ہماری سفارت کاری

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ہماری سفارت کاری

سابق وزیر اعظم جناب محمد نواز شریف صاحب کی نااہلیت کا قوم کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ قوم کو ایک وزیر خارجہ مل گیا ہے جس کی سخت ضرورت تھی۔جناب نواز شریف صاحب کے دورِ وزارت میں وہ خارجہ پالیسی خود ہینڈل کرتے رہے۔جہاں کہیں وزیر خارجہ کی ضرورت ہوتی وہ خود تشریف لے جاتے اور یوں انہوں نے بیرونی ممالک کے سو سے زائد دورے کئے ۔باہر جا کر لچھے دار تقریریں بھی کیں لیکن سفارتی محاذ پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکے۔انکے دورِ حکومت میں نہ تو کشمیر کا معاملہ آگے بڑھ سکا اور نہ ہی ملکی مفاد میں کوئی بریک تھرو ہو ئی۔اسکی واحد وجہ یہ تھی کہ ہمارا کوئی فل ٹائم وزیر خارجہ نہ تھا اور وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری وزارت خارجہ کی ٹیم بھی کسی حد تک غیر مو¿ثر اور سست روی کا شکار رہی۔
ایک چینی کہاوت ہے کہ”فوج کو ہمیشہ جرنیل لڑایا کرتے ہیں ۔فوج خود بخود نہیں لڑ سکتی“۔ امور خارجہ میں جب کوئی جرنیل ہی نہ ہو تو فوج کیسے لڑتی۔ہاں البتہ نواز شریف صاحب نے بیرونی قرض حاصل کرنے میں پچھلی تمام حکومتوں سے زیادہ کامیابی حاصل کی اور قوم کو قرضوں میں ڈبو دیا۔ اب قوم کا خون نچوڑ کر یہ قرض واپس کیا جائیگا۔قرض ادا کرنے کے بعد قوم کی کیا حالت ہوگی یہ وقت بتائے گا۔
مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ قرض حاصل کرنے کے شوق میں ہماری حکومت نے سڑکیں ،ائیر پورٹ اور اہم عمارتوں تک کو گروی رکھ دیا ہے۔ بجلی،گیس اور باقی سہولیات کے بلز تین گنا بڑھ چکے ہیں اور یہی حال تمام مہنگائی کاہے لیکن حکومت اپنی شاندار کارکردگی اور پاکستان کی ترقی کی تعریفیں کر کر کے پھولے نہیں سماتی۔ یہ تو سراسر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بھوک سے تنگ کی خود کشیوں کا پڑھ کر واقعی احساس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے وطن عزیز کو ”ایشین ٹائیگر“ بنا دیا ہے۔
محترم سابق وزیر اعظم بیماری کے علاج کےلئے بھی باہر تشریف لے جاتے رہے۔آنے جانے کیلئے بعض اوقات پورا جمبو طیارہ استعمال کرتے لیکن آج وہ عوام کے دکھ میں بہت پریشان ہیں اور بڑے زور شور سے ” عوام کا مقدمہ“ لڑ رہے ہیں۔
معزز قارئین معذرت خواہ ہوں کہ بات بیرونی محاذ سے اندرونی محاذکی طرف چلی گئی ہے۔بیرونی سفارتکاری ایک ”آرٹ “ ہے جو ہر آدمی کے بس کی بات نہیں اور مﺅثر، فعال اور متحرک سفارتکاری کے بغیر کوئی ملک نہ تو دنیا میں اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے اور نہ ترقی کر سکتا ہے۔دنیا سے کٹ کر اپنا مقام بنانا نا ممکن ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ”خارجہ پالیسی زندہ قوموں کی عکاس ہوتی ہے“۔
پچھلے چند سالوں میں غیر مﺅثر خارجہ پالیسی اور غیر فعال سفارتکاری کی وجہ سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔پیپلز پارٹی کے دور میں محترمہ حنا ربانی کھر وزیر خارجہ تھیں۔ وہ بہت ہی متاثر کن شخصیت کی مالک تھیں۔لباس بھی ہمیشہ گریس فل ہوتا۔ وہ جب بھارت تشریف لے گئیں تو بھارتیوں نے ”آرٹ آف سفارتکاری “کے ساتھ ساتھ انکی شخصیت اور لباس کی بھی بہت تعریف کی۔ہندوستانی میڈیا کے مطابق "She was the best face of Pakistan" اس نے اپنے دور میں کم از کم بیرونی محاذ پر پاکستان کی عزت و شہرت کی حفاظت کی۔جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے اسکے متعلق نوائے وقت نے اپنے 7ستمبرکے ادارئیے میں لکھا : ”بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے کشمیر ،دہشتگردی ،انتہا پسندی ،پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی اور امریکہ و بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں سفارتی محاذ پر پاکستان کا اصولی موقف تسلیم کرانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسکے برعکس بھارت نے جو شروع دن سے ہی ہماری سلامتی کے درپے ہے۔اپنا سفارتی محاذ گرم کر کے با لخصوص کشمیر اور دہشتگردی کی جنگ میں ہمارے کردار کیخلاف منفی پروپیگنڈہ کر کے ہمیں اقوام عالم میں دیوار کے ساتھ لگانے کی کوششوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں“۔
