نوجوانو! اٹھو ....!

ملک حبیب اللہ بھٹہ
مسائل کاحل نئے انتخابات کے موضوع پرلکھے گئے کئی ایک کالم اورانگنت سیاسی راہنماﺅں کے بیانات نظرسے گذرے سوال یہ پیداہوتاہے کہ آج تک ہونیوالے انتخابات اگر صاف اورشفاف ہی نہیں ہوئے توملک کودرپیش مسائل کے حل کیسے تلاش کئے جاسکتے تھے مزیدالمیہ یہ ہے کہ آنیوالے الیکشن کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں ابھی تک پچھلے انتخابات میں جعلی ڈگریوں اوردہری شہریت کےخلاف دائر کی گئیں عذرداریوں کے کچھ فیصلے ہونے باقی ہیں اسی اثناءمیں عذردار اگر ممبرڈیکلر بھی ہوجائے تو اسے حلف اٹھانے کے بعداسمبلی میں نمائندگی کیلئے وقت ہی کیارہ جائیگا اسکے برعکس بے ضمیر عیار اورقوم سے دھو کہ بازی جھوٹی ممبرشپ حاصل کرنےوالوں کوطویل وقت دے دیاجاتاہے اسی اثناءمیں وہ کیاکچھ نہیں لوٹ لیتے ہونگے الیکشن ٹریبونل کوپابندکیاجائے کہ وہ 120 دنوں میں ہرعذرداری کافیصلہ سنائے ۔
ایوبی دور میں میرے شہر بہاول پورکاتاریخی واقعہ آپکی نذرہے ¾ مغربی پاکستان اسمبلی کے انتخابات ہارنے والے معروف پارلیمنٹرین علامہ رحمت اللہ ارشد نے اپنے حریف سردار ایوب خان ڈاہر کےخلاف انتخابی عذرداری دائرکی فیصلہ اس وقت سنایاگیا جب اسمبلی اپنی عمر پوری کرکے ریٹائرہوگئی بے چارے علامہ رحمت اللہ ارشد اس اسمبلی کاحلف تک نہ اٹھاسکے عذردارکےخلاف اس سے بڑا مذاق اورکیا ہوسکتاتھا۔ دوسرا واقعہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے غیرجماعتی انتخابات 85 ءمیں قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت جنرل ضیاءالحق نے بتایا کہ کہ انکے علم میں ہے کہ لاہورکی ایک نشست پر ایک کروڑروپے سے زیادہ خرچ ہواہے لیکن میں انتخابات کالعدم قرارنہیں دیتا اس دن سے لیکرآج تک انتخابات دولت کے زور پر جیتے جارہے ہیں جس سے سیاست کاروبار کادرجہ لے گئی ہے اگر اس وقت الیکشن کمیشن خودمختار ہوتا تو صدر مملکت کی تقریرپرہی اس نشست کے جیتنے والے امیدوارکونوٹس دے دیتا کہ وہ ثابت کرے کہ اس نے مقررہ حد سے زیادہ اخراجات نہیں کئے ثبوت میسرنہ ہونے پراسے ڈس ممبر کردیاجاتا ایسے فیصلے سے آئندہ کسی کودولت کے زورپرانتخابات جیتنے کی جرات تک نہ ہوتی ۔
اس ملک کاالمیہ یہ بھی ہے کہ اسکا پڑھا لکھا طبقہ ایک انتخابات سے دوسرے انتخابات تک ہرروزملک وقوم کودرپیش گھمبیرمسائل پرتبصرہ کرتے ہوئے روتا ہے حیرت اس بات پرہے کہ پولنگ روز وہ سوتاہے ۔
 حق تویہ ہے کہ اس طبقے کو انتخابات کرانے کی خبرسے لیکرپولنگ کے آخری لمحہ جاری رہنے تک اپنے ناخواندہ بہن بھائیوں کو اس بات سے آگاہ کرتے رہنا چاہیے کہ ووٹ امانت خداہے اسکا حق دار صرف وہی ہوسکتاہے جونہ صرف اسکا اہل ہو بلکہ وہ بہادربھی ہو اور بے غرض بھی ہواس میں اتنا شعوربھی ہوجس سے ملک وقوم کومشکلات سے نکالنے کی صلاحیت بھی رکھتاہو۔
تاریخ شاہد ہے کہ قائداعظم نے پاکستان کومعرض وجود میں لانے کیلئے اس وقت کے طلباءکواستعمال کیاتھا آج ملک بچانے کیلئے طلباءکے مثبت کردار اداکرنے کی ضرورت ہے طلباءکسی قائدثانی کاانتظارنہ کریں وہ اپناکردارخوداداکرتے ہوئے اپنے ناخواندہ بہن بھائیوں کویہ بتائیں کہ ووٹ امانت خداہے یہ ملکیت نہیں اسکا حق دار صرف وہ ہے جوامانت دار باکردار معاملہ فہم اور مسائل کاحل تلاش کرنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہو اسکے حق میں ووٹ دینا اولین فرض ہے چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق کیوں نہ رکھتاہوایسا ممبر حکومت میں توبھی بہتر اور اپوزیشن میں ہوتووہ اس سے بھی بہترہے۔سب سے اہم مسئلہ مورثی سیاست کےساتھ لسانی علاقائی نسلی اور مذہبی تعصب کی سیاست کابھی خاتمہ ہوجائیگا۔
اگریونیورسٹیوں کالجز اورہائی سکولز کے طلباءنے یہ فریضہ انجام دیا تو کوئی وجہ نہیں کہ آنےوالے انتخابات میں نمائندہ شخصیتیں اسمبلیوں میں عوام کی بھرپور نمائندگی نہ کررہی ہونگی آپکی اس جدوجہد سے صاحب کردار لیڈرشپ اسمبلیوں کی زینت بن سکتی ہے جہاں تک سیاسی جماعتوں کاتعلق ہے امیدواروں سے پارٹی فنڈزحاصل کرنا بھی وبائی شکل اختیار کر چکا ہے جسکے نتیجہ میں مخلص اورصاحب کردار پارٹی ورکرزکی بجائے ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے کے خواہشمند امیدواران کاجم غفیر موجودہے جوہرقیمت پرپارٹی ٹکٹ کے حصول کاخواہشمندہے اس روش نے سمگلروں قبضہ مافیا ڈرگ مافیا بھتہ مافیا ٹارگٹ کلنگ اغواءبرائے تاوان کے سرپرستوں کواسمبلیوں کاممبربنوانے میں اہم کرداراداکیاہے ‘ جس کا نتیجہ یہ نکلاہے ہرطرف کرپشن کے ایک سے بڑھ کردوسرا کیس منظرعام پرآیا ہے جب اسمبلیوں کے ممبران پرایسے گھناو¿نے الزامات لگ جائیں توایسے ممبران کوملکی مسائل سے کیادلچسپی رہ جائیگی وہ تومال ہضم کرنے کے نئے سے نئے حربے استعمال کرینگے انہی وجوہات کی بناءپر ملک مسائلسان بنتا جارہاہے ۔
موجودہ پارلیمنٹ کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے اسکافائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کوئی ایساکارنامہ سرانجام دے جائے جس سے اس قوم کا بھلا ہو جائے اورملک استحکام کی طرف چل پڑے ووٹ کی پرچی ہر ووٹرکے گھرپہنچانے کاقانون پاس کرے ووٹ کاسٹ نہ کرنے کی سزایہ دی جائے کہ اس شہری کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ڈومی سائل اور پاسپورٹ ضبط کرلیا جائے اس سے ووٹر خودبخود پولنگ بوتھ تک پہنچنے کی فکر کریگا اوریقینا اپناووٹ کاسٹ کرتے وقت ضرور سوچے گا کہ میں جس امیدوار کے حق میں اپناقیمتی ووٹ ڈالنے لگاہوں کیا وہ ملک وقوم کودرپیش حالات سے نکالنے کی صلاحیت کاحامل بھی ہے یانہیں ۔
بنیادی جمہوریت کے کونسلروں کوبھیڑبکریوں کی طرح ہانک کرجنرل ایو ب خان نے نہ صرف کنونشن لیگی صوبائی اورقومی امیدواروں کودھاندلی کے ذریعے جتوایا بلکہ محترمہ فاطمہ جناح کوصدارتی انتخابات میں دھاندلی سے ہرانے پر تحریک چلی جسکی بناءپر اسے اقتدار سے محروم ہوناپڑا انتخابات 70 ءمشرقی پاکستان میں مکتی باہنی راءاورعوامی لیگی غنڈوں کی بندوق کی نالی کے زورپر جیتے گئے ۔
 ایسے انتخابات کوصاف شفاف قراردینا ملک سے غداری کے مترادف ہے مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ ڈسانہیں جاتا کسی بھی صوبہ میں کسی کو آنیوالے انتخابات میںگن پوائنٹ پر جیتنے نہ دیا جائے انتخابات 77 ءدھاندلی کے زور پر جیتنے کے الزام میں تحریک چلی جس پر شہیدبھٹو حکومت ختم ہوئی اور جنرل ضیاءالحق کامارشل لاءنافذ ہوا۔
غیرجماعتی انتخابات 85 ءدولت کے زورپر جیتنے کی وباءشروع ہوئی جو اب تک قائم ہے انتخابات 88 ءسے 97 ءمیں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اوردولت کے استعمال کے ثبوت ریٹائر لیفٹیننٹ جنرل ©(ر) اسد درانی کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں مختلف پارٹی سربراہان کودی گئی رقوم کی فہرست ثبوت کیلئے کافی ہیں‘ چاروں اسمبلیوں کواپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی انتخابات 2002 ءمیں پی پی پی اکثریتی جماعت سے لیکن فارورڈبلاک کے ذریعہ ظفراللہ جمالی کو ایک ووٹ کی برتری سے وزیراعظم بنوایاگیا ۔
 انتخابات 2008 ءصرف دولت کے زورپرجیتے گئے شرمناک بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 85 ءسے لیکر 2008ءتک ہونےوالے انتخابات میں ایک بھی امیدوار کو مقرہ حد سے زیادہ خرچ کرنے پر کسی ایک کو بھی نشست سے محروم نہیں کیا جعلی ڈگری اور دہری شہریت والے امیدواران انتخابات جیت کرکئی کئی سال مزے لو ٹتے رہے ۔ ق لیگ کے پلیٹ فارم پر جیتنے والے ممبران پنجاب اسمبلی پارٹی مینڈیٹ کےخلاف ہم خیال بن کر پنجاب حکومت کے حمائیتی بن چکے ہیں۔
اے میری سوئی ہوئی قوم! اب توخواب غفلت سے جاگ کرآنیوالے انتخابات میں دھاندلی عیاری اور دولت کے زور پر جیتنے والے سیاست دان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانندکھڑی ہوجاﺅ تاکہ سمگلنگ بھتہ وصولی اغواءبرائے تاوان منی لانڈرنگ کاروبار اورصنعتیں دوسرے ممالک میں منتقل کرنےوالے ٹیکس چوروں ناجائز منافع خوروں ہرقسم کی کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کو عبرتناک شکست سے دوچارکردو۔
انکی بجائے ایماندار بہادر مخلص اورباشعو ر امیدواروں کو جتوا کر مسائل کی دلدل میں پھنسی ہوئی قوم کوعزت وآبرو سے زندگی گزارنے کاحق دلواسکو۔ پاکستان زندہ باد۔