عالم اسلام اور پاکستان میں مماثلت

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری

ڈاکٹر علی اکبر الازہری
حسن اتفاق ہے کہ وطن عزیزِ میں جشنِ آزادی اس مرتبہ آخری عشرہ رمضان کی رحمت بھری تقدس مآب کیفیات میں منایا گیا ہے۔ حالات کے ستائے ہوئے خواتین و حضرات نے پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کےلئے اس مرتبہ من میں ڈوب کر دعائیں کی ہیں یقینا مظلوم قوم کی ان آہوں کااثر ہوگا اور جشن نزول قرآن کے ساتھ جشن آزادی منانے والی قوم کو اس کی منزل مل کر رہے گی۔ تاہم اہل قیادت کا فقدان اپنی جگہ ایک پریشان کن مسئلہ ہے کیونکہ رستے ہوئے زخموں کا فوری علاج ہوجائے تو کئی خطرات ٹل سکتے ہیں۔
پاکستان کی طرح بے جہت عالم اسلام بھی اس وقت مخلص، اہل اور غیور قیادت کی راہیں دیکھ رہا ہے۔ پاکستانی قوم اور ملت اسلامیہ کی حالت یکساں طور پر دگر گوں ہے۔ دونوں کے مسائل بھی ایک جیسے ہیں اور خطرات بھی۔ جس طرح پاکستان ایک نظریئے ایک فکر اور ایک مقصد کے لئے بے مثال قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا تھا اسی طرح ملت اسلامیہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے دیگر اقوام و ملل سے ہٹ کر ایک خاص مقصد اور غرض و غایت کے تحت اپنے آخری اور محبوب رسول کے ذریعے وجود بخشا۔ قوم رسول ہاشمی بھی آگ اور خون کے مسلسل دریا عبور کرکے آگے بڑھی اور آج بھی اسکی راہوں میں قدم قدم پر آزمائشیں، مشکلات اور دشمنیاں قطار اندر قطار کھڑی ہیں۔ اسی طرح ملت پاکستان کو بھی قیام پاکستان سے اب تک سینکڑوں چیلنجز درپیش ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج تو اسکے وجود کی سلامتی اور بقاءکا چیلنج ہے جس کےلئے اسکے ازلی دشمنوں نے خطرناک سازشوں کی بھیانک بساط بچھا رکھی ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان اور اسلام کے دوست اور دشمن بھی ایک ہیں۔ یہود و ہنود اور نصاریٰ کی جو طاغوتی تکون اس وقت عالم اسلام کے درپئے آزار ہے وہی پاکستان کے وجود سے بھی ناخوش ہے۔
کفر و شرک کی نمائندہ قوتوں کو اللہ کے رسول نے بعثت کے بعد جس طرح مکہ میں چیلنج کیا اور بالآخر نبوت کے مشن کی تکمیل کےلئے ہجرت کرنا پڑی۔ بالکل اسی طرح برصغیر کے غلامان رسول نے بھی بتکدہ¿ ہند میں کفرو شرک کی آلائشوں سے تنگ آکر علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور بالآخر انہیں اس سلسلے میں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت سے گزرنا پڑا۔
 مکہ سے ہجرت کرنےوالے مسلمانوں کی طرح مسلمانانِ ہند نے بھی مادر وطن، کاروبار، گھر بار اور رشتے و ناطے ترک کرکے اللہ کے بھروسے پر پاکستان کی سرزمین پر پناہ لی۔ ہجرت مدینہ کی طرح ہجرت پاکستان کا محرک بھی محض ایک نظریہ اور عقیدہ تھا۔ کوئی دنیوی لالچ اور منصب پیش نظر نہیں تھا۔ ہمارے بزرگ آج بھی پاکستان آمد کے جذباتی مناظر اور ایمانی مظاہر نہیں بھول سکے۔ یہاں کے باسیوں نے بالعموم انصار مدینہ کی طرح ہی مہاجرین کا استقبال کیا۔ چند ناخوشگوار واقعات جہاں بھی رونما ہوئے اس کا سبب یا جہالت تھی یا پھر وسائل کی کمی۔
آپ مزید غور کریں تو جس طرح نومولود ریاست مدینہ کو قدموں پر کھڑا ہونے سے پہلے مشرکین مکہ نے صفحہ ہستی سے ختم کرنا چاہا اور اس کےلئے انہوں نے باقاعدہ حملہ کیاجس کے نتیجے میں جنگ بدر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا، بالکل یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ ہندوستان نے نوزائیدہ پاکستان پر 1947ءمیں اس وقت پہلی جنگ مسلط کی جب یہ ملک مکمل طور پر آزاد بھی نہیں ہوا تھا مگر مشرقی سرحدوں پر حملہ آور بھارتی فوجوں کا مقابلہ نہتے کشمیری اور سرحدی مجاہدین نے بے جگری کے ساتھ کیا اور موجودہ آزاد کشمیر کا علاقہ بھارتی تسلط سے آزاد کروایا۔
جنگ بدر میں شکست کھانے کے بعد جس طرح کفار مکہ نے مدینہ پر دوسرا بڑا حملہ کیا اور مسلمانوں نے جنگ احد میں ابتدائً انہیں دوبارہ شکست سے دوچار کیا تو دشمن نے جنگی چالیں بدل کر پیچھے سے حملہ کردیا جس سے مسلمانوں کو وقتی طور پر پریشانی ہوئی۔ اسی طرح بھارت نے دوبارہ 1965ءکی جنگ مسلط کی۔ اس میں بھی جب اُسے منہ کی کھانا پڑی تو جنگی چال تبدیل کرکے اندرونی سازش کے ذریعے 1971ءمیں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کردیا گیا۔ یہ یقینا ایک سانحہ تھا جس میں پاکستان کو احد کے مسلمانوں کی طرح آزمایا گیا اور دفاع سے غافل حکمرانوں کی وجہ سے یہ ملک دو حصوں میں بٹ گیا مگر بقیہ پاکستان ایٹمی قوت کے طور پر فتح مکہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت کے مسلمانوں کو رسول خدا کی پیغمبرانہ سرپرستی حاصل تھی اور اس لشکر میںحضور کے تربیت یافتہ جان نثار شامل تھے۔
 آج یہ ملک بھی کسی صالح اور دیانتدار قیادت سے سرفراز ہوجائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے فتح مکہ کی فیصلہ کن منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ ”اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے بلاشبہ مخالفین اسلام اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں“۔ (القرآن)
جہاں تک ملت اسلامیہ کے عالمگیر مقاصد اور اس میںحائل رکاوٹوں کا تعلق ہے تو اس میں بھی حیرت انگیز طور پر ملت اسلامیہ اور ملت پاکستان کے درمیان گہری مماثلت موجود ہے۔
 یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی اکرم اور آپ کے خلفائے راشدین نے دنیا کو جس مستحکم سماجی، سیاسی، تعلیمی اور اخلاقی انقلاب سے جتنے کم وقت میں روشناس کیا تھا اس کی دوسری کوئی مثال تاریخ میں موجود نہیں لیکن اس عظیم انقلاب کے فیض کو دنیا کے دیگر افراد اور اقوام تک پہنچنے میں مسلمان بادشاہوں کی ہوس اقتدار آڑے آئی۔ ایک طرف دنیا میں دوسری اقوام اور تہذیبوں کے خلاف فتوحات کا سلسلہ جاری تھا اور دوسری طرف بدقسمتی سے خانہ جنگیاں بھی پورے زور و شور سے جاری رہیں۔ کہیں ایک بھائی دوسرے بھائی سے کہیں بیٹا باپ سے اور کہیں کسی صوبے کا حکمران اپنی مرکزی قیادت سے اقتدار چھیننے کی کوشش میں لگا رہا۔ سپین سے جب 800 سالہ مسلم اقتدار کا سورج غروب ہو رہا تھا تو چچا کے خلاف بھتیجے نے عیسائی بادشاہ کو مداخلت کی دعوت دی تھی۔ آپ پاکستان کے مقاصد اہداف اور موجودہ کمزوریوں کا مطالعہ کریں تو افسوسناک حد تک یہی اقتدار کی رسہ کشی یہاں بھی تمام خرابیوں کی جڑ نظر آتی ہے۔ پاکستان دنیا میں اسلامی تعلیمات کی تجربہ گاہ کے طور پر معرض وجود میں لایا گیا تھا۔ اس نے دیگر مسلم ممالک کےلئے رول ماڈل بننا تھا۔ ابتدائی سالوں میں اس کی ترقی کی رفتار فی الواقع تسلی بخش رہی مگر بعد ازاں اس کے سیاسی اور عسکری حکمرانوں نے اس کی فضاﺅں کو علاقائی، لسانی اور طبقاتی فتنوں کی آماجگاہ بنادیا۔ صوبائی عصبیت، مذہبی تفرقہ اور طبقاتی اونچ نیچ کی بیماریاں جتنی ہمارے ہاں مہلک شکل اختیار کرچکی ہیں پوری دنیا میں کہیں نہیں۔ ملک میں موجود سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین کا کوئی نظریہ، اخلاق اور اصول و ضابطہ نہیں۔ سب اقتدار کے حصول کےلئے سربہ کف دوڑ رہے ہیں اور اس دوڑ میں وہ ملی اور قومی تقاضوں سے یکسر غافل ہیں۔ اس وقت بے شمار سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور عسکری مسائل کے علاوہ بالخصوص برمی مسلمانوں کا قتل عام اور شام میں خانہ جنگی روک کر قابل عمل حل تک پہنچنا OICکے تازہ چیلنج ہیں۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے علاوہ افغانستان، عراق اور پاکستان میں غیر ملکی مداخلت کا چیلنج بھی اہم مسائل ہیں جن کا باعزت حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اللہ کرے پاکستان کے سیاسی، مذہبی اور عسکری سربراہان کےساتھ ساتھ دیگر مسلم ممالک کے قائدین کو بھی غیرت اور حمیت کی توفیق عطا ہوجائے تاکہ وہ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کی بجائے، متحدو متفق ہوجائیں اور دنیائے اسلام کو کھویا ہوا مقام دوبارہ مل سکے۔