بنگلہ دیش کے قیام کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے

صحافی  |  مجید نظامی
بنگلہ دیش کے قیام کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے


انٹرویو نگار: اشرف ممتاز، خواجہ فرخ سعید
 س: .... آپ کی رائے میں کون سا ایسا اقدام تھا جس نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے لوگوں میں فاصلے بڑھا دئیے؟ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
ج:.... دراصل جب پاکستان بن رہا تھا تو پشاور سے لے کر راس کماری تک تمام مسلمان جن کا تعلق مسلم لیگ سے تھا وہ تقسیم ہند چاہتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو جغرافیائی فاصلے نے بہت سے مسائل پیدا کر دئیے ان میں سے ایک مسئلہ زبان کا بھی تھا۔ اسکے علاوہ جب دارالحکومت کراچی بنا تو بنگالی بھائیوں نے اسے بھی محسوس کیا کیونکہ اکثریت ان کی تھی اور انہیں بہکانے والے بھی بہت تھے۔ پھر اردو زبان ہماری قومی زبان بنی۔ حضرت قائداعظم نے بھی اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ اردو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ اس زمانے میں جیوٹ اور پٹ سن کی ایکسپورٹ کو بہت اہمیت دی جاتی تھی کہ اس سے فارن ایکسچینج کمایا جاتا تھا۔ بے شک خواجہ ناظم الدین، نورالامین، خواجہ شہاب الدین اور اس طرح کے بنگالی زعماءوزیر بھی بنے۔ وزیراعظم بھی بنے، گورنر جنرل بھی بنے، لیکن بنگالی لیڈروں میں مولانا بھاشانی اور مجیب الرحمن ایسے لوگ بھی شامل تھے میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ جب بنگالی ایڈیٹر لاہور آتے تھے اور میں انہیں چائے یا کھانے کیلئے مال روڈ کے کسی ریستوران میں لے جاتا تھا تو وہ بظاہر ہنستے ہوئے ازراہ مذاق مال روڈ کی سڑک یا بڑی عمارتوں کی طرف اشارہ کرکے ہنس کر کہتے تھے ”جیوٹ“ یعنی یہ عمارتیں ہماری جیوٹ/ پٹ سن کی ایکسپورٹ سے بنی ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں قیام پاکستان سے پہلے بھی موجود تھیں۔ اسی طرح مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں انہیں گورنمنٹ کالج دکھانے کیلئے لے گیا اور ٹاﺅن ہال دکھایا تو بظاہر انہوں نے ہنس کر ازراہ مذاق کہا ”جیوٹ“ جب بنگلہ دیش بن رہا تھا مجیب جیل سے رہا ہوئے تو میں انہیں خواجہ عبدالرحیم بار ایٹ لاءمرحوم کے دفتر ڈنگا سنگھ بلڈنگ میں ملا۔ ان کا قیام ملک غلام جیلانی مرحوم کے گھر واقع گلبرگ میں تھا۔ قیام پاکستان کے بعد گلبرگ بالکل نئی بستی تھی۔ وہ بھی ان کیلئے حیرت کا باعث تھی تو میں نے مجیب صاحب سے کہا کہ الیکشن ہونیوالے ہیں غالب خیال یہی ہے کہ آپ کی پارٹی عوامی لیگ جیتے گی تو آپ وزیراعظم ہو سکتے ہیں۔ پھر آپ اپنی اکثریت کی بنا پر ڈھاکہ کو دوسرا دارالحکومت قرار دے سکتے ہیں لیکن انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ سب کچھ فوج مجھے کرنے دے گی؟ میں نے کہا جب قومی اسمبلی آپ کے ساتھ ہو گی تو آپ یہ کر سکیں گے اور ناممکن نہیں ہو گا۔ لمبی بحث کے دوران میں اسی نتیجے پر پہنچا کہ وہ بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ پھر اتفاق سے بھٹو صاحب کی پارٹی مغربی پاکستان میں کامیاب ہوئی الیکشن میں انہوں نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا۔ ان کے ذہن میں تو شاید یہی تھا کہ مشرقی بنگال میں جو مشرقی پاکستان کہلاتا تھا وہاں آپ حکومت کریں اور مغربی پاکستان میں ہم حکومت کریں گے ظاہر ہے مرکز میں ہر دو مل کر حکومت کرتے۔ تو میری رائے میں اس قسم کی باتوں نے اور مجیب الرحمن ”مولانا بھاشانی اینڈ کو“ کے روئیے نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔ صرف یہی نہیں بھارت بھی اپنا ”لچ“ تلنے کیلئے مکتی باہنی کے نام پر اپنے فوجیوں پر مشتمل بظاہر بنگالیوں کی جنگ آزادی لڑنے والی فوج کو معرض وجود میں لایا۔ ان تمام عوامل نے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ مشرقی پاکستان میں پاکستان کی فوج اور مغربی پاکستان کی افسر شاہی کا رہنا ناممکن بنا دیا۔ ہمارے فوجی اور افسر اپنے ہی دیس میں اجنبی تھے اور مکتی باہنی کا نشانہ بنتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں جہاں تک ذمہ داری کا تعلق ہے ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کوئی بھی اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔
س: .... آپکو سب سے پہلے کس وقت اندازہ ہوا کہ ملک کی سلامتی کے معاملات ہاتھ سے نکل رہے ہیں؟
ج:.... اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں ملک غلام جیلانی کے گھر مجیب الرحمن سے ملاقات کرکے اٹھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ شخص پاکستان کا قائل نہیں ہے اور بنگلہ دیش بنا کر رہے گا
س: .... سقوط ڈھاکہ کے وقت آپ کے احساسات کیا تھے؟
ج:.... اس زمانے میں میں CPNE میں بڑا ایکٹو تھا اور میرا اکثر ڈھاکہ جانا ہوتا تھا اور وہاں بنگالی ایڈیٹروں مانک میاں، ظہور بھائی اور بدرالدین وغیرہ سے بھی میری ملاقاتیں رہتی تھیں۔ پاکستان کی تقسیم کا جہاں تک تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک حقیقت پسند شخص کی حیثیت سے مجھے بے حد رنج اور افسوس تو ضرور تھا کیونکہ پاکستان اپنی نوعیت کا واحد ملک تھا جو 2 ٹکڑوں پر مشتمل تھا اور جس کے ٹکڑوں کے درمیان 1000 میل کا فاصلہ تھا۔ وہ 2 ملکوں میں تقسیم ہوا اور پھر تجارت لین دین اور تعلقات سب ختم ہو گیا۔ میں نے یہ سب کچھ ایک حقیقت پسند شخص کے طور پر قبول کیا لیکن میں نے میاں محمد شفیع (م ش) اپنے ایک سینئر اور بزرگ صحافی کو اپنے گھر فرش پر باقاعدہ ٹکریں مارتا دیکھا۔ بے شمار لوگ ایسی صورتحال سے دوچار تھے۔
س: ....ایوب، یحیٰی خان، بھٹو، مجیب کا اس سانحہ کے حوالے سے آپ کیا کردار دیکھتے ہیں؟
ج:.... میں سمجھتا ہوں کہ یہ چاروں حضرات بنگلہ دیش بنانے میں اپنا حصہ ڈال چکے تھے۔ جہاں تک یحیٰی کا تعلق ہے وہ تو لگتا ہے کہ صرف اسی لئے پیدا ہوا تھا کہ وہ پاکستان کی تقسیم پر مہر لگائے۔ بھٹو صاحب نے بھی ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگا کر بادل نخواستہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کو تقویت پہنچائی۔ جہاں تک کردار کا تعلق ہے سب نے بادل نخواستہ اپنا اپنا کردار ادا کیا لیکن مجیب تو 100فیصد بنگلہ دیشی تھا اور بنگلہ دیش چاہتا تھا اور اسی کی بیٹی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کر سکی اور نہ ہی اس کے ہوتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات نارمل ہوئے ہیں نہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس خالدہ ضیاءوزیراعظم بنی تھیں اگر ان جیسی خواتین وزیراعظم رہتیں تو کم از کم پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کنفیڈریشن کی فضا پیدا ہو سکتی تھی۔
س: ....اقتدار مجیب کو منتقل کر دیا جاتا تو کیا ملک کو بچایا جا سکتا تھا؟
ج:.... یہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ جو باتیں میری ملک غلام جیلانی کے گھر ان سے ہوئیں تو میں نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی نوائے وقت کا جہاں تک تعلق ہے نوائے وقت آپ کو سپورٹ کرے گا اور سیاسی ساتھ دے گا بشرطیکہ آپ مشترکہ پاکستان کے حق میں ہوں اور الگ ملک نہ چاہتے ہوں۔ میری رائے میں اگر انہیں یہ موقع دے بھی دیا جاتا تو یہ پاکستان کی تقسیم بچانے کی صرف کوشش ہوتی وہ اسے قبول نہ کرتے۔ وہ بنگلہ دیشی بن چکے تھے اور اس کیلئے وہ لڑنے مرنے کیلئے تیار تھے جس کا مظاہرہ انہوں نے کیا بھی۔
س: .... سیاسی رہنماﺅں میں کس کا کردار مثبت رہا اور کیوں؟
ج:.... نورالامین، خواجہ ناظم الدین، خواجہ شہاب الدین، خواجہ خیرالدین اور محمود علی اس قسم کے بےشمار لوگ ہیں جن کا کردار مثبت رہا۔ اگرچہ محمود علی (آسام) کے رہنے والے تھے لیکن تھے تو وہ مشرقی پاکستان کے ہی۔
س: ....بھارت جس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا، اس کو MFN سٹیٹس دینے کے فیصلے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
ج:.... اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندو رہنماﺅں کی بھرپور مخالفت کے باوجود پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اس ناکامی کے بعد بھی بھارت نے تقسیم ہند کو دل سے قبول نہیں کیا اور روز اول سے اس کی کوشش تھی کہ وہ پاکستان کو Destable کرے اور بطور آزاد ملک ختم کر دے۔ بھارت آج بھی اس کوشش میں مصروف ہے جیسا پہلے ذکر ہو چکا ہے پاکستان کو دولخت کرنے میں بھی اس کا ہاتھ ہے اور بنگلہ دیش کا قیام اسی کا ”کارنامہ“ ہے اس کے باوجود اسے Most favourite Nation کا ٹائٹل دینا ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ایک ازلی دشمن کو ایک بھی تنازعہ حل کئے بغیر ہی MFN سٹیٹس بھی دے چکے ہیں اور تجارت کرنے کیلئے بھی بے تاب ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ افغانستان میں ہمارے خلاف اس کا رول نہایت منفی ہے اور اب وہ افغان فوج کو کرزئی کے ذریعے تربیت بھی دے گا تو خود ہی اندازہ لگا لیں کہ وہ فوج کس کے خلاف استعمال ہو گی۔
ج: .... پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جو تلخی ہر دو ممالک میں پیدا ہو چکی تھی اس کو کم کرنے یا ختم کرنے کے لئے پاکستان کی طرف سے کوئی کوشش نہ کی گئی۔ پہلے مجیب اور اب اس کی بیٹی کے دور میں تو انہیں قریب لانے کیلئے اقدامات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن خالدہ ضیاءکے دور میں یہ کام بڑی آسانی سے ہو سکتا تھا لیکن ہم نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا مثلاً ہم انہیں نیشنل فوڈ چاول ایکسپورٹ کر سکتے تھے اور اسکے علاوہ انکے ساتھ تجارت میں اضافہ کر سکتے تھے۔ پٹ سن کے سوا انکے پاس اگر کوئی آئٹم تھی جو ہم اب بھارت سے منگوانا چاہتے ہیں وہ ہم ان سے منگوا سکتے تھے۔ انکی لیبر غیر قانونی طور پر پاکستان میں بالخصوص کراچی میں کام کرتی رہی ہے اور کر رہی ہے یہ سب چیزیں باقاعدہ قانونی طور پر بھی ہو سکتی تھیں اور ان سے تعلقات بہتر بنائے جا سکتے تھے۔ انکے طلبہ کو اپنی یونیورسٹیوں میں وظائف دے کر پڑھایا جا سکتا تھا۔ معیاری دینی تعلیم کا بندوبست کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ اسکے علاوہ اگر ابتدا ہو جاتی تو بے شمار ایسے کام ہو سکتے تھے۔
س :.... محمود علی مرحوم کا خیال تھا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو ایک کنفیڈریشن بنانی چاہئے۔ آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
ج : .... میری رائے میں تو دوبارہ یونٹی کیلئے یہ ایک اچھا آئیڈیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کیلئے کنفیڈریشن ایک اچھا راستہ ہے۔ بنگلہ دیش تمام عوامل کے بعد بھی بھارت کا پٹھو نہیں بنا۔ ہم انکی فوج کو ٹریننگ دے سکتے تھے اور ڈیفنس ایکٹ کے ذریعے مشترکہ دشمن کے خلاف مفاہمت کر سکتے تھے ۔ اب بھی میرا خیال ہے کہ ہمیں کنفیڈریشن کا آئیڈیا فراموش نہیں کرنا چاہئے اس پر کام کرنا چاہئے کیونکہ مجیب کی بیٹی نے ہمیشہ حکمران نہیں رہنا۔ وہاں ایسے لوگ اور سیاسی لیڈر اب بھی موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہتے ہیں۔
