج یہ قوم، مہاجر، پنجابی، پشتون، سندھی اور بلوچی ہونے کی بجائے صرف اور صرف پاکستانی ہوتی۔ جس طرح امریکی، یورپی، عربی، ایرانی اور افغانی تمام تر انتظامی اور علاقائی گروپ بندی کے باوجود اپنے تشخص پر فخر کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو سیاسی اور مذہبی عمل سے لے کر انتظامی امور تک میں نسلی، لسانی اور علاقائی تفریق نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے حالات کا تقابل کرنے سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان اکتالیس سالوں کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور بین الاقوامی حیثیت میں کیا تبدیلی واقع ہوئی۔ یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ تمام تر قربانیوں کے باوجود عالمی منظرنامے میں پاکستان اور پاکستانیوں کی حیثیت بنگلہ دیش کی نسبت کم تر ہوئی ہے۔ اسکی وجوہات ہم سب ہی کو معلوم ہیں۔ پاکستان کے حکمران اور میڈیا اس حوالے سے بے خبر نہیں لیکن اصلاح احوال کیوں نہیں ہو رہا، جو اب صرف یہ ہے کہ ہماری نیتیں درست نہیں! اعمال کا دار و مدار تو نیتوں پر ہے جس دن حکمرانوں کی نیتیں درست ہو گئیں اصلاح احوال کا عمل شروع ہو جائے گا۔ حکمرانوں کی نیتوں کو کیسے درست کیا جائے اس کے دو ہی طریقے ہیں ایک آمرانہ اور دوسرا جمہوری، آمرانہ طریقے سے احوال کو درست کرنے کے چار مواقع اس قوم کو ملے جب ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور مشرف جو بلا شرکت غیرے مجموعی طور پر 33 سال سے زائد حکمران رہے ان کی زبان ہی قانون اور عدالت تھی۔ آزاد میڈیا کا وجود نہ تھا لیکن ان طالع آزماﺅں نے قومی تقاضوں کی بجائے اپنی حکمرانی کو طول دینے کیلئے اقتدار کی قوت کو استعمال کیا۔
اصلاح احوال کا دوسرا طریقہ جمہوریت ہے۔ ہمارے ملک میں وقفے وقفے سے عوام نے جمہوریت کے جھولے لیے لیکن 65 سال کے دوران یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی بھی جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہو اس کا کریڈٹ حکمران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کو جاتا ہے کہ ان دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے کی بھرپور مخاصمت اور نظریاتی اختلاف کے باجود کوئی ایسا وطیرہ اختیار نہ کیا جس سے جمہوریت کا بلیدان ہو جاتا۔ اس عمل کو منزل تک پہنچانے میں عدلیہ اور میڈیا کا مثبت کردار بھی اس حوالے سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ رہا سوال یہ کہ حکمرانوں کی نیت جمہوریت میں کیسے درست ہو؟ تو اس کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اپنا حق رائے دہی اس طرح استعمال کریں کہ ”صاحب نیت“ افراد ہی منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچیں۔ ملک کے معروضی حالات میں یہ عمل اگرچہ اتنا آسان نہیں لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ عدلیہ اور میڈیا نے جس طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران عوام کو با خبر رکھا اس کا اثر یقینی اعتبار سے حق رائے دہی کے عمل پر نظر آئے گا۔ یہ کہنا تو قبل از وقت ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں مکمل طور پر بے داغ اور صحیح قومی قیادت سامنے آئے گی لیکن یہ امر واقع ہے کہ اس بار ماضی کی طرح کوئی ”سیاسی جماعت“ یا ”ایجنسیاں“ انتخابی جھرلو نہ چلا سکیں گی بلکہ ”جمہوریت کی چھلنی“ کسی حد تک قومی قیادت کو چھان کر ضرور سامنے لائے گی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے بھی اگر آئندہ اپنی مدت پوری کی تو انشاءاللہ اگلے انتخابات یقینی اعتبار سے ایک ایسی قومی قیادت سامنے لائیں گے جو ہر اعتبار سے پاکستانی قیادت کہلا سکے گی۔ یہی قیادت ہمیں انشاءاللہ اپنی منزل عطا کرے گی۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہم نے اس عرصے میں بین الاقومی طور پر کئی منزلیں اور مرتبے کھو دئیے، ہمارے حکمران پاکستانی عوام کیلئے ایک پر امن اور خوشحال مستقبل بھی حاصل نہ کر سکے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کی تاریخ میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں۔ اگر حکمرانوں کی نیت درست ہو جائے اور سمت کا بھی تعین کر لیا جائے تو پاکستان یقینی اعتبار سے انشاءاللہ آئندہ پانچ سے سات سال کے دوران نہ صرف یہ کہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتا ہے بلکہ تیسری دنیا کی قیادت کا اہل بھی بن سکتا ہے۔ ایک ایسی قوم جو دنیا بھر میں پہلی اسلامی جوہری قوت کا درجہ رکھتی ہو ، قدرتی وسائل سے مالا مال اور چاروں موسموں کے ساتھ ساتھ سمندر، دریا، صحرا اور پہاڑ بھی اس کی دسترس میں ہوں اور سب سے بڑھ کر انفرادی طور پر باصلاحیت افرادی قوت کی حامل ہو ا اگر اسے صاحب نیت اور اہل قیادت میسر ہو تو منزل آسان تر ہے۔ بقول اقبالؒ ع
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی