سقوط ڈھاکہ کے اسباب کردار اور احتساب

سقوط ڈھاکہ کے اسباب کردار اور احتساب


سقوط ڈھاکہ کے اسباب کم اور کردار زیادہ ہیں۔ اسباب میں اردو‘ بنگالی زبان کا مسئلہ‘ ون یونٹ‘ سیاسی عدم استحکام اور ایوب خاں کی فوجی آمریت سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ کردار میں ذوالفقار علی بھٹو‘ شیخ مجیب الرحمن اور جنرل آغا یحییٰ خان ہیں۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مذکورہ تین کرداروں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ پاک فوج اپنوں کی سیاسی ساز باز اور بین الاقوامی سازش کا شکار بنی جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان اور جنرل عبداللہ خان نیازی (اے کے نیازی) اپنی نااہلی اور مکروہ عادات و اطوار کے باعث سازش کا آسانی سے شکار ہو گئے۔ اپنوں اور غیروں نے اپنی تزویراتی اہداف کے حصول کیلئے پاکستان کے دو لخت ہونے کا سارا الزام اور ملبہ پاک فوج پر ڈال دیا۔ گو اپنی فوجی و سیاسی قیادت کی تعمیل میں تقریباً 95 ہزار فوج سے وابستہ افراد نے ہتھیار ڈالے جن میں فوجی دھوبی اور باورچی بھی تھے۔ مگر انہی جنگی قیدیوں میں میجر نادر پرویز اور ان کے ساتھی بھی تھے جو بھارتی جیل سے فرار ہو کر واپس آگئے۔ سقوط ڈھاکہ میں پاک بنگالی فوجی کو بھی مورد الزام گردانا جاتا ہے۔ مگر انہی بنگالی فوجیوں میں کرنل فاروق تھے جو پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی تھے اور دفاع وطن کیلئے مرتے دم تک لڑتے رہے۔ کرنل فاروق کا موقف تھا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت بھارت اور عالمی برادری کی سازشی ساتھی تھی اور ہوس اقتدار میں اندھی ہو گئی تھی۔ جبکہ جنرل یحییٰ اور جنرل موسیٰ قابلیت کے بجائے ایرانی لابی اور سفارش کے باعث آرمی چیف بنے تھے۔ کرنل فاروق کو آخری سانس تک پاک یا بنگلہ دیشی فوجی کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کا سرکاری پروانہ نہیں ملا تھا۔ کرنل فاروق نے اپنے ماتحت فوجی جوانوں کے جتھے کی مدد سے شیخ مجیب کو گرفتار کرنا چاہا تاکہ اس پر غداری Treasn کا مقدمہ چلایا جائے مگر شیخ مجیب اور اس کے غنڈے بیٹے شیخ کمال نے جوابی کارروائی کی جس دوران دونوں اپنے رہائشی محافظوں سمیت مارے گئے۔ کرنل فاروق نے راقم کو خود بتایا تھا کہ وہ غداران دین و وطن کا احتساب چاہتے تھے تاکہ آئندہ غداری آسان نہ رہے۔ وہ شیخ مجیب پر فوجی عدالت میں مقدمہ اور مشرقی و مغربی پاکستان کے ازسرنو الحاق کے حامی تھے۔ مگر بدقسمتی سے مغربی پاکستان کی بھٹو قیادت نے نئی بنگلہ دیشی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کر لیا جس طرح 16 دسمبر 1971ءکو بھارت نے بذریعہ شیخ مجیب مشرقی پاکستان پر قبضہ کیا اور بھٹو نے عالمی سربراہی کانفرنس منعقدہ لاہور 1974ءمیں شیخ مجیب کی سربراہی میں نئی بنگلہ دیش ریاست اور قیادت کو تسلیم کرکے پاکستان کے عالمی اور آئینی حق سے بھی دستبرداری اختیار کر لی۔ بنگلہ دیش کا قیام کسی عوامی تحریک آزادی کا ثمر نہیں بلکہ مذکورہ بالا مقامی کرداروں‘ پارٹیوں کے علاوہ بھارتی‘ روسی‘ امریکی‘ اسرائیلی اور یورپی سازش کا نتیجہ بھی ہے۔
تاریخ عالم شاہد ہے کہ جس نے پاکستان کو نقصان پہنچایا‘ اللہ نے اس کا انجام برا کیا۔ چینی سربراہ چو این لائی نے سقوط ڈھاکہ کے موقع پر کہا تھا کہ آج اندرا گاندھی نے بھارتی شکست و ریخت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ بھارت مختلف مذاہب اور اقوام کی ریاستہائے متحدہ (USI) ہے۔ اندرا گاندھی بھارت کے اندر چلنے والی سکھ تحریک آزادی کے ہاتھوں لقمہ اجل بنی‘ اندرا کا بیٹا راجیوگاندھی جنوبی بھارت میں چلنے والی مختلف اقوام کی متحدہ تحریک آزادی (مثلاً تامل‘ نیکسلائٹ‘ ڈاکٹر امبیدکر کی اچھوت عوام) کے متوالوں کے ہاتھ ذریعے مارا گیا۔ ہندی مسلمانوں کی ملی تحریک آزادی علامہ اقبال اور قائداعظم کی قیادت میں تقویت پکڑ رہی تھی۔ جو بالآخر تقسیم ہند اور قیام پاکستان کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی۔ تقسیم ہند کے وقت لارڈ ما¶نٹ بیٹن نے ڈنڈی ماری اور آئر لینڈ کی تحریک آزادی کا نشانہ بن کر دریا برد ہو گیا۔ بھارت کے بعد روس نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ معاہدہ تاشقند کے ذریعے نہ صرف نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کو دو لخت کرنے والے مغربی پاکستان کے سیاسی کردار کی سرپرستی اور آبیاری بھی کی۔ بھارت نے کشمیر اور ستمبر 1965ءکی جنگ کے بعد پاک فوج کے خلاف مقامی و بین الاقوامی محاذوں پر بیجا پروپیگنڈہ اور سیاسی سازش کا بندوبست کیا۔ جو سقوط ڈھاکہ کی شکل میں نکلا۔ سقوط ڈھاکہ میں امریکہ بھی بھارت کا غیر اعلانیہ حلیف تھا اور پاکستان کو امریکی بحری بیڑے کی آمد کا جھوٹا سہارا دے رکھا۔ یہ سب بھارتی اور عالمی برادری کی سازش تھی مگر آج امریکہ و بھارت الٰہی تدبیر کا شکار ہو کر شکست و ریخت کے دھانے پر کھڑے ہیں جبکہ روس پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل ضیاءالحق کی افغان جہاد پالیسی کے باعث شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے۔ ضیاءالحق کی افغان جہاد پالیسی کے صدقے پاکستان جوہری قوت بنا اور ISI دنیا کی بہترین اور مو¿ثر ترین انٹیلی جنس ایجنسی بنی۔ گو آج بھارت اور عالمی برادری نے مغربی پاکستان میں سقوط ڈھاکہ سے بدتر حالات پیدا کر رکھے ہیں۔ اس ضمن میں بھارتی سرکار نے سقوط ڈھاکہ کیلئے بھارتی آبادی پر بنگلہ ٹیکس لگایا تھا اور آج بھارتی آبادی پر سندھ ٹیکس بھی لاگو ہے جس کی آمدنی پاکستان میں حالات کی خرابی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ ان تمام وسائل اور مہارت کے باوجود سقوط ڈھاکہ کے کرداروں کا غیر جانبدارانہ احتساب ضروری ہے اور یہی احتسابی پالیسی پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے۔