میں نوائے وقت کے اس تجزیے کے ساتھ مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں۔ میری نظر میں بھارت نے ہمیں دیوار کے ساتھ لگانے کی صرف کوشش ہی نہیں کی بلکہ لگا دیا ہے۔ آج ہم کسی ملک کی طرف انگلی کر کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہمارا دوست ملک ہے۔آجکل کے دور میں ہم مختلف ممالک سے اپنے تعلقات بگاڑ کر اپنے آپ کو ترقی پسند نہیں کہلا سکتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دوست بلکہ مخلص دوست زیادہ ہوں اور دشمن کم سے کم۔ہم جب اپنے پچھلے چند سالوں میں آگے بڑھنے والے یا خراب ہونیوالے بین الاقوامی تعلقات پر نظر ڈالتے ہیں تو حالات سے مایوسی ہوتی ہے۔ امریکہ کو جو کچھ بھی کہا جائے لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات خوامخواہ خراب کرنا قطعاً ہمارے حق میں ٹھیک نہیں۔
یاد رہے کہ ہماری فوج کا 70فیصد اسلحہ و ہتھیار امریکی یا امریکی ساخت کے ہیں اگر ہم امریکہ سے چھٹکارا چاہتے ہیں جو کہ ایک خوددار اور با عزت قوم کی حیثیت سے وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے تو اس کےلئے ہمیں ہتھیاروں کی پروڈکشن میں خود کفالت حاصل کرنا ہو گی جو کہ فی الحال نا ممکن ہے۔نہ تو ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں اور نہ ہی مطلوبہ ٹیکنالوجی اور کوئی ایسا ملک نہیں جو ہمیں اتنا زیادہ اور اس معیار کے ہتھیار فراہم کرے۔
چین ہمارا دوست ہے۔عسکری ضروریات کیلئے بھی ہماری مدد کرتا ہے لیکن چینی ٹیکنالوجی تا حال امریکی ٹیکنالوجی کے معیار سے بہت پیچھے ہے۔ پھر ہر قدرتی آفت کے وقت بھی امریکہ کسی نہ کسی شکل میں ہماری مدد کرتا ہے ۔مزید یہ کہ اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے قرض کیلئے بھی ہمیں امریکہ کی خوشنودی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا حالات کا تقاضہ ہے کہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیں لیکن افسوس کہ ہم یہ غلطی کر چکے ہیں اور اپنے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔کسی دور میں امریکہ ہمارا دوست تھا اور بھارت روسی کیمپ میں تھا اور اب بھارت امریکی کیمپ میں ہے اور اس نے فی الحال ہمیں نکال باہر کیا ہے بلکہ امریکی صدر سے ہمیں دھمکی بھی دلوا دی ہے۔چین ہمارا دوست ہے جسکی دوستی پر ہم فخر کرتے ہیں اور اعتماد بھی۔چین نے ہر مشکل مرحلہ پر ہماری مدد کی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی امریکہ اور بھارت کی مخالفت کے باوجود ہمیں سپورٹ کیا لیکن افسوس کہ وہاں بھی حالات بدل چکے ہیں۔ہماری سفارتکاری وہاں بھی ناکام ہو گئی ہے ۔
ایک دفعہ پھر نوائے وقت کی نظر میں :”یہ بھی دو طرفہ تماشہ ہے کہ سفارتکاری محاذ پر عدم فعالیت کے نتیجہ میں آج ہم امریکہ بھارت اور برادر قسم خلیجی ممالک کے علاوہ انتہائی قابل بھروسہ اور مخلص پڑوسی دوست چین کا اعتماد بھی کھو رہے ہیں جو اب تک اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کشمیر ایشو اور دہشت گردی کے مقابلہ میں ہماری مﺅثر وکالت کرتا اور ہمارے کندھے سے کندھا ملائے کھڑا رہا ہے لیکن آج ہی چین پانچ ملکی پریس کانفرنس میں جیش محمد ،لشکر طیبہ،حقانی نیٹ ورک ،جماعت الاحرار اور تحریک طالبان کی سر گرمیوں کے حوالے سے دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے کردار پر تحفظات کا اظہار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے“۔
اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ہمارے بین الاقوامی تعلقات کافی خراب ہیں۔ہماری سفارتی پالیسی دن بہ دن ناکام ہو رہی ہے۔حال ہی میں جناب رحمٰن ملک صاحب نے وزیر اعظم صاحب کو خط لکھا ہے : ”خراب خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا رہ گیا ہے“۔ ہمارے نئے وزیر خارجہ جناب خواجہ آصف صاحب نے بھی حالات کا ادراک کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : ”اب نئی خارجہ پالیسی بنانی لازمی ہو گئی ہے“۔قوم کا مورال بلند رکھنے کےلئے مزید فرمایا ہے کہ : ”قوم کو قربانی کا بکرا نہیں بننے دینگے“۔
حالات کی درستگی کی غرض سے چین ،روس،ترکی اور ایران کے دورے پر چل نکلے ہیں جو ایک اچھی اور مناسب کوشش ہے۔ان دوروں کے بعد وہ وزیر اعظم کے ساتھ امریکہ جا کر بھی حالات درست کرنے کی کوشش کرینگے۔یہ تمام باتیں بہت خوش آئند ہیں۔انکی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں لیکن یاد رہے کہ خواجہ صاحب امور خارجہ کے ماہر نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں انکی وزارت محض خانہ پُری ہے۔