مودی ۔ ۔ واپسی کے سفر پر ؟

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
مودی ۔ ۔ واپسی کے سفر پر ؟

بظاہر یوں لگتا ہے کہ مودی کی سیاسی مقبولیت میں بڑی تیزی سے کمی آ رہی ہے جس کی سب سے بڑا مظہر بھارت کے سیاسی افق پر ہونے والی ایک ایسی پیش رفت ہے جس پر غالباً سبھی سنجیدہ حلقوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یاد رہے کہ تین روز قبل دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلباءیونین انتخابات ہوئے ۔ جن کے نتائج کے مطابق JNU میں بائیں بازو کے نظریات کی حامل طلباءیونین نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی ۔ اس کے اگلے ہی روز یعنی 13 ستمبر کو دہلی یونیورسٹی کے طلباءیونین کے انتخابات میں کانگرس کی طلباءتنظیم ”NSUI “ National Students Union of India نے صدارت اور نائب صدارت کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی ۔ البتہ سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کے عہدوں پر BJP کا حامی گروپ منتخب ہوا ۔
یہ ایک الگ موضوع ہے کہ نام نہاد سیکولر ازم کے نام پر کانگرس نے خود ”سافٹ ہندوتوا“ کو دانستہ طور پر ہر ممکن فروغ دیا۔ اور اسی وجہ سے بھارتی اقلیتوں کے خلاف ہر ممکن ظلم ڈھایا ۔ اور یوں RSS کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ۔
دوسری طرف بھارت میں معروف صحافی ”گوری لنکیش“ کے قتل نے جہاں ایک طرف خود بھارت سمیت دنیا بھر کی صحافتی دنیا کو جھنجوڑ دیا وہیں بھارتی دانشور طبقے کو بھی ایک گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ وہی دانشور طبقہ جو کانگرس کی سابقہ حکومت کے دوران کرپشن کے الزامات اور بد عنوانیوں سے بد دل ہو کر کانگرس کا مخالف ہو گیا تھا اور BJP کی چکنی چپڑی باتوں اور وعدوں پر یقین کر کے اسے اقتدار میں لے آیا تھا۔ وہ طبقہ اب تشویش کا شکار ہو گیا ہے کہ کسی طرح بھارت کو مکمل تباہی سے بچائے اور کیا طریقہ کار اپنائے کہ 2019 میں بی جے پی کو بر سرِاقتدار آنے سے روک سکے ۔ اور اگر 2019 میں فاشزم اور انتہا پسندی کی علمبردار RSS اقتدار سے باہر ہو جاتی ہے تو اس میں گوری لنکیش کی ہلاکت کا بھی ایک اہم حصہ ہو گا ۔
BJP کو ہندوستانی عوام اور دانشور حلقوں کی جانب سے انتہا پسند اور فاشسٹ کہا جانا بہت برا لگتا ہے مگر بھارت میں جہاں جہاں BJP کی سرکار ہے ،ان کے اعمال اور ان کے حماقت سے بھرپور ہندوتوا ایجنڈہ نافذ کرنے کی کوششوں سے بھارتی عوام میں یہ یقین پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ BJP بھلے ہی مروجہ طریقہ کار سے اقتدار میں آئی ہو مگر داخلی طور پر اس کی سوچ اور طرزعمل خالص جنونی ہے ۔ جس کی بڑی اور واضح مثال یہ ہے کہ وہ کسی قسم کی مخالفت برداشت نہیں کر سکتی چنانچہ اس کی انتہا پسندی کے خلاف بات کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جاتا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے نریندر دابھولکر نامی دانشور کو قتل کیا جا چکا ہے ۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں گوند پنسارے نامی مشہور مراٹھی صحافی کا بالکل اسی طرح قتل کر دیا گیا تھا ۔ گوند پنسارے کا جرم محض یہ تھا کہ وہ سماجی برائیوں کے خلاف ایک تنظیم چلاتا تھا اور اعلیٰ و ادنیٰ ذاتوں کی تفریق مٹانے کے لئے ان کی آپس میں شادیاں کرانے کی جدو جہد کرتا تھا ۔ ظاہر ہے انتہا پسند RSS کے لئے یہ بات کیسے قابلِ قبول ہو سکتی تھی اس لئے اسے بھی پراسرار طریقے سے قتل کر دیا گیا ۔
اسی طرح کرناٹک کے ضلع دھارواڑ میں ممبئی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ایم ایم کلبرگی کو مار دیا گیا ۔ وہ ایک مشہور مصنف تھے ۔ اس کے علاوہ ”راج دیو رنجن“ ،” ہیمنت یادو“، ”سنجے پاٹھک“، ”سندیپ کوٹھاری“، ”جگندر سنگھ“، ”ایم این شنکر“،” روہت ویملا“ اور” ترون کمار اچاریہ“ سمیت کئی نامور صحافیوں کو گذشتہ تین سالوں میں قتل کیا جا چکا ہے۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب مودی کی قیادت میں جنونی ہندوﺅں نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی کا خوفناک سلسلہ شروع کر رکھا ہے تو دوسری طرف بھارت کے اندر مسلمانوں کا بدترین استحصال جاری ہے جس کے منطقی نتیجے کے طور پر مودی حکومت اپنی مقبولیت تیزی سے کھوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں اس امر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ RSS اور اس کے ہمنوا اپنی ہی بھڑکائی ہوئی اس آگ میں 2019 کے چناﺅ میں قصہ پارینہ بن کر رہ جائیں ۔ کیونکہ ....
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا !