یوم آزادی .... (آخری قسط)

کالم نگار  |  بیرسٹر ظہور بٹ

بیرسٹر ظہور بٹ
دوسری بات جو قائد اعظمؒ نے کی وہ تھی رشوت خوری اور کرپشن جسے انہوں نے ایک زہر قاتل کہا تھا اور اسے آہنی ہاتھوں سے ختم کرنے کی تلقین کی تھی اب ذرا اکتوبر 1958 میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاءاور اسکی فوجی حکومت کے زمانے سے شروع ہو کر پیپلز پارٹی دور حکومت پر ایک نظر ڈالیں رشوت خوری بڑھتی بڑھتی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ آج صدر مملکت سے لےکر انکے وزیروں مشیروں تک کھلے عام سب کے سب دونوں ہاتھوں سے بے رحمی کےساتھ ملک کو لوٹے جارہے ہیں اوپر یہ حال ہو تو نیچے والے کیوں اس میں ملوث نہیں ہونگے۔
 آپ پاکستان میں کسی بھی سرکاری دفتر یا کچہری میں کسی جج یا مجسٹرےٹ کے دفتر یا پٹواری کے پاس گوشوارے کی نقل لےنے یا پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروانے جائیں تو کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوگا اور یہاں سے لے کر اوپر کی ہر سطح تک ہر محکمہ رشوت کی گندگی سے بھرا پڑا ملے گا۔
 تیسری بات جس پر قائد اعظمؒ نے زور دیا تھا وہ تھی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے بارے میں کہ ذخیرہ چھپا کر ملک میں اناج کی مصنوعی قلت پیدا کرکے یہ لوگ ملک میں بھوک اور بعض دفعہ لوگوں کی موت کے ذمہ دار ہوتے ہیں جن کو سنگین ترین سزائیں ملنی چاہیئں وہ چاہتے تھے ان بلیک مارکیٹ کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزں کو چھوٹی موٹی سزاو¿ں کی بجائے عمر قید اور موت جیسی سزائیں ملنی چاہئیں۔
ہمارے ملک میں کتنی حکومتیں آئیں اور کتنی گئیں مگر کسی بھی دور حکومت میں کسی بھی حکومتی یا حزب اختلاف کے ممبر اسمبلی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ ان ذخیرہ اندوزوں کو کڑی سزائیں دلوانے کےلئے پاکستان کے موجودہ فوجداری قوانین میں کوئی ترمیمی بل ہی پےش کر دےتا وجہ صاف ظاہر ہے کہ اکثر اوقات ہمارے حکمران اورحزب اختلاف والے خود ہی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کے دھندے میں ملوث ہوتے ہیں۔
چوتھی بات جو انہوں نے کی وہ سفارش کلچر کے خاتمے کے بارے میں تھی تاکہ تمام ملازمتیں میرٹ کی بنیاد پر دی جا سکیں اور تمام محکموں میں سب کے ساتھ یکساں انصاف ہو سکے لےکن ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی ہماری حکومتوں نے سفارش کلچر کو روز مرہ کے معمول کا حصہ بنا لیا اور آج تو آوے کا آوا ہی الٹا ہوا ہے تمام سرکاری اور نیم سرکاری محکموں میں سفارشی بھرتیوں کی بھر مار ہے رےلوے کا محکمہ ہو یا پی آئی اے، پاکستان سٹیل مل ہو یا واپڈا اور یا دیگر ادارے ان پر اتنی ملازمتوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ یہ اب اس قابل بھی نہیں رہے کہ ان کی تنخواہیں ہی ادا کر سکیں۔
 چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ یہ ادارے اب اربوں کے خسارے میں جا رہے ہیں ملک 65 بلین ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے اور اس میں ہرسال 4 بلین ڈالر کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
 چین کا انقلاب ہماری آزادی کے دو سال بعد 1949 میں آیا تھا اور آج دنیا کے طاقتور ترین ملکوں اس کا شمار ہو رہا ہے‘ ایک ارب سے زائد کی آبادی کے باوجود کبھی وہاں کسی کے بھوک ننگ سے تنگ آ کر خود کشی کرنے کی خبر نہیں آئی اور ہر شہری کو بنیادی انسانی ضروریات زندگی حاصل ہیں دوسری طرف ہم ہیں کہ دیوالیہ پن کی طرف جا رہے ہیں‘ توانائی کا بحران بڑھتا جا رہا ہے ‘بھتہ خور اور قبضہ گروپ مافیا دندنارہا ہے‘ لاقانونیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ اپنے گھروں کے اندر بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
انتخابات پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکے ہیں مگر ہر بار وہی چور وہی لٹےرے وہی ڈاکو ہم پر مسلط ہو جاتے ہیں اب بھی اگر انتخابات ہوگئے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لوگ اس قدر تنگ آتے جا رہے ہیں کہ اب وہ سڑکوں پہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔
 مجھے ایسے نظر آ رہا ہے جیسے ہمارے ایک صحافی دوست کی پےش گوئی سچ ثابت ہونے والی ہے جنہوں نے کہا تھا ملک میں صحیح تبدیلی اسی صورت میں آئےگی جب اس کو تباہی کے دہانے پر لے جانے والوں کی گردنیں ایک فرانسیسی سٹائل گلوٹین (Gillotine) میں رکھ کر کاٹی جائی گی اور اس گلوٹین کو تین شفٹوں میں چلایا جائےگا ۔
ان کے خیال میں کسی ایسے عمل سے گزرنے کے بعد ہی جو نئے انتخابات ہونگے اور جو بھی نئی حکومت اقتدار میں آئے گی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پےشرو¿ں کے انجام سے سبق لے کر عوامی خواہشات کےمطابق انکے مسائل کے حل کی طرف توجہ دےنا شروع کردے جس سے ملک میں امن و امان اور قانون کی حکمرانی ہو رشوت خوری کا خاتمہ ہو بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور سفارش اور اقربا پروری قصہءپارینہ بن جائیں۔
 ہمارے عوام کی مایوسی اس قدر بڑھتی جا رہی ہے کہ وہ بھی سوچنے لگے ہیں کہ شائد اب ایسا ہی کوئی نسخہ آزمانے کا وقت آ گیا ہے جس کے بعد ہی وہ خوشیوں کےساتھ یوم آزادی منانا شروع کرسکیں گے۔