س : .... بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان جس صورتحال سے دوچار ہے اس سے ملکی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں مثلاً بلوچستان میں علیحدگی پسند سر اٹھا رہے ہیں‘ سندھ بھٹوازم کے فلسفے پر زیادہ اور اپنی ترقی پر کم توجہ دے رہا ہے؟
ج : .... اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند سر اٹھا رہے ہیں لیکن انکی کوئی قوت نہیں ہے اور اگر ہم دیکھیں تو بگٹی صاحب کے قتل کے بعد اس شوشے نے سر اٹھایا ہے۔ بگٹی صاحب نے ایک فعال سردار ہوتے ہوئے پاکستان بنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا اور وہ خود بھی اینٹی پاکستان نہیں تھے۔ میں ان سے انکے گھر بھی مل چکا ہوں اور جب ایک بار وہ جتوئی ہسپتال کراچی میں کسی مرض کے علاج کیلئے داخل تھے تو مزاج پُرسی کیلئے گیا تھا۔ میں نے انہیں ہمیشہ میانہ روی اختیار کرنے والا لیڈر پایا۔ اور بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ میرے ساتھ اردو کی بجائے پنجابی میں بات کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں اردو میں نہیں پنجابی میں بات کروں گا۔ اب انکے بیٹوں سے صلح صفائی کر کے اس تلخی کو ختم کیا جا سکتا ہے اور انکے مبینہ قتل کے کیس کو باقاعدہ Pursue کیا جانا چاہئے۔ جہاں تک سندھ کا تعلق ہے وہاں بھٹو ازم خدانخواستہ اینٹی پاکستان نہیں ہے۔ بھٹو کی زندگی میں یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ سندھی زیادہ ”پرو بھٹو“ ہیں یا پنجابی۔ وہ لاہور میں بھی اسی طرح ہردلعزیز تھے جس طرح لاڑکانہ میں۔ یہ صرف ہماری سیاسی لیڈر شپ کی ناکامی ہے کہ وہ ان مسائل کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دیتے۔ ابھی آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ اس تلخ ترین ماحول میں بھی نواز شریف ایسے ن لیگ کے لیڈر کو لاڑکانہ میں ایک بھرپور جلسہ کرنے کا موقع ملا ہے جہاں گو زرداری گو کے نعرے بھی لگائے گئے۔
س : .... بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی واپسی کیلئے آپکے سوا کسی نے کام نہیں کیا۔ آپکی رائے میں یہ کس کی ذمہ داری ہے؟
ج :.... ہم سالہا سال سے محصورین پاکستان کیلئے فنڈز اکٹھا کر کے انہیں ہر ماہ بھجوا رہے ہیں۔ بے شک یہ آٹے میں نمک کے برابر رقم ہو گی لیکن اس پر وہ ہمارے بہت مشکور ہیں اور ہمارے اس کام کو سراہتے ہیں کہ کوئی تو ان کا خیال رکھ رہا ہے۔ میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں جو محصورین پاکستان آنا چاہتے ہیں انہیں واپس لانا ہمارا اخلاقی فرض ہے اور یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں واپس لانے کا بندوبست کرے۔ ہمارے ایک وزیر اعلیٰ جن کی وجہ سے نظریہ پاکستان اور ایوان قائداعظم کا کام جاری ہے انہوں نے ان کیلئے لاہور اور اپنے آبائی قصبے میاں چنوں میں کوارٹر بھی بنوائے تھے لیکن ان کو سنٹرل حکومت (وفاق) کی طرف سے محصورین کو واپس لانے کی اجازت نہیں ملی۔
یہ ہماری حکومت کا کام ہے خواہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ کہ وہ انہیں پاکستان میں واپس لائے اور آباد کرے۔ یہ ان کا حق ہے۔ وہ 40 سال سے کیمپوں میں پڑے ہیں اور ناگفتہ بہ حالات میں اپنی زندگی گزار ر ہے ہیں۔ موجودہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے بھٹو نے کہا تھا ہم ہزار سال کشمیر کیلئے لڑیں گے وہ ان کیلئے بھی یہ ہی جذبات رکھتے ہوں گے یہ ان کا وطن ہے اور انہیں واپس آنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ بنگالی بھائی کراچی میں ہیں اور وہ محنت مزدوری کر کے اور باورچی کا کام کر کے اپنی روزی کما رہے ہیں